برائے اصلاح

فلسفی — دسمبر 17، 2018 7:49 صبح
سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے
انجامِ رند دیکھ کہ رویا نہ کیوں کروں
اس مے کو چھوڑنے کا تہیہ نہ کیوں کروں
دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں
آنکھوں سے درد کی تپش آنے لگے اگر
پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں
میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں
جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں
آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں
جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں
ساقی، نہ مے، نہ رند، نہ رنگِ شباب ہے
اس مے کدے کے حال پہ گریہ نہ کیوں کروں​
فاخر رضا — دسمبر 17، 2018 9:54 صبح
رویا
تہیہ
آیا
گریہ
یہ سب الگ الگ سے لگ رہے ہیں
فلسفی — دسمبر 17، 2018 10:32 صبح
رویا
تہیہ
آیا
گریہ
یہ سب الگ الگ سے لگ رہے ہیں
جی آپ نے درست نشاندہی فرمائی۔ رویا اور گریہ میں یا سے قبل حرف محرک نہیں۔ کیا میں درست سمجھ ہوں؟
فاخر رضا — دسمبر 17، 2018 11:26 صبح
جی آپ نے درست نشاندہی فرمائی۔ رویا اور گریہ میں یا سے قبل حرف محرک نہیں۔ کیا میں درست سمجھ ہوں؟
مجھ میں اتنی سمجھ نہیں ہے
مجھے جو الگ سا لگا لکھ دیا
فلسفی — دسمبر 17، 2018 11:30 صبح
محترم محمد ریحان قریشی صاحب آپ ذرا راہنمائی فرمائیں۔ کہ اس غزل کے قافیے درست ہیں یا نہیں۔ غلطی کی نشاندہی بھی فرما دیں۔
محمد ریحان قریشی — دسمبر 17، 2018 12:33 شام
تہیہ اور گریہ درست نہیں باقی سب ٹھیک ہیں.
فلسفی — دسمبر 17، 2018 12:43 شام
تہییہ اور گریہ درست نہیں باقی سب ٹھیک ہیں.
محترم کیا اس ترتیب سے اس غزل کے قوافی درست مانے جائیں گے؟
لوگوں سے حالِ دل کو چھپایا نہ کیوں کروں
پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں
قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
اس غم میں خود کو تارکِ دنیا نہ کیوں کروں
دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں
میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں
جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں
آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں
جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں
ساقی نہ مے، نہ رند، نہ رنگِ شباب ہے
محفل میں خامیاں ہیں، بتایا نہ کیوں کروں​
محمد ریحان قریشی — دسمبر 17، 2018 6:37 شام
جی اب مکمل درست ہیں۔
الف عین — دسمبر 18، 2018 5:29 صبح
جی اب مکمل درست ہیں۔
دنیا قافیے سے صرف نظر کر گئے!
فلسفی — دسمبر 18، 2018 5:32 صبح
دنیا قافیے سے صرف نظر کر گئے!
شکریہ سر۔ کھٹکا تھا اس لیے متبادل تیار رکھا تھا۔ یہ مناسب ہے
قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
اس غم میں آنسوؤں کو بہایا نہ کیوں کروں
سر باقی غزل ٹھیک ہے؟
الف عین — دسمبر 18، 2018 5:33 صبح
دنیا والے مصرع کو اولی مصرع بنا دیں اور الفاظ بدل دیں باقی اشعار درست ہی لگ رہے ہیں
فلسفی — دسمبر 18، 2018 5:49 صبح
دنیا والے مصرع کو اولی مصرع بنا دیں اور الفاظ بدل دیں باقی اشعار درست ہی لگ رہے ہیں

سر الف عین
خالی گلاس روگ ہے اس جان کا تو پھر
قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
فاخر رضا — دسمبر 18، 2018 5:03 شام
اب بہت اچھا لگ رہا ہے. جلدی سے ایک مرتبہ پھر مکمل غزل عنایت فرمائیے
فلسفی — دسمبر 18، 2018 5:33 شام
اب بہت اچھا لگ رہا ہے. جلدی سے ایک مرتبہ پھر مکمل غزل عنایت فرمائیے
شکریہ محترم۔ یہ لیجیے حاضر ہے
لوگوں سے حالِ دل کو چھپایا نہ کیوں کروں
پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں
خالی گلاس روگ ہے اس جان کا تو پھر
قلت سے مے کی خود کو ڈرایا نہ کیوں کروں
دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ
لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں
میری خوشی کو دیکھ کے جلتے ہیں جو رقیب
ان دشمنوں کو ہنس کے رلایا نہ کیوں کروں
جس کوچہِ وفا کا فسانہ ابھی سنا
اس شہرِ بے نظیر میں جایا نہ کیوں کروں
آنکھوں سے دل کے راز جو پڑھنے لگا ہے اب
نظریں اس آدمی سے چرایا نہ کیوں کروں
جس بے وفا کی وجہ سے رونق ہے بزم کی
پلکوں پر اپنی اس کو بٹھایا نہ کیوں کروں
ساقی نہ مے نہ رند نہ رنگِ شباب ہے
محفل میں خامیاں ہیں، بتایا نہ کیوں کروں​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.104709/