ہم تبسم آنکھ میں بھر کر جُدا ہو جائیں گے،بے رخی کی آگ میں جل کر فنا ہو جائیں گے
ہر گھٹری کی لغزیشوں سے لاکھ بہتر ہے خیال،اپنے سرالزام لینگے بے وفا ہو جائیں گے
محمد اظہر نذیر — ستمبر 13، 2012 6:40 صبح
ہم تبسُم آنکھ میں بھر کر جُدا ہو جائیں گے
واہ واہ واہ کیا خوبصورت خیال ہے
واہ بہت خوب جی
داد حاضر ہے محترمہ
احمد بلال — ستمبر 13، 2012 7:02 صبح
اگر اس کو قطعہ بنا دیں تو مناسب نہ ہو گا؟ اتنی لمبی بحر میں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔
ہم تبسم آنکھ میں بھر کر جُدا ہو جائیں گے،بے رخی کی آگ میں جل کر فنا ہو جائیں گے
ہر گھٹری کی لغزیشوں سے لاکھ بہتر ہے خیال،اپنے سرالزام لینگے بے وفا ہو جائیں گے
یہ قطعہ ہی ہے بلال سے متفق.
دوسرے شعر کا دوسرا مصرعہ یوں کہیں:
اپنے سر الزام لیکر بے وفا ہوجائیں گے. مصرعے سے مجھے حسرت کا شعر یاد آگیا:
جی میں آتا ہے کہ اس شوخِ تغافل کیش سے
اب نہ ملئے پھر کبھی اور بے وفا ہو جائے