نوید ناظم — مارچ 24، 2017 12:12 شام
آ گیا آپ کے ہاتھوں میں خود
دل کو سینے سے نکالا تو نہیں
آپ کی وجہ سے میں بھی چپ ہوں
بات کو میں نے اچھالا تو نہیں
چھوڑ کر ہی نہ کبھی جائے غم
اس قدر شوق سے پالا تو نہیں
بے وفائی پہ یونہی بات کی ہے
آپ کا اس میں حوالہ تو نہیں
جب اندھیرے میں مجھے ڈال دیا
پھر تسلی کی، اجالا تو نہیں
رند دعوے تو بڑے کرتا تھا
اس کو ساقی نے سنبھالا تو نہیں
جا رہا ہوں بس ابھی محفل سے
آپ کی بات کو ٹالا تو نہیں
نوید ناظم — مارچ 24، 2017 12:14 شام
محترم سر
الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
محمد عظیم الدین — مارچ 24، 2017 12:21 شام
آپ کی وجہ سے میں بھی چپ ہوں
بات کو میں نے اچھالا تو نہیں
بے وفائی پہ یونہی بات کی ہے
آپ کا اس میں حوالہ تو نہیں
بہت خوب، جناب اصلاح ہوتی رہتے گی داد قبول کیجیے۔

محمد ریحان قریشی — مارچ 24، 2017 12:41 شام
زبردست جناب۔
بے وفائی پہ یونہی بات کی ہے
پھر تسلی کی، اجالا تو نہیں
بس ان مصرعوں میں کی کا یک حرفی باندھا جانا روانی کو متاثر کر رہا ہے۔
الف عین — مارچ 24، 2017 4:18 شام
تسلی کی ‘ تو چل سکتا ہے۔÷ لیکن ’بات کی ہے‘ نہیں۔
بے وفائی کا یوں ہی ذکر کیا
کر سکتے ہو
نوید ناظم — مارچ 25، 2017 9:44 صبح
بہت خوب، جناب اصلاح ہوتی رہتے گی داد قبول کیجیے۔
بڑی نوازش!
نوید ناظم — مارچ 25، 2017 9:47 صبح
زبردست جناب۔
بے وفائی پہ یونہی بات کی ہے
پھر تسلی کی، اجالا تو نہیں
بس ان مصرعوں میں کی کا یک حرفی باندھا جانا روانی کو متاثر کر رہا ہے۔
ممنوں ہوں ریحان بھائی۔۔۔ چارہ سازی فرمائی آپ نے!
نوید ناظم — مارچ 25، 2017 9:51 صبح
تسلی کی ‘ تو چل سکتا ہے۔÷ لیکن ’بات کی ہے‘ نہیں۔
بے وفائی کا یوں ہی ذکر کیا
کر سکتے ہو
بہت شکریہ سر، مجھے متبادل سوجھ نہیں رہا تھا۔ خوبصورت مصرعہ عطا کیا آپ نے کہ مفہوم پر بھی فرق نہیں پڑا۔
عاطف ملک — مارچ 26، 2017 2:40 شام
چھوڑ کر ہی نہ کبھی جائے غم
اس قدر شوق سے پالا تو نہیں
بے وفائی کا یوں ہی ذکر کیا
آپ کا اس میں حوالہ تو نہیں
بہت خوبصورت اشعار ہیں ماشا اللہ۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح ایک عمدہ غزل۔۔۔۔۔۔داد قبول فرمائیے

نوید ناظم — مارچ 26، 2017 6:26 شام
بہت خوبصورت اشعار ہیں ماشا اللہ۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح ایک عمدہ غزل۔۔۔۔۔۔داد قبول فرمائیے

[/QUOTE
یہ آپ کی محبت !