برائے اصلاح...لمحے

عینی خیال — ستمبر 24، 2012 8:50 صبح
ہم نے کچھ درد کے دھاگوں میں پروے لمحے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں اُگائے لمحے
اک طرف آپ کی دوری نے کر دیا پاگل
اک طرف آپ کی یادوں نے سجائے لمحے
ہم کہاں ہجرکے لمحوں میں ہیں تنہا جاناں
ہم نے تو ہجر میں سینے سے لگائے لمحے
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 24، 2012 8:54 صبح
ہم نے کچھ درد کے دھاگوں میں پروے لمحے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں اُگائے لمحے
اک طرف آپ کی دوری نے کر دیا پاگل
اک طرف آپ کی یادوں نے سجائے لمحے
ہم کہاں ہجرکے لمحوں میں ہیں تنہا جاناں
ہم نے تو ہجر میں سینے سے لگائے لمحے

اچھا لکھا ہے۔
احمد بلال — ستمبر 24، 2012 3:23 شام
اس کے قافیے میں روی کیا ہے؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 24، 2012 3:38 شام
اس کے قافیے میں روی کیا ہے؟

الف روی ہے۔ لیکن مطلعے میں ایطا ہے۔
احمد بلال — ستمبر 24، 2012 3:39 شام
الف روی ہے۔ لیکن مطلعے میں ایطا ہے۔
جی۔ لیکن خیر
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 24، 2012 3:43 شام

ہاں بھئی۔ سبھی خیر ہے۔ :)
الف عین — ستمبر 25، 2012 3:01 صبح
مطلع بدل دیں تو درست ہو جائے گا۔
ویسے پروئے کا ایک تلفظ ’پُرائے‘ بھی ہے۔ کجو درست ہو جاتا ہے
محمد بلال اعظم — ستمبر 25، 2012 4:27 صبح
ہم کہاں ہجرکے لمحوں میں ہیں تنہا جاناں
ہم نے تو ہجر میں سینے سے لگائے لمحے
واہ کیا شعر ہے۔
الف عین — ستمبر 25، 2012 5:01 صبح
ہم کہاں ہجرکے لمحوں میں ہیں تنہا جاناں
ہم نے تو ہجر میں سینے سے لگائے لمحے​

واہ کیا شعر ہے۔
دیکھو، یہاں میں نے جاناں پر اعتراض نہیں کیا۔ یہاں تخاطب ہی محبوب سے ہے۔
محمد بلال اعظم — ستمبر 25، 2012 5:04 صبح
دیکھو، یہاں میں نے جاناں پر اعتراض نہیں کیا۔ یہاں تخاطب ہی محبوب سے ہے۔

آپ نے درست فرمایا استادِ محترم
میں واقعی ان اشعار کو سمجھنے میں غلطی ہی تھا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%84%D9%85%D8%AD%DB%92.54691/