سعید احمد — مارچ 29، 2018 10:14 شام
اُن کے چہرے پہ رنگ ہزار سےہیں
کچھ رنگ دھنک کے کچھ بہار سے ہیں
اُن کے ہر انگ میں رنگ پیار کا ہے
جسے مصور نے ڈالے بڑے پیار سے ہیں
اُن کی آنکھوں کی چمک کے اب کیا کہنے
جن کی آنکھوں سے ستارے بھی شرمسار سے ہیں
وہ جو گزرے تو ہوائیں بھی معطر کر دے
اس کی خوشبو سے سبھی دل بے قرار سے ہیں
جب سے دیکھا ہے بس ایک نظر ان کو سعید
اسی دن سے انھیں کی یاد میں بیدار سے ہیں
سعید احمد — مارچ 30، 2018 8:29 صبح
محترم السلام عليكم
جناب میں نے یہ غزل لکھنے کی بے ڈھنگی سی جسارت کی ہے اب آپ جیسے
اصحابِ علم سے اصلاح کی درخواست یے
شکریہ
راشد ماہیؔ — اپریل 1، 2018 12:26 شام
جناب یہ کس بحر میں ہے؟
سعید احمد — اپریل 1، 2018 2:31 شام
السلام عليكم جناب مجھے بحور کا اتنا علم تو نہیں ہے بس جو من میں آیا لکھ دیتا ہوں
بہرحال uruuz.com سے مجھے پتا چلا کہ مندرجہ ذیل بحر ہے ۔ اب آپ جیسے صاحبِ علم حضرات سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں
ہزج مثمن محذوف
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
راشد ماہیؔ — اپریل 2، 2018 11:43 صبح
جناب آخری مصرع کے علاوہ سب بے وزن ہے
پہلے کچھ عروضی نظام سیکھیے
سعید احمد — اپریل 2، 2018 1:14 شام
جنابِ محترم جواب دینے کا بہت شکریہ
آئندہ اور بہتر لکھنے کی کوشش کروں گا
الف عین — اپریل 2، 2018 3:02 شام
مشتعمل بحثوں کی ایک چسپاں لڑی ہے اسی فورم میں۔ مبتدیوں کو چاہئے کہ انہیں عام بحروں کا استعمال کریں
راشد ماہیؔ — اپریل 3، 2018 7:57 صبح
جنابِ محترم جواب دینے کا بہت شکریہ
آئندہ اور بہتر لکھنے کی کوشش کروں گا
لکھنے سے زیادہ با قائدہ سیکھیے ابھی
استاد اُدَبا کو پڑھیے
سعید احمد — اپریل 3، 2018 10:58 صبح
محترم راشد ماہی صاحب
پہلے میرے پاس کوئی گائیڈ لائن نہیں تھی پر اب امید ہو چلی ہے کہ انشاءللہ آپ حضرات کی صحبت کا کچھ نہ کچھ اثر اس ناچیز پر بھی ہو جائے گا