قسمت سے تو افکارِ نياگانِ كہن مانگ
اخلاص و عمل ، مہر و محبّت کی لگن مانگ آشوب ہے جو تیرے نہاں خانۂِ دل میں
ہنگامۂِ خفتہ کو جگا ، تابِ سخن مانگ مہتاب سے ، روشن ہے جو سیمائے افق پر
غافل کو جگا دے جو ، کوئی ایسی کرن مانگ آہوئے حرم ! کاخِ فرنگى كو عبث جان
تو خوگرِ صحرا ہے ، وہی دشتِ ختن مانگ آئینِ مسلَّم ہو جہاں عشقِ بلا خيز
اے حسنِ جہاں تاب ! کوئی ایسا وطن مانگ اے کشتۂِ عریانئِ تہذیبِ فرنگی !
جا ! قعرِ مذلت میں اترنے کو کفن مانگ "شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را"
دائمؔ شہِ کونین کے قدموں میں عدن مانگ دائم اعوان
فرقان احمد — اکتوبر 7، 2018 3:21 شام
محترم دائم بھائی! ہم تو خود سیکھنے سکھانے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ آپ کا کلام بہت اعلیٰ معلوم ہوتا ہے۔ ماشاءاللہ! براہ مہربانی نوٹ فرما لیں کہ آپ کو مراسلے کے اندر ہی ٹیگ کرنا ہو گا تاکہ اساتذہ کرام کو اطلاع مل سکے۔ کچھ اس طرح سے۔۔۔! محترم الف عین مزید یہ کہ، اگر آپ اپنا تعارف کرانا چاہیں تو اس ربط پر کلک فرما ئیں ، شکریہ!
دائم — اکتوبر 7، 2018 7:27 شام
محترم المقام جناب فرقان بھائی...
آپ ہی اصلاحی کمنٹ فرما دیں شکریہ
قسمت سے تو افکارِ نياگانِ كہن مانگ
اخلاص و عمل ، مہر و محبّت کی لگن مانگ آشوب ہے جو تیرے نہاں خانۂِ دل میں
ہنگامۂِ خفتہ کو جگا ، تابِ سخن مانگ مہتاب سے ، روشن ہے جو سیمائے افق پر
غافل کو جگا دے جو ، کوئی ایسی کرن مانگ آہوئے حرم ! کاخِ فرنگى كو عبث جان
تو خوگرِ صحرا ہے ، وہی دشتِ ختن مانگ آئینِ مسلَّم ہو جہاں عشقِ بلا خيز
اے حسنِ جہاں تاب ! کوئی ایسا وطن مانگ اے کشتۂِ عریانئِ تہذیبِ فرنگی !
جا ! قعرِ مذلت میں اترنے کو کفن مانگ "شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را"
دائمؔ شہِ کونین کے قدموں میں عدن مانگ دائم اعوان
ماشاءاللہ! ہمیں تو آپ کا کلام بہت پسند آیا۔ محترم ریحان قریشی صاحب نے آپ کے کلام کو پسندیدہ قرار دیا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو اپنا کلام فوری طور پر پابند بحور شاعری کے زمرے میں منتقل کر دینا چاہیے۔ سلامت رہیں!
ماشاءاللہ! ہمیں تو آپ کا کلام بہت پسند آیا۔ محترم ریحان قریشی صاحب نے آپ کے کلام کو پسندیدہ قرار دیا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو اپنا کلام فوری طور پر پابند بحور شاعری کے زمرے میں منتقل کر دینا چاہیے۔ سلامت رہیں!
بہت بہت شکریہ استاد مکرم اگر آپ نے فرما دیا کہ اچھی ہے تو پھر اچھی ہی ہوگی.. بہت بہت نوازش آپ کی استاذ گرامی!
یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2018 5:48 شام
محترم فاخر صاحب خوش آمدید ! آپ کی غزل پہ اصلاح تو آپ کو مل چکی ہے اساتذہ کی طرف سے -اب کچھ اشکالات پیش کرتا ہوں -یوں میرا اور شاید اوروں کا بھی بھلا ہو جائے گا -پھر آپ کی محفل میں اسی بہانے آمد و رفت بھی رہے گی : قسمت سے تو افکارِ نياگانِ كہن مانگ
اخلاص و عمل ، مہر و محبّت کی لگن مانگ یہ نیاگان کیا ہوتا ہے ؟-شعر اس وجہ سے سمجھ بھی نہیں آرہا -پھر قسمت سے مانگنا بجائے خالقِ قسمت سے بھی کھٹکا -نیز مہر 'محبّت اور لگن مترادفات بھی ہیں ایسے ان کو اکٹھا کرنا چہ معنی دارد ؟
یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2018 6:03 شام
مہتاب سے ، روشن ہے جو سیمائے افق پر
غافل کو جگا دے جو ، کوئی ایسی کرن مانگ مہتاب سے کرن تو مانگ لی آپ نے لیکن یہ فرمائیے چاند کی کرن سے کوئی کب جاگتا ہے -سورج کی کرن البتہ جگاتی ہے -مہتاب کو خورشید کرنا کیسا رہے گا ؟
یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2018 6:50 شام
آشوب ہے جو تیرے نہاں خانۂِ دل میں
ہنگامۂِ خفتہ کو جگا ، تابِ سخن مانگ آشوب ہے جو تیرے نہاں خانۂِ دل میں
ہنگامۂِ خفتہ کو جگا ، تابِ سخن مانگ جو بات آپ نے ڈیڑھ مصرع میں کی ہے کیا ایک مصرع میں نہیں ہوسکتی تھی ؟کچھ اس طرح سے : ہنگامۂِ خفتہ کو جو دل میں ہے جگا دے خفتہ کے بھی دونوں مطلب ہیں سویا ہوا بھی اور پوشیدہ بھی اگلے مصرع میں ایسا کچھ بھی کہہ سکتے تھے : اللہ سے تو طرز سخن و تاب سخن مانگ
فارسی میں «نِیا» جدّ کو یعنی پدرِ پدر کو کہتے ہیں، جبکہ «نِیاگان/نِیاکان» کا معنی اجداد ہے۔ علّامہ اقبال کا ایک اردو مصرع ہے:
"اخلاصِ عمل مانگ نیاگانِ کُہن سے"
دائم — اکتوبر 18، 2018 7:37 شام
جی ہاں ،آپ کی بات اور حوالہ دونوں درست ہیں، شاید مجھے اقبال علیہ الرحمہ سے ہی تواردِ محض واقع ہوا ہے
محترم فاخر صاحب خوش آمدید ! آپ کی غزل پہ اصلاح تو آپ کو مل چکی ہے اساتذہ کی طرف سے -اب کچھ اشکالات پیش کرتا ہوں -یوں میرا اور شاید اوروں کا بھی بھلا ہو جائے گا -پھر آپ کی محفل میں اسی بہانے آمد و رفت بھی رہے گی : قسمت سے تو افکارِ نياگانِ كہن مانگ
اخلاص و عمل ، مہر و محبّت کی لگن مانگ یہ نیاگان کیا ہوتا ہے ؟-شعر اس وجہ سے سمجھ بھی نہیں آرہا -پھر قسمت سے مانگنا بجائے خالقِ قسمت سے بھی کھٹکا -نیز مہر 'محبّت اور لگن مترادفات بھی ہیں ایسے ان کو اکٹھا کرنا چہ معنی دارد ؟
فارسی میں «نِیا» جدّ کو یعنی پدرِ پدر کو کہتے ہیں، جبکہ «نِیاگان/نِیاکان» کا معنی اجداد ہے۔ علّامہ اقبال کا ایک اردو مصرع ہے:
"اخلاصِ عمل مانگ نیاگانِ کُہن سے"
شکریہ برادرم حسان !ایک اور اشکال حل کر دیجئے -نیاگان کا مطلب اگر اجداد ہے تو "نیاگانِ کہن" سے مراد لی جائے گی پرانے اجداد -کیا اجداد نئے بھی ہوسکتے ہیں ؟یا کہن محض قافیے کی رعایت سے آیا ہے ؟کیا فارسی میں "نیاگان نو" یا "نیاگان تازہ" بھی مستعمل ہے ؟
شکریہ برادرم حسان !ایک اور اشکال حل کر دیجئے -نیاگان کا مطلب اگر اجداد ہے تو "نیاگانِ کہن" سے مراد لی جائے گی پرانے اجداد -کیا اجداد نئے بھی ہوسکتے ہیں ؟یا کہن محض قافیے کی رعایت سے آیا ہے ؟کیا فارسی میں "نیاگان نو" یا "نیاگان تازہ" بھی مستعمل ہے ؟
'نیاگانِ کُہن' سے علّامہ اقبال کی مُراد [قدیم زمانوں کے] اجداد و گُذشتگان تھے۔
'نیاگانِ نو' اور 'نیاگانِ تازہ' تراکیب مُستعمَل نہیں ہے۔
یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2018 8:20 شام
آہوئے حرم ! کاخِ فرنگى كو عبث جان
تو خوگرِ صحرا ہے ، وہی دشتِ ختن مانگ شعر اچھا ہے -مگر فرنگی اضافی ہے - مقصود آپ کا صحرا و دشت ہے اور محل سے گریز ہی ہے تو فرنگی کی تخصیص کیوں ؟
یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2018 8:23 شام
"شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را"
دائمؔ شہِ کونین کے قدموں میں عدن مانگ خوب !