برائے اصلاح

ارشد چوہدری — مارچ 12، 2018 2:14 صبح
الف عین اور دیگر اساتذہ سے اصلاح کے لئے
----------------------------------
دل والوں کے دنیا میں افسانے ہزاروں ہیں
اس دنیا میں الفت کے پیمانے ہزاروں ہیں
اس راہِ محبّت میں ہم جان سے جاتے ہیں
اس دنیا میں جینے کے تو بہانے ہزاروں ہیں
یہ رسمِ محبّت بس ہم سے ہی تو زندہ ہے
کہنے کو تو دنیا میں پروانے ہزاروں ہیں
ہم ہی تو دوا دیتے ہیں دردِ محبّت کی
کہنے کو تو دنیا میں شفا خانے ہزاروں ہیں
اک تم ہی نہیں ارشد اُن کی گلی میں رسوا
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
الف عین — مارچ 12، 2018 5:15 شام
یہ غزل کافی درست ہے عروض کے لحاظ سے۔ بس یہ مصرعے وزن میں نہیں آتا
اس دنیا میں جینے کے تو بہانے ہزاروں ہیں
کہنے کو تو دنیا میں شفا خانے ہزاروں ہیں
ارشد چوہدری — مارچ 14، 2018 1:22 صبح
اس راہِ محبّت میں ہم جان سے جاتے ہیں
کہنے کو تو دنیا میں پروانے ہزاروں ہیں
ہم ہی تو دوا دیتے ہیں درد، محبّت کی
کہنے کو تو دنیا میں دواخانے ہزاروں ہیں
الف عین — مارچ 15، 2018 5:11 شام
پروانے قافئے کے ساتھ درست۔ دوا خانے البتہ بحر سے خارج ہو جاتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.100469/