برائے اصلاح

سید ذیشان حیدر — اکتوبر 10، 2018 9:11 صبح
السلام و علیکم!
ایک غزل برائے اصلاح پیش ہے۔ ان اشعار کے بعد خیال آیا کہ قافیے میں "ی" گرا کر غلطی کر دی۔ اس لئے پھر یہیں رک گیا۔ الف عین
اب ایسی کسی سے بھی شناسائی نہیں ہے
جز میرے کوئی میرا تماشائی نہیں ہے
جا تو بھی زمانے سے ہنر جھوٹ کا سیکھ آ
اس دور میں سچ کی تو پذیرائی نہیں ہے
کیا کہتے ہیں،میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا
یہ کیا کہ مسیحا ہے، مسیحائی نہیں ہے
سناٹے میں بھی شور بپا رہتا ہے یعنی
تنہائی کے عالم میں بھی تنہائی نہیں ہے
الف عین — اکتوبر 11، 2018 4:57 صبح
قافیہ درست ہے کوئی مسئلہ نہیں
غزل میں بھی کوئی غلطی نہیں ایک دو اشعار مزید کہو تو اچھی غزل مکمل ہو جائے
داد قبول کرو
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 12، 2018 11:10 صبح
قافیہ درست ہے کوئی مسئلہ نہیں
غزل میں بھی کوئی غلطی نہیں ایک دو اشعار مزید کہو تو اچھی غزل مکمل ہو جائے
داد قبول کرو

بہت شکریہ سر الف عین
دو اشعار مزید کہنے کی کوشش کی ہے، یہ بھی دیکھ لیجئے:
ہر اِک کو خبر ترکِ تعلق کی ہوئی ہے
کس منہ سے کہیں ہم کہ وہ ہرجائی نہیں ہے
دریائے محبت میں بھی دیکھا ہے اُتر کر
گہرائی جو سمجھے تھے وہ گہرائی نہیں ہے
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 13، 2018 7:13 صبح
سر الف عین
الف عین — اکتوبر 13، 2018 7:19 صبح
درست ہیں اشعار
ہر اِک کو خبر ترکِ تعلق کی ہوئی ہے
مصرع بھی 'ہے' پر ختم ہوتا ہے اور'اک کو' میں تنافر بھی ہے ۔ الفاظ بدل دو تو یہ معمولی سا سقم بھی دور ہو جائے
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 13، 2018 9:25 صبح
بہت شکریہ سر الف عین
سر اب دیکھئے:
دُنیا کو نہیں ترکِ تعلق کی خبر کیا؟
کس منہ سے کہیں ہم کہ وہ ہرجائی نہیں ہے
جاسمن — اکتوبر 13، 2018 10:05 صبح
اچھی کوشش۔
Wajih Bukhari — اکتوبر 13، 2018 10:57 صبح
واہ۔ داد قبول کیجئے۔
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 13، 2018 9:45 شام
بہت شکریہ
الف عین — اکتوبر 14، 2018 7:13 صبح
درست ہے
عابد علی خاکسار — اکتوبر 14، 2018 7:41 صبح
السلام و علیکم!
ایک غزل برائے اصلاح پیش ہے۔ ان اشعار کے بعد خیال آیا کہ قافیے میں "ی" گرا کر غلطی کر دی۔ اس لئے پھر یہیں رک گیا۔ الف عین
اب ایسی کسی سے بھی شناسائی نہیں ہے
جز میرے کوئی میرا تماشائی نہیں ہے
جا تو بھی زمانے سے ہنر جھوٹ کا سیکھ آ
اس دور میں سچ کی تو پذیرائی نہیں ہے
کیا کہتے ہیں،میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا
یہ کیا کہ مسیحا ہے، مسیحائی نہیں ہے
سناٹے میں بھی شور بپا رہتا ہے یعنی
تنہائی کے عالم میں بھی تنہائی نہیں ہے
واااااہ عمدہ اشعار
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 14، 2018 8:28 صبح
واااااہ عمدہ اشعار

بہت شکریہ
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 14، 2018 8:30 صبح

بہت شکریہ سر
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 14، 2018 8:33 صبح
اصلاح کے بعد مکمل غزل :
اب ایسی کسی سے بھی شناسائی نہیں ہے
جز میرے کوئی میرا تماشائی نہیں ہے
جا تُو بھی زمانے سے ہُنر جھوٹ کا سیکھ آ
اس دور میں سچ کی تو پذیرائی نہیں ہے
کیا کہتے ہیں، میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا
یہ کیا کہ مسیحا ہے، مسیحائی نہیں ہے
سنّٓاٹے میں بھی شور بپا رہتا ہے یعنی
تنہائی کے عالم میں بھی تنہائی نہیں ہے
دُنیا کو نہیں ترکِ تعٓلُّق کی خبر کیا
کس منہ سے کہیں ہم کہ وہ ہرجائی نہیں ہے
دریائے محبت میں بھی دیکھا ہے اُتر کر
گہرائی جو سمجھے تھے وہ گہرائی نہیں ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.103623/