برائے اصلاح
بھاتی نہیں کسی کی صحبت ترے بغیر
دل کو نہیں ہے کوئی چاہت ترے بغیر
چاہے جہاں رہوں، میں کسی حال میں رہوں
ملتی نہیں ہے دل کو راحت ترے بغیر
مل جائے ساری دولت اور عیش بھی تمام
کیا کرنی ایسی جاناں قسمت ترے بغیر
آ دیکھ لے تو آکر اک بار اے صنم
کیا ہو گئی ہے مری حالت ترے بغیر
جب ساتھ تھے مرے بڑا نام تھا مرا
پھیکی پڑی ہے میری شہرت ترے بغیر
تنظیم اختر
بھاتی نہیں کسی کی صحبت ترے بغیر
دل کو نہیں ہے کوئی چاہت ترے بغیر
چاہے جہاں رہوں، میں کسی حال میں رہوں
ملتی نہیں ہے دل کو راحت ترے بغیر
مل جائے ساری دولت اور عیش بھی تمام
کیا کرنی ایسی جاناں قسمت ترے بغیر
آ دیکھ لے تو آکر اک بار اے صنم
کیا ہو گئی ہے مری حالت ترے بغیر
جب ساتھ تھے مرے بڑا نام تھا مرا
پھیکی پڑی ہے میری شہرت ترے بغیر
تنظیم اختر