برائے اصلاح

رباب واسطی — ستمبر 24، 2018 6:05 صبح
السلام علیکم
اصلاح کی غرض سے عرض کیا ہے

جہاں جہاں سے بھی گذرے نشان چھوڑ آئے
سچ سمیٹ لیئے اور گمان چھوڑ آئے
درونِ سینہ جو غم رہے برسوں پنہاں
ہم ان کا بٹا کر دھیان چھوڑ آئے
وہ جن سے راز و نیاز ہوتے تھے
وہ ڈال پھولوں کی، وہ گلستان چھوڑ آئے
وہ جن کی آنکھوں میں ہم کھٹکتے تھے
مشکلیں ان کی کرکے آسان چھوڑ آئے
ربابؔ و مطرب، وہ دلنشیں نغمے
حسین شاموں کو بھی حیران چھوڑ آئے​
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 24، 2018 6:53 صبح
ماشاءاللہ بہت اچھی کوشش ہے۔ عمدہ خیالات ہیں۔ بہت اچھے!
یہاں بھی وزن اور بحر کا مسئلہ۔
محمد تابش صدیقی اور محمد خلیل الرحمٰن: ان اساتذہ کرام کی باتیں اس لڑی میں دھیان سے سنیں۔
میرا ذاتی خیال ہے آپ کی کوشش کو الگ لڑی میں پوسٹ ہونا چاہیے۔
محمد تابش صدیقی ؟

السلام علیکم
اصلاح کی غرض سے عرض کیا ہے

جہاں جہاں سے بھی گذرے نشان چھوڑ آئے
سچ سمیٹ لیئے اور گمان چھوڑ آئے
درونِ سینہ جو غم رہے برسوں پنہاں
ہم ان کا بٹا کر دھیان چھوڑ آئے
وہ جن سے راز و نیاز ہوتے تھے
وہ ڈال پھولوں کی، وہ گلستان چھوڑ آئے
وہ جن کی آنکھوں میں ہم کھٹکتے تھے
مشکلیں ان کی کرکے آسان چھوڑ آئے
ربابؔ و مطرب، وہ دلنشیں نغمے
حسین شاموں کو بھی حیران چھوڑ آئے​

خوب صورت کوشش جو تھوڑی بہت محنت سے بحر میں لائی جاسکتی ہے اس لیے اساتذہ کی آمد سے پہلے ہم اپنی صلاح دیئے دیتے ہیں۔
پہلے شعر کا پہلا مصرع بحر میں ہے۔
یوں کیجیے کہ اس غزل کو مہدی حسن کے گانے
"خدا کرے کہ محبت میں وہ مقام آئے​
کی طرز میں گائیے۔
دو ڈھائی شعر ہم کوششیں کرلیتے ہیں
جہاں جہاں سے بھی گزرے نشان چھوڑ آئے
تو سچ سمیٹ لیے اور گمان چھوڑ آئے
درونِ سینہ جو غم تھے، رہے وہیں پنہاں
ہم اُن غموں کا، بٹاکر دھیان چھوڑ آئے
وہ جن سے ہوتے تھے راز و نیاز برسوں تک
یا
وہ جن سے ہوتی تھیں برسوں نیاز کی باتیں
وہ ڈال پھولوں کی، وہ گلستان چھوڑ آئے
وغیرہ وغیرہ۔
رباب واسطی — ستمبر 24، 2018 6:59 صبح
خوب صورت کوشش جو تھوڑی بہت محنت سے بحر میں لائی جاسکتی ہے اس لیے اساتذہ کی آمد سے پہلے ہم اپنی صلاح دیئے دیتے ہیں۔
پہلے شعر کا پہلا مصرع بحر میں ہے۔
یوں کیجیے کہ اس غزل کو مہدی حسن کے گانے
"خدا کرے کہ محبت میں وہ مقام آئے​
کی طرز میں گائیے۔
دو ڈھائی شعر ہم کوششیں کرلیتے ہیں
جہاں جہاں سے بھی گزرے نشان چھوڑ آئے
تو سچ سمیٹ لیے اور گمان چھوڑ آئے
درونِ سینہ جو غم تھے، رہے وہیں پنہاں
ہم اُن غموں کا، بٹاکر دھیان چھوڑ آئے
وہ جن سے ہوتے تھے راز و نیاز برسوں تک
یا
وہ جن سے ہوتی تھیں برسوں نیاز کی باتیں
وہ ڈال پھولوں کی، وہ گلستان چھوڑ آئے
وغیرہ وغیرہ۔
شکریہ، نوازش
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 24، 2018 7:28 صبح
ماشاءاللہ ,
عمدہ بہن , کوشش جاری رکھیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.103346/