برائے اصلاح-غزل-ہوئی نہ سیرِ گلستاں سے دردِ دل کی دوا

منذر رضا — اگست 23، 2019 10:06 صبح
السلام علیکم! اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔
الف عین
یاسر شاہ
سید تابش صدیقی
بہار میں شجرِ بے ثمر کی یاد آئی
ترے حضور دعا کے اثر کی یاد آئی
ہوئی نہ سیرِ گلستاں سے دردِ دل کی دوا
سنا جو نالہِ بلبل، جگر کی یاد آئی
تمام عمر بھٹکتے ہوئے گزار تو دی
قدم قدم پہ مگر اپنے گھر کی یاد آئی
طریقِ کوئے ملامت کسی نے جب پوچھا
میں چپ رہا، مگر اس رہ گزر کی یاد آئی
ہوا جو سنگِ درِ یار کا بیاں، تو مجھے
کبھی جبیں، تو کبھی اپنے سر کی یاد آئی
نظر پڑی جو کبھی آبلوں پہ پاؤں کے
تو ایک لحظے کو شوقِ سفر کی یاد آئی
سحاب ٹوٹ کے برسا اگر کبھی منذر
نہ جانے کیوں، مجھے بھی چشمِ تر کی یاد آئی
شکریہ!
احمد محمد — اگست 23، 2019 1:33 شام
واہ۔۔۔
یہ دو اشعار بہت خوب ہیں:-
ہوئی نہ سیرِ گلستاں سے دردِ دل کی دوا
سنا جو نالہِ بلبل، جگر کی یاد آئی

ہوا جو سنگِ درِ یار کا بیاں، تو مجھے
کبھی جبیں، تو کبھی اپنے سر کی یاد آئی
الف عین — اگست 23، 2019 3:59 شام
طریق عربی میں راستے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اردو میں نہیں، اردو میں طریقے کو ہی طریق لکھا جاتا ہے،
کسی نے کوئے ملامت کی راہ جب پوچھی
کیا جا سکتا ہے
نہ جانے کیوں، مجھے بھی چشمِ تر کی یاد آئی
'مج بی' تقطیع رواں نہیں لگتی۔ 'مجھے اک' بہتر ہو گا، اگر اپنی چشم تر کی بات ہی کرنا ہے تو واضح کر دو تو بہتر ہے
باقی درست لگ رہی ہے
یاسر شاہ — اگست 25، 2019 11:21 صبح
خوب غزل ہے -مجھے تو کوئی غلطی نظر نہیں آئی -
یہ شعر خاص طور پر پسند آیا :
تمام عمر بھٹکتے ہوئے گزار تو دی
قدم قدم پہ مگر اپنے گھر کی یاد آئی
بہت داد -
منذر رضا — اگست 25، 2019 3:03 شام
بہت شکریہ یاسر شاہ صاحب محترم!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D9%90-%DA%AF%D9%84%D8%B3%D8%AA%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D8%AF%D9%90-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%88%D8%A7.108160/