برائے اصلاح

فلسفی — اگست 30، 2018 12:22 شام
سر الف عین اور دیگر اساتذہ سے اصلاح کا طلبگار ہوں۔ اشعار اور افکار تو شاید وہی عام عشقیہ موضوع پر ہیں، لیکن کسی خاص کے لیے لکھے ہیں۔ زبان، ادب اور قواعد کے لحاظ سے تصحیح ممکن ہے تو مہربانی کیجیے۔
محبت نام ہے جس کا، تمھی ہو
جسے اشعارمیں ڈھالا، تمھی ہو
وفا کا سحر جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
مہک پھولوں میں بن کر گلشنوں کی
فضا کو جس نے مہکایا، تمھی ہو
چمن میں عندلیبوں نے جو نغمہ
خوشی کے ساز پر گایا، تمھی ہو
سبب جس روشنی کے دل ہمارا
اندھیروں سے نکل آیا، تمھی ہو
سحر کو جس سنہری رنگتوں نے
لباسِ خاص پہنایا، تمھی ہو
کمالِ حسن نے جس کے، ہماری
خرد کو عشق سمجھایا، تمھی ہو​
الف عین — اگست 31، 2018 11:32 صبح
اچھی غزل ہے
وفا کا سحر جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
محبوب کو سحر کہنا عجیب ہے، سحر کے علاوہ کچھ اور سوچو
سحر کو جس سنہری رنگتوں نے
لباسِ خاص پہنایا، تمھی ہو
محض جس سے بات مکمل نہیں ہوتی یوں کہو تو ___
سحر جس کو شفق کی رنگتوں نے
باقی درست لگ رہی ہے
فلسفی — اگست 31، 2018 12:02 شام
شکریہ سر
وفا کا سحر جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
محبوب کو سحر کہنا عجیب ہے، سحر کے علاوہ کچھ اور سوچو
سر ان میں سے کوئی مناسب رہے گا؟
حسیں اک خواب جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
یا
کلامِ عشق جو اشعار بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
محض جس سے بات مکمل نہیں ہوتی یوں کہو تو ___
سحر جس کو شفق کی رنگتوں نے
جی سر بالکل ٹھیک ہے۔
الف عین — ستمبر 1، 2018 5:08 صبح
حسیں اک خواب.،،، بہترین ہے
فاخر رضا — ستمبر 1، 2018 6:02 صبح
شکریہ سر
سر ان میں سے کوئی مناسب رہے گا؟
حسیں اک خواب جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
یا
کلامِ عشق جو اشعار بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
جی سر بالکل ٹھیک ہے۔
اچھی غزل ہے
اب اصلاح شدہ دوبارہ یہاں لکھ دیں
فلسفی — ستمبر 1، 2018 9:04 صبح
حسیں اک خواب.،،، بہترین ہے
جی سر شکریہ
اچھی غزل ہے
اب اصلاح شدہ دوبارہ یہاں لکھ دیں
شکریہ سر، یہ لیجیے
محبت نام ہے جس کا، تمھی ہو
جسے اشعارمیں ڈھالا، تمھی ہو
حسیں اک خواب جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
مہک پھولوں میں بن کر گلشنوں کی
فضا کو جس نے مہکایا، تمھی ہو
چمن میں عندلیبوں نے جو نغمہ
خوشی کے ساز پر گایا، تمھی ہو
سبب جس روشنی کے دل ہمارا
اندھیروں سے نکل آیا، تمھی ہو
سحر جس کو شفق کی رنگتوں نے
لباسِ خاص پہنایا، تمھی ہو
کمالِ حسن نے جس کے، ہماری
خرد کو عشق سمجھایا، تمھی ہو​
عرفان سعید — ستمبر 1، 2018 9:36 صبح
جی سر شکریہ
شکریہ سر، یہ لیجیے
محبت نام ہے جس کا، تمھی ہو
جسے اشعارمیں ڈھالا، تمھی ہو
حسیں اک خواب جو الفاظ بن کر
زبانِ حال پر آیا، تمھی ہو
مہک پھولوں میں بن کر گلشنوں کی
فضا کو جس نے مہکایا، تمھی ہو
چمن میں عندلیبوں نے جو نغمہ
خوشی کے ساز پر گایا، تمھی ہو
سبب جس روشنی کے دل ہمارا
اندھیروں سے نکل آیا، تمھی ہو
سحر جس کو شفق کی رنگتوں نے
لباسِ خاص پہنایا، تمھی ہو
کمالِ حسن نے جس کے، ہماری
خرد کو عشق سمجھایا، تمھی ہو​
ماشاءاللہ! بہت اچھی غزل کہی ہے۔
سردار محمد نعیم — ستمبر 1، 2018 10:59 صبح
اچھی غزل ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.103027/