برائے اصلاح

محمد فائق — مئی 13، 2018 9:45 صبح
صرف اور صرف اضطراب میں ہے
زندگی مستقل عذاب میں ہے
کیا گلہ اس سے بے وفائی کا
نقص میرے ہی انتخاب میں ہے
بے ہنر ہوں یہی ہنر ہے مرا
کام میرے بھی دستیاب میں ہے
دل! خرابہ ہے تُو، فضول تری
جان اٹکی ہوئی گلاب میں ہے
کیا بھروسہ ترے تبسّم کا ؟
پائیداری بھی کیا حباب میں ہے ؟
شیخ ایمان بچ گیا تیرا
شکر ہے وہ ابھی حجاب میں ہے
دنیا داری عذاب ہے فائق
عافیت اس سے اجتناب میں ہے
محمد فائق — مئی 13، 2018 9:46 صبح
الف عین سر
الف عین — مئی 15، 2018 12:34 شام
تیسرا اور چوتھا شعر درست نہیں ہوا۔ تیسرے کا ابلاغ نہیں ہوتا۔ چوتھے کا انداز بیان درست نہیں لگتا۔ محاورہ جان فضول ہی اٹکی ہوئی' ہوتا ہے۔ جو ایک یہی مصرع میں ہو تو اچھا ہے۔ اور اس کا دل کے خرابے سے تعلق؟
'
محمد فائق — مئی 21، 2018 6:26 شام
تیسرا اور چوتھا شعر درست نہیں ہوا۔ تیسرے کا ابلاغ نہیں ہوتا۔ چوتھے کا انداز بیان درست نہیں لگتا۔ محاورہ جان فضول ہی اٹکی ہوئی' ہوتا ہے۔ جو ایک یہی مصرع میں ہو تو اچھا ہے۔ اور اس کا دل کے خرابے سے تعلق؟
'
شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.101325/