برائے اصلاح

ارشد چوہدری — مارچ 25، 2018 2:28 صبح
فکر و نظر میں تُو تو سلف کا امیں نہیں ہے
دستِ نگر ہے تُو تو خود پہ یقیں نہیں ہے
رُسوائی ہے یہ تیرا مقدّر تو اس لئے ہی
آباء جیسا دل میں نورِ مبیں نہیں ہے
سردار تھے وہ سارے میدانوں اور جہاں میں
تیرے لئے وہ ہی آسماں اور زمیں نہیں ہے
مغرب بنا ہے اب تیرا تو سبھی جہاں بس
رب کے حضورجھکنے والی جبیں نہیں ہے
سونے کا رسیا ہے نوائے سحر سے محروم
بندہہوس ہے تُو تجھ میں حُبِّ دیں نہیں ہے
قدرت تو جلوہ گر ہے اس سارے ہی جہاں میں
بے دینوں کے لئے وہ تو بس کہیں نہیں ہے
کِس بات پہ تُو نازاں ہے پاس کیا ہے تیرے
اِس بات پہ ارشد تُو غمگیں کیوں نہیں ہے
حسان خان — مارچ 25، 2018 9:14 صبح
دستِ نگر ہے تُو تو خود پہ یقیں نہیں ہے
درست ترکیب 'دستِ نگر' نہیں ہے، بلکہ زیرِ اضافت کے بغیر 'دست نِگَر' ہے۔ 'نِگَر' یعنی نگاہ کرنے والا، اور 'دست‌نِگَر' یعنی کسی کے دست کی جانب نگاہ کرنے والا مُحتاج و نیازمند۔
ارشد چوہدری — مارچ 25، 2018 3:59 شام
تصحیح کا شکریہ
الف عین — مارچ 25، 2018 5:51 شام
کئی مصرع بحر سے خارج ہیں ۔
کیوں ' میں اور دیں کا قافلہ کسی طرح ہو سکتا ہے
جہاں مکمل 'پر ' آ سکے وہاں پہ استعمال کرنا غلط ہے۔ یوں بھی 'پہ ' کا درست مطلب 'مگر ہوتا ہے فصیح اردو میں۔
دست نگر پر بات ہو چکی۔
اسے پھر سے روائز کریں
ارشد چوہدری — مارچ 25، 2018 9:33 شام
دراصل میں نے کیوں پہلے لکنا تھا غلطی بعد میں لکھ دیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.100643/