برائے اصلاح

ارشد چوہدری — اپریل 7، 2018 11:00 شام
ہزج مسدس اخرم اشتر محذوف
مفعولن فاعلن فعولن
-----------------------
ہم جو دل کی زباں سمجھتے
خاموشی کو ہی ہاں سمجھتے
کھو دیتے کیسے اپنی منزل
جو آتے ہوئے نشاں سمجھتے
اتنے غافل کبھی نہیں تھے
جو ہم کو بھی وہاں سمجھتے
یہ اپنی ہی تو سب خطا تھی
دنیا والے کہاں سمجھتے
تنہا ہم تو کبھی نہ ہوتے
اپنا ہی جو جہاں سمجھتے
ارشد یہ لوگ تیرے نہ تھے
تم اُن کی ہی زباں سمجھتے
ارشد چوہدری — اپریل 7، 2018 11:01 شام
@ الف عین محمّد وارث
راشد ماہیؔ — اپریل 8، 2018 9:21 صبح
مطلع کچھ بہتر ہے
باقی اشعار میں ابلاغ کی کمی ہے
مقطع میں نہ غلط باندھا ہے
ارشد چوہدری — اپریل 9، 2018 6:47 شام
@ الف عین
سید عمران — اپریل 9، 2018 6:59 شام
الف عین سر، محمد وارث بھائی!!!
محمد وارث — اپریل 10، 2018 3:55 صبح
@ الف عین محمّد وارث
معذرت خواہ ہوں چوہدری صاحب، میں اپنے آپ کو اس کام کا اہل نہیں سمجھتا!
والسلام
ارشد چوہدری — اپریل 10، 2018 1:20 شام
جناب ایسا نہ کریں میں آپ کے مضامین پڑھ کر ہی تو شاعری سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔واقعی میں مبتدی ہوں صرف بڑھاپے میں وقت گزاری کرتا ہوں،
عبید انصاری — اپریل 10، 2018 2:07 شام
آپ کے مضامین پڑھ کر ہی تو شاعری سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں
محمد وارث
اور لکھو مضمون!! اب بھگتنا تو پڑے گا۔:p:)
الف عین — اپریل 10، 2018 5:07 شام
مطلع میں 'ہی ہاں' سے عیب تنافر پیدا ہو رہا ہے
دوسرے شعر میں ہوئے محض 'ہو' تقطیع ہو رہا ہے۔ شعر واضح بھی نہیں
تیسرے اور پانچویں شعر میں ابلاغ درست نہیں ہو رہا
آخری شعر میں شتر گربہ ہے۔ تیرے کے ساتھ 'تم! واضح یہ شعر بھی نہیں۔ نہ کو 'نا' باندھنا بھی غلط ہے جیسا ماہی نے لکھا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.100819/