عینی خیال — ستمبر 11، 2012 11:32 صبح
تیری چاہت سے ہیں روشن نگاہیں، اور چہرہ پیار سے نکھرا ہوا ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے تجھ کو ، اور اندر توُ ہی توُ بکھرا ہوا ہے
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 11، 2012 3:15 شام
۔
تیری چاہت سے ہیں روشن نگاہیں، اور چہرہ پیار سے نکھرا ہوا ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے تجھ کو ، اور اندر توُ ہی توُ بکھرا ہوا ہے
تیری نہیں ’’تری‘‘ ہوگا یہاں
لفظ ’’
اور‘‘ کام بگاڑ رہا ہے۔
ویسے پڑھ کر ایسا لگا جیسے
سارہ بشارت گیلانی صاحبہ کا شعر ہو

ناعمہ عزیز — ستمبر 11، 2012 4:14 شام
"اور "واقع گڑبر کر رہا ہے ۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 11، 2012 4:18 شام
"اور "واقع گڑبر کر رہا ہے ۔
جی ہاں۔ گڑبڑ تو ہے۔

ناعمہ عزیز — ستمبر 11، 2012 4:21 شام
کاپی مت کرو۔ اپنی بات لاؤ
ارے واہ کاپی کرتی تو سارا کرتی نا بھیا ، اپنی بات ہی تو کی تھی ۔ اب آپ جلیں تو نا میرے سے

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 11، 2012 4:24 شام
ارے واہ کاپی کرتی تو سارا کرتی نا بھیا ، اپنی بات ہی تو کی تھی ۔ اب آپ جلیں تو نا میرے سے
کیا بڑ بڑا رہی ہو بہنا۔ طبیعت ٹھیک ہے؟؟

ناعمہ عزیز — ستمبر 11، 2012 4:26 شام
کیا بڑ بڑا رہی ہو بہنا۔ طبیعت ٹھیک ہے؟؟
ایک دم ٹھیک ہے

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 11، 2012 4:29 شام
ایک دم ٹھیک ہے
تو یہ کاپی والا کونسا تبصرہ میری طرف سے ٹائپ کردیا ہے ؟

ناعمہ عزیز — ستمبر 11، 2012 4:49 شام
تو یہ کاپی والا کونسا تبصرہ میری طرف سے ٹائپ کردیا ہے ؟

سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 12، 2012 6:05 صبح
تیری نہیں ’’تری‘‘ ہوگا یہاں
لفظ ’’
اور‘‘ کام بگاڑ رہا ہے۔
ویسے پڑھ کر ایسا لگا جیسے
سارہ بشارت گیلانی صاحبہ کا شعر ہو
آپ کی ذہانت کی داد دینی پڑے گی

عینی میری بہت قریبی دوست میری " آفس میٹ" اور میری منہ بولی بیٹی بهی ہیں

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 12، 2012 8:22 صبح
مقدس — ستمبر 12، 2012 8:40 صبح
ہمیں یقین ہے بھیا
آپ اِتنے کیا اُتنے بھی ذہن نہیں ہیں

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 12، 2012 8:53 صبح
ہمیں یقین ہے بھیا
آپ اِتنے کیا اُتنے بھی ذہن نہیں ہیں
بدتمیزی مت کرو مقدس ایک
عقل داڑھ کیا آگئی کالے آدمی سے تو بات ہی نہیں کرتی آپ۔

ویسے اُتنا ذہین تو میں خوابوں میں بھی ہونے کا نہیں سوچ سکتا جتنا آپ کہہ رہی ہو،

مقدس — ستمبر 12، 2012 8:57 صبح
بدتمیزی مت کرو مقدس ایک
عقل داڑھ کیا آگئی کالے آدمی سے تو بات ہی نہیں کرتی آپ۔

ویسے اُتنا ذہین تو میں خوابوں میں بھی ہونے کا نہیں سوچ سکتا جتنا آپ کہہ رہی ہو،
ہائے اللہ میں یہاں زور سے ہنس بھی نہیں سکتی
ہی ہی ہی ہی ہی

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 12، 2012 9:03 صبح
ہائے اللہ میں یہاں زور سے ہنس بھی نہیں سکتی
ہی ہی ہی ہی ہی
زور سے مت ہنسیں۔ ورنہ لوگ آپکی اکلوتی آرٹیفیشل عقل داڑھ دیکھ لینگے۔

اور کوئی ڈینٹسٹ ہوا تو پہچان ہی نہ لے کہ نقلی دانت لگا کر بے وقوف بناتی ہو لوگوں کو۔ تاکے ’’بٹیا‘‘ نہ کہیں۔

مقدس — ستمبر 12، 2012 9:12 صبح
زور سے مت ہنسیں۔ ورنہ لوگ آپکی اکلوتی آرٹیفیشل عقل داڑھ دیکھ لینگے۔

اور کوئی ڈینٹسٹ ہوا تو پہچان ہی نہ لے کہ نقلی دانت لگا کر بے وقوف بناتی ہو لوگوں کو۔ تاکے ’’بٹیا‘‘ نہ کہیں۔
ارے بھیا کے بچے
میری اکلوتی عقل داڑھ کے دشمن
ابھی تو ساری نکلی ہی نہیں، آدھی نکل کے رک گئی ہے
ہی ہی ہی ہی ہی ہی

سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 12، 2012 10:42 صبح
Humility is a virtue Janaab

آپ بہت ترقی کریں گے۔

شاہد شاہنواز — اکتوبر 16، 2012 11:40 شام
تیری چاہت سے ہیں روشن نگاہیں، اور چہرہ پیار سے نکھرا ہوا ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے تجھ کو ، اور اندر توُ ہی توُ بکھرا ہوا ہے
تری چاہت سے ہیں روشن نگاہیں۔۔۔ تو چہرہ پیار سے نکھرا ہوا ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے تجھ کو۔۔۔ کہ اندر تو ہی تو بکھرا ہوا ہے
کیا یہ صورت بہتر ہے؟؟
الف عین — اکتوبر 18، 2012 2:19 صبح
اس کی اصلاح تو رہ ہی گئی۔ اب شاہد نے کر دی ہے۔ پہلے مرع میں ’تو‘ کی جگہ ’یہ‘ بھی لایا جا سکتا ہے۔
شاہد شاہنواز — اکتوبر 18، 2012 4:48 صبح
تری چاہت سے ہیں روشن نگاہیں۔۔۔ یہ چہرہ پیار سے نکھرا ہوا ہے
زمانے سے چھپا رکھا ہے تجھ کو۔۔۔ کہ اندر تو ہی تو بکھرا ہوا ہے
میرے خیال میں یہ کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