برائے اصلاح

سید ذیشان حیدر — نومبر 9، 2018 11:01 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب کی نظر برائے اصلاح
کیا دلیری دِکھائی جا رہی ہے
یادِ ماضی بُھلائی جا رہی ہے
دُھول دِل سے ہٹائی جا رہی ہے
پھر سے بستی بسائی جا رہی ہے
تا سماعت دُہائی جا رہی ہے
بے نیازی دِکھائی جا رہی ہے
کھلبلی سی مچائی جا رہی ہے
کیسے شہرت کمائی جا رہی ہے
پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم
گرد جس پر جمائی جا رہی ہے
کس لئے سر ملائے بیٹھے ہیں
کیسی کچڑی پکائی جا رہی ہے
کرکے بدنام شہر کا شہر اب
نیک نامی کمائی جا رہی ہے
زندگی مل رہی ہے جس کے طفیل
پھر اُسی پر لٹائی جا رہی ہے
الف عین — نومبر 10، 2018 3:37 صبح
اگرچہ ایسی زمینوں میں غزلیں بہت کہی جا رہی ہیں لیکن سچ پوچھیں تو مجھے ہ. ہ کی تکرار اور 'رہی' کی ی کا اسقاط پسند نہیں آتا۔
یہ اس وقت جب کہ میں اسے فاعلاتن مفاعلن فعلن میں تقطیع کر رہا ہوں، اگر کوئی اور بحر ہے تو مجھے نہیں معلوم۔ اگر یہی بحر ہے تو درست ہے غزل سوائے اس مصرع کے
پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 10، 2018 4:39 صبح
اگرچہ ایسی زمینوں میں غزلیں بہت کہی جا رہی ہیں لیکن سچ پوچھیں تو مجھے ہ. ہ کی تکرار اور 'رہی' کی ی کا اسقاط پسند نہیں آتا۔
یہ اس وقت جب کہ میں اسے فاعلاتن مفاعلن فعلن میں تقطیع کر رہا ہوں، اگر کوئی اور بحر ہے تو مجھے نہیں معلوم۔ اگر یہی بحر ہے تو درست ہے غزل سوائے اس مصرع کے
پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم
سر الف عین اور دیگر احباب کی نظر برائے اصلاح
کیا دلیری دِکھائی جا رہی ہے
یادِ ماضی بُھلائی جا رہی ہے
دُھول دِل سے ہٹائی جا رہی ہے
پھر سے بستی بسائی جا رہی ہے
تا سماعت دُہائی جا رہی ہے
بے نیازی دِکھائی جا رہی ہے
کھلبلی سی مچائی جا رہی ہے
کیسے شہرت کمائی جا رہی ہے
پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم
گرد جس پر جمائی جا رہی ہے
کس لئے سر ملائے بیٹھے ہیں
کیسی کچڑی پکائی جا رہی ہے
کرکے بدنام شہر کا شہر اب
نیک نامی کمائی جا رہی ہے
زندگی مل رہی ہے جس کے طفیل
پھر اُسی پر لٹائی جا رہی ہے

استادِ محترم کیا 'جارہی ہے' کو ' جاتی ہے' یا ' جائے گی' کردیا جائے تو کیا بہتر نہیں ہوجائے گا؟
سید ذیشان حیدر — نومبر 10، 2018 8:16 صبح
اگرچہ ایسی زمینوں میں غزلیں بہت کہی جا رہی ہیں لیکن سچ پوچھیں تو مجھے ہ. ہ کی تکرار اور 'رہی' کی ی کا اسقاط پسند نہیں آتا۔
یہ اس وقت جب کہ میں اسے فاعلاتن مفاعلن فعلن میں تقطیع کر رہا ہوں، اگر کوئی اور بحر ہے تو مجھے نہیں معلوم۔ اگر یہی بحر ہے تو درست ہے غزل سوائے اس مصرع کے
پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم

بہت شکریہ سر الف عین ۔ میں نے یہ غزل جون ایلیا کی زمین میں لکھی تھی۔ مگر جلدی میں غور نہیں کیا کہ وہ بحر مفاعیلن مفاعیلن فعولن تھی مگر میں نے فاعلاتن مفاعیلن فعلن سمجھ لی۔
کیا کیا جائے اب؟ دوبارہ سے کہوں یا چل جائے گی؟
اور اس مصرعہ میں "پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم" ہوئی کی تقطیع کی وجہ سے کہہ رہے ہیں یا بات واضح نہیں ہے؟
الف عین — نومبر 11، 2018 5:13 صبح
غزل تو چلے گی جیسا کہ میں نے لکھا تھا کہ ایسی بہت غزلیں کہی جا رہی ہیں.
پڑھی ہوئی کتاب والا مصرع بحر سے خارج ہے بلکہ 'پڑھی' سرے سے اس بحر میں شاید نہیں آ سکتا
سید ذیشان حیدر — نومبر 11، 2018 5:44 صبح
غزل تو چلے گی جیسا کہ میں نے لکھا تھا کہ ایسی بہت غزلیں کہی جا رہی ہیں.
پڑھی ہوئی کتاب والا مصرع بحر سے خارج ہے بلکہ 'پڑھی' سرے سے اس بحر میں شاید نہیں آ سکتا

سر پڑھی کی تقطیع کیا ہو گی؟
الف عین — نومبر 11، 2018 6:19 صبح
پڑھی بطور پڑی یعنی فعو تقطیع ہو گا یعنی متحرک یک حرفی پھر دو حروف۔ یہ میں نے غلط لکھا تھا کہ اس بحر میں پڑھی نہیں آ سکتا، فاعلاتن کا 'علا' فعو کے مساوی ہے. جیسے
وہ پڑھی سی کتاب ہیں ہم لوگ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.104142/