برائے اصلاح...ایک شعر

عینی خیال — ستمبر 28، 2012 9:11 صبح
وہ تھا دن رات میرا ساتھ نبھانے والا
جس کے بن اب مری صبحیں،مری شامیں گزریئں
(املا بھی درست کر دیں پلیز)
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 10:32 صبح
وہ تھا دن رات میرا ساتھ نبھانے والا
جس کے بن اب مری صبحیں،مری شامیں گزریئں
(املا بھی درست کر دیں پلیز)

صیغے کا مسئلہ ہے دوسرے مصرعے میں." گزریں" کی جگہ "گزرتی ہیں" ہوتا.
دن رات کی جگہ ہر لمحے کر دیں
وہ تھا ہر لمحہ مرا ساتھ نبھانے والا.
جسکے بن اب مری ہر شام گزر جاتی ہے
عینی خیال — ستمبر 28، 2012 11:29 صبح
نہیں مزمل یہ شعر لکھتے ہوئے مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں لکھ کچھ اور ریہ تھی اور لکھ کچھ اور دیا آج کل بس ایسا ہی چل رہا ہے،حضوری کہی اور حاضری کہی پر ہے ہماری، معاف کیجیے گا۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 11:42 صبح
نہیں مزمل یہ شعر لکھتے ہوئے مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں لکھ کچھ اور ریہ تھی اور لکھ کچھ اور دیا آج کل بس ایسا ہی چل رہا ہے،حضوری کہی اور حاضری کہی پر ہے ہماری، معاف کیجیے گا۔

کوئی بات نہیں جی :)
عینی خیال — ستمبر 28، 2012 11:43 صبح
شکریہ
ایم اے راجا — ستمبر 28، 2012 8:32 شام
آپ جو لکھنا چاہتی تھیں ہ بھی لکھ دیتیں نہ
الف عین — ستمبر 29، 2012 6:36 صبح
اگر ’گزریں‘ ہی رکھنا چاہو تو یوں کہہ سکتی ہو، محض اب کی جگہ سب
جس کے بن سب مری صبحیں،مری شامیں گزریں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.54861/