برائے اصلاح

ارشد چوہدری — مئی 15، 2018 2:32 صبح
فعولن فعولن فعولن فعولن
-----------------
یہ دنیا سے کہہ دو ہمیں نہ ستائے
ہے جس کی یہ دنیا اُسی سے نبھائے
جو دنیا کی خاطر ہی جیتے ہیں یارو
کہو اس سے یہ پاس اُن کے ہی جائے
ہماری نہیں یہ نہ ہم ہی ہیں اس کے
ہے جِن سے تو بنتی انہیں سے نبھائے
یہ دنیا ہے ظالم بنے نہ کسی کی
بنے ہے یہ جِس کی اُسی کو رُلائے
نہ ارشد تم ا،س پر بھروسہ ہی کرنا
یہ ہر بات کو بس ہے اُلٹا دکھائے
ارشد چوہدری — مئی 15، 2018 2:33 صبح
الف عین
الف عین — مئی 15، 2018 12:15 شام
یہ تو 'دنیا' پر نظم ہو گئی شاید۔
اسے مسلسل غزل کہہ کر عنوان دیا جا سکتا ہے۔ لیکن نظم کو غزل کی قید سے آزاد رکھنا میں بہتر سمجھتا ہوں، ردیف قافیے کی قید میں خیالات کا عمدہ اظہار نہیں کیا جا سکتا۔
نہ اب بھی بطور 'نا' استعمال کیا گیا ہے
مطلع میں دونوں مصرعوں میں 'دنیا' کی اور دوسرے شعر میں 'ہی' کی تکرار اچھی نہیں۔
ارشد چوہدری — مئی 15، 2018 10:11 شام
شکریہ سر تبدیل کر لوں گا
عمران سرگانی — جون 2، 2018 9:19 شام
فعولن فعولن فعولن فعولن
-----------------
یہ دنیا سے کہہ دو ہمیں نہ ستائے
ہے جس کی یہ دنیا اُسی سے نبھائے
جو دنیا کی خاطر ہی جیتے ہیں یارو
کہو اس سے یہ پاس اُن کے ہی جائے
ہماری نہیں یہ نہ ہم ہی ہیں اس کے
ہے جِن سے تو بنتی انہیں سے نبھائے
یہ دنیا ہے ظالم بنے نہ کسی کی
بنے ہے یہ جِس کی اُسی کو رُلائے
نہ ارشد تم ا،س پر بھروسہ ہی کرنا
یہ ہر بات کو بس ہے اُلٹا دکھائے
عمران سرگانی — جون 2، 2018 9:21 شام
اسے میرا کہہ دو نہ مجھکو ستائے
ہے جس کی یہ دنیا اسی سے نبھائے
میرے خیال میں یہ ٹھیک رہے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.101364/