برائے اصلاح

عابد علی خاکسار — نومبر 15، 2018 5:24 صبح
جناب@الف عین صاحب
جناب امجد راجا صاحب
وہ ملنے سے جو آج اچانک مکر گیا
یوں لگتا ہے دل اس کا محبت سے بھر گیا
جو تھا خمار تیرا وہ دل سے اتر گیا
اب ناز اپنے خود ہی اٹھا میں سدھر گیا
اہلء خرد و عقل کو دیوانہ کر گیا
میرا جدھر جدھر بھی وہ رشک قمر گیا
خواہش تھی پیار کی نہ تمنا تھی عشق کی
وہ اک نظر میں ہی رگءجاں تک اتر گیا
بس بعد از جدائی مرے یار یوں ہوا
وہ پھر سنبھل گیا ہے مگر میں بکھر گیا
آتے نہیں ہیں آثار کہیں تیرے ملنے کے
ہائے یہ رائیگاں مرا سارا سفر گیا
آتا نہیں ہے ملنے وہ گھر میرے آجکل
لگتا ہے وہ بدل گیا یا پھر سدھر گیا
رہ رہ کے درد اس کا رلاتا ہے رات دن
جو بات دل کی کہنے سے پہلے ہی مر گیا
اک عمر انتظار کیا جس کا خاکسار
چپ چاپ وہ قریب سے میرے گزر گیا
عابد علی خاکسار — نومبر 15، 2018 5:25 صبح
@ الف عین صاحب
عابد علی خاکسار — نومبر 15، 2018 5:27 صبح
الف عین صاحب
سید ذیشان حیدر — نومبر 15، 2018 6:47 صبح
جناب@الف عین صاحب
جناب امجد راجا صاحب
آتے نہیں ہیں آثار کہیں تیرے ملنے کے

یہ مصرعہ بحر سے خارج لگ رہا ہے۔ اسے اس طرح کیا جا سکتا ہے :
آثار تیرے ملنے کے آتے نہیں نظر
عابد علی خاکسار — نومبر 15، 2018 11:26 صبح
یہ مصرعہ بحر سے خارج لگ رہا ہے۔ اسے اس طرح کیا جا سکتا ہے :
آثار تیرے ملنے کے آتے نہیں نظر

وضاحت فرما دیں کیسے خارج ہے ۔۔
عابد علی خاکسار — نومبر 15، 2018 11:28 صبح
یہ مصرعہ بحر سے خارج لگ رہا ہے۔ اسے اس طرح کیا جا سکتا ہے :
آثار تیرے ملنے کے آتے نہیں نظر

