عینی خیال — ستمبر 25، 2012 11:04 صبح
ہر طرف پھیلا ہوا ہے یاد کا گہرا سکوت
ہر طرف بکھیری ہوئیں ہیں سر پھیری تنہائیاں
میرے اندر بھی کوئی جیسے ہے آہیں بھر رہا
میرے باہر بھی کسی نے تان دی تنہائیاں
وہ حوالے کر گیا اپنی سبھی چوٹیں مجھے
اورمرے ہاتھوں پہ آکر رکھ گیا تنہائیاں
محمد بلال اعظم — ستمبر 25، 2012 12:29 شام
ان میں قافیہ کونسا ہے۔
پہلے شعر میں "پھیری"، دوسرے میں "دی"، تیسرے میں "گیا"۔
محمد بلال اعظم — ستمبر 25، 2012 12:31 شام
ہر طرف پھیلا ہوا ہے یاد کا گہرا سکوت
ہر طرف بکھری ہوئیں ہیں سر پھری تنہائیاں
میرے اندر بھی کوئی جیسے ہے آہیں بھر رہا
میرے باہر بھی کسی نے تان دی تنہائیاں
وہ حوالے کر گیا اپنی سبھی چوٹیں مجھے
اورمرے ہاتھوں پہ آکر رکھ گیا تنہائیاں
تلفظ کی غلطیاں ہی میں تو نکال سکتا ہوں۔
احمد بلال — ستمبر 25، 2012 2:31 شام
آخری شعر قابلِ توجہ ہے۔ اسے بہتر کیا جا سکتا ہے
الف عین — ستمبر 26، 2012 3:32 صبح
آخری شعر کا قافیہ ہی غلط ہے۔
لیکن دوسرے شعر کا بھی اس لحاظ سے غلط ہے کہ درست لفظ ’دیں‘ ہونا چاہئے۔ تنہائیاں جمع ہے۔
اس میں
میرے اندر بھی کوئی جیسے ہے آہیں بھر رہا
روانی کی کمی ہے، ’ہے رہا‘ کی وجہ سے۔ جیسے
میرے اندر بھی کوئی آو ہ بکا کرنے لگا
یا
میرے اندر بھی صدائیں آ رہی ہیں آہ کی
یا اسی قسم کا کوئی مصرع۔ لین پہلے قوافی طے کر لئے جائیں۔ جس کی بنا پر تینوں اشعار کی تبدیلی کے امکانات ہیں