Khan arifa noor — فروری 18، 2018 5:00 شام
کھڑی کنارے سسک رہی ہے
ہم سب سے یہ پوچھ رہی ہے
کیا تم مجھ کو ڈھونڈ رہے ہو
نفرت کے ایوانوں میں
خاروں میں اور جنگل میں
تپتے ہوے صحراؤں میں
ریتیلے میدانوں میں
تم تو رستہ بھول گئے ہو
سمت مخالف چلے گئے ہو
آؤ میں تم کو بتلاؤں
کہاں ملوں گی یہ سمجھاؤں
پیار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
پھولوں کے باغیچوں میں
بھینی بھینی باد سحر میں
موتی جیسی شبنم میں
پتہ مرا تم جان گئے ہو
رستوں کو پہچان گئے ہو
اب کچھ اپنا حال بتاؤں
درد دل میں تمہیں سنا
ؤں
ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی ہوں
رو رو کر بے حال ہوئی ہوں
زخم بھی مجھ کو تم نے دئیے ہیں
دل پہ مرے سو وار کئے ہیں
اتنی سی گذارش ہے تم سے
مٹنے مت دو اس دنیا سے
میں جو مٹی، اس دنیا میں خون خرابہ ہی ہو گا
بھائی بھائی کو مارے گا دشمن اپنا ہی ہو گا
امید سے تم کو دیکھ رہی ہے
''انسانیت'' دم توڑ رہی ہے
Khan arifa noor — فروری 19، 2018 5:18 شام
کھڑی کنارے سسک رہی ہے
ہم سب سے یہ پوچھ رہی ہے
کیا تم مجھ کو ڈھونڈ رہے ہو
نفرت کے ایوانوں میں
خاروں میں اور جنگل میں
تپتے ہوےء صحراؤں میں
ریتیلے میدانوں میں
تم تو رستہ بھول گئے ہو
سمت مخالف چلے گئے ہو
آؤ میں تم کو بتلاؤں
کہاں ملوں گی یہ سمجھاؤں
پیار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
پھولوں کے باغیچوں میں
بھینی بھینی باد سحر میں
موتی جیسی شبنم میں
پتہ مرا تم جان گئے ہو
رستوں کو پہچان گئے ہو
اب کچھ اپنا حال بتاؤں
درد دل میں تمہیں سنا
ؤں
ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی ہوں
رو رو کر بے حال ہوئی ہوں
زخم بھی مجھ کو تم نے دئیے ہیں
دل پہ مرے سو وار کئے ہیں
اتنی سی گذارش ہے تم سے
مٹنے مت دو اس دنیا سے
میں جو مٹی، اس دنیا میں خون خرابہ ہی ہو گا
بھائی بھائی کو مارے گا دشمن اپنا ہی ہو گا
امید سے تم کو دیکھ رہی ہے
''انسانیت'' دم توڑ رہی ہے
Khan arifa noor — فروری 19، 2018 5:32 شام
السلام علیکم
آپ کی محفل کی نئی ممبر ہوں
ایک نظم برائے اصلاح پیش کی ہے
اساتذہء کرام سے گذارش ہے نظم کی اصلاح کر کے اس خاک سار کی حوصلہ افزائی فرمائیں
فرحان محمد خان — فروری 19، 2018 5:59 شام
فرحان محمد خان — فروری 19، 2018 6:02 شام
محفل میں خوش آمدید
باقی اصلاح کے کام کے لیے استاد موجود ہیں
سر
محمد ریحان قریشی
Khan arifa noor — فروری 20، 2018 6:29 شام
اساتذہء کرام کی نظر کرم کی متمنی
الف عین — فروری 21، 2018 3:54 شام
اچھی نظم ہے، آزاد نظم کے قوانین کی اقتدا کی گئی ہے سوائے آخر کے دو مصرعوں کے۔
امید سے تم کو دیکھ رہی ہے
یہ مصرع مفعول مفاعیلن فعلن ہو گیا ہے، باقی فعلن فعلن ہیں شاید۔ ’آشا سے یہ تم کو دیکھ رہی ہے‘ کیا جا سکتا ہے
''انسانیت'' دم توڑ رہی ہے
’انسانی ات‘ تقطیع میں آتا ہے۔ یا شاید تشدید کی صورت میں قابل قبول ہو جائے۔
Khan arifa noor — فروری 21، 2018 4:31 شام
شکریہ سر اپنا قیمتی وقت دینے کےلئے
ہماری چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو آپ کے قیمتی آراء کی ضرورت ہمیشہ رہے گی
Khan arifa noor — فروری 21، 2018 5:30 شام
سر
کیا لفظ 'آشا' کی جگہ 'حسرت' استعمال ہو سکتا ہے؟
حسرت سے یہ تم کو دیکھ رہی ہے
الف عین — فروری 22، 2018 7:13 صبح
سر
کیا لفظ 'آشا' کی جگہ 'حسرت' استعمال ہو سکتا ہے؟
حسرت سے یہ تم کو دیکھ رہی ہے
یقیناً ۔ ۔لیکن آشا کا خیال اس لئے آیا تھا کہ امید کا ہم معنی ہے۔
Khan arifa noor — فروری 22، 2018 10:38 صبح
یقیناً ۔ ۔لیکن آشا کا خیال اس لئے آیا تھا کہ امید کا ہم معنی ہے۔
جزاك الله