ٹھیک ٹھیک سمجھ گیا جلدی میں ہو جاتا
الف عین — نومبر 16، 2018 9:58 صبح
ٹھیک ٹھیک سمجھ گیا جلدی میں ہو جاتا
اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کچھ عرصہ اپنی غزلوں کے ساتھ گزارنا چاہیے ۔اکثر بہتری کی صورتیں خود ہی نکل آتی ہیں۔
الف عین — نومبر 16، 2018 10:11 صبح
وہ ملنے سے جو آج اچانک مکر گیا
یوں لگتا ہے دل اس کا محبت سے بھر گیا
.... وعدے سے مکرا جاتا ہے ملنے سے نہیں
لگتا ہے میں لگتا کا الف کا اسقاط بھی برا لگتا ہے
ملنے کے عہد سے وہ اچانک مکر گیا
لگتا ہے اس کا دل ہی محبت سے بھر گیا
ایک ممکنہ صورت
جو تھا خمار تیرا وہ دل سے اتر گیا
اب ناز اپنے خود ہی اٹھا میں سدھر گیا
... درست تکنیکی طور پر
اہلء خرد و عقل کو دیوانہ کر گیا
میرا جدھر جدھر بھی وہ رشک قمر گیا
... وَ عقل غلط ہے ہوش و خرد محاورہ ہے
یوں کہیں
پل بھر میں ہوش والوں کو دیوانہ کر گیا
خواہش تھی پیار کی نہ تمنا تھی عشق کی
وہ اک نظر میں ہی رگءجاں تک اتر گیا
۔... ایک ہی بات ہے پہلے مصرع کے دونوں حصوں میں
ویسے درست ہے
بس بعد از جدائی مرے یار یوں ہوا
وہ پھر سنبھل گیا ہے مگر میں بکھر گیا
.... اس کی روانی بھی بہتر کی جا سکتی ہے ۔ دو ایک اشعار کی میں نے کر دی۔ اب خود بھی کوشش کریں
آتے نہیں ہیں آثار کہیں تیرے ملنے کے
ہائے یہ رائیگاں مرا سارا سفر گیا
... ذیشان کا پہلا مصرع وزن میں آتا ہے لیکن 'ملنے' کی ے گر جاتی ہے
دوسرے میں 'یہ' بھی اضافی ہے، یوں کہو
افسوس رائگاں مرا سارا سفر گیا
آتا نہیں ہے ملنے وہ گھر میرے آجکل
لگتا ہے وہ بدل گیا یا پھر سدھر گیا
رہ رہ کے درد اس کا رلاتا ہے رات دن
جو بات دل کی کہنے سے پہلے ہی مر گیا
... درست
اک عمر انتظار کیا جس کا خاکسار
چپ چاپ وہ قریب سے میرے گزر گیا
.. درست
عابد علی خاکسار — نومبر 16، 2018 1:40 شام
بہت ذ
وہ ملنے سے جو آج اچانک مکر گیا
یوں لگتا ہے دل اس کا محبت سے بھر گیا
.... وعدے سے میرا جانا ہے ملنے سے نہیں
لگتا ہے میں لگتا کا الف کا اسقاط بھی برا لگتا ہے
ملنے کے عہد سے وہ اچانک مکر گیا
لگتا ہے اس کا دل ہی محبت سے بھر گیا
ایک ممکنہ صورت
جو تھا خمار تیرا وہ دل سے اتر گیا
اب ناز اپنے خود ہی اٹھا میں سدھر گیا
... درست تکنیکی طور پر
اہلء خرد و عقل کو دیوانہ کر گیا
میرا جدھر جدھر بھی وہ رشک قمر گیا
... وَ عقل غلط ہے ہوش و خرد محاورہ ہے
یوں کہیں
پل بھر میں ہوش والوں کو دیوانہ کر گیا
خواہش تھی پیار کی نہ تمنا تھی عشق کی
وہ اک نظر میں ہی رگءجاں تک اتر گیا
۔... ایک ہی بات ہے پہلے مصرع کے دونوں حصوں میں
ویسے درست ہے
بس بعد از جدائی مرے یار یوں ہوا
وہ پھر سنبھل گیا ہے مگر میں بکھر گیا
.... اس کی روانی بھی بہتر کی جا سکتی ہے ۔ دو ایک اشعار کی میں نے کر دی۔ اب خود بھی کوشش کریں
آتے نہیں ہیں آثار کہیں تیرے ملنے کے
ہائے یہ رائیگاں مرا سارا سفر گیا
... ذیشان کا پہلا مصرع وزن میں آتا ہے لیکن 'ملنے' کی ے گر جاتی ہے
دوسرے میں 'یہ' بھی اضافی ہے، یوں کہو
افسوس رائگاں مرا سارا سفر گیا
آتا نہیں ہے ملنے وہ گھر میرے آجکل
لگتا ہے وہ بدل گیا یا پھر سدھر گیا
رہ رہ کے درد اس کا رلاتا ہے رات دن
جو بات دل کی کہنے سے پہلے ہی مر گیا
... درست
اک عمر انتظار کیا جس کا خاکسار
چپ چاپ وہ قریب سے میرے گزر گیا
.. درست[/QUOTE
بہت ذرہ نوازی سر ۔۔
عابد علی خاکسار — نومبر 16، 2018 1:44 شام
وہ ملنے سے جو آج اچانک مکر گیا
یوں لگتا ہے دل اس کا محبت سے بھر گیا
.... وعدے سے میرا جانا ہے ملنے سے نہیں
لگتا ہے میں لگتا کا الف کا اسقاط بھی برا لگتا ہے
ملنے کے عہد سے وہ اچانک مکر گیا
لگتا ہے اس کا دل ہی محبت سے بھر گیا
ایک ممکنہ صورت
جو تھا خمار تیرا وہ دل سے اتر گیا
اب ناز اپنے خود ہی اٹھا میں سدھر گیا
... درست تکنیکی طور پر
اہلء خرد و عقل کو دیوانہ کر گیا
میرا جدھر جدھر بھی وہ رشک قمر گیا
... وَ عقل غلط ہے ہوش و خرد محاورہ ہے
یوں کہیں
پل بھر میں ہوش والوں کو دیوانہ کر گیا
خواہش تھی پیار کی نہ تمنا تھی عشق کی
وہ اک نظر میں ہی رگءجاں تک اتر گیا
۔... ایک ہی بات ہے پہلے مصرع کے دونوں حصوں میں
ویسے درست ہے
بس بعد از جدائی مرے یار یوں ہوا
وہ پھر سنبھل گیا ہے مگر میں بکھر گیا
.... اس کی روانی بھی بہتر کی جا سکتی ہے ۔ دو ایک اشعار کی میں نے کر دی۔ اب خود بھی کوشش کریں
آتے نہیں ہیں آثار کہیں تیرے ملنے کے
ہائے یہ رائیگاں مرا سارا سفر گیا
... ذیشان کا پہلا مصرع وزن میں آتا ہے لیکن 'ملنے' کی ے گر جاتی ہے
دوسرے میں 'یہ' بھی اضافی ہے، یوں کہو
افسوس رائگاں مرا سارا سفر گیا
آتا نہیں ہے ملنے وہ گھر میرے آجکل
لگتا ہے وہ بدل گیا یا پھر سدھر گیا
رہ رہ کے درد اس کا رلاتا ہے رات دن
جو بات دل کی کہنے سے پہلے ہی مر گیا
... درست
اک عمر انتظار کیا جس کا خاکسار
چپ چاپ وہ قریب سے میرے گزر گیا
.. درست

بہت بہت ذرہ نوازی سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.104241/