انس معین — مارچ 10، 2019 7:28 صبح
فاعلاتن مفاعلن فِع
ایسے تیرا خیال آیا
جیسے کوئی وبال آیا
مری آنکھ کا سوال آیا
ترے رخ پہ جب جمال آیا
بوجھ یادوں کا اور بڑھا ہے
جب نیا کوئی سال آیا
عشق آخر شے ہی کیا ہے
ہر کوئی پر ملال آیا
یادوں سے ہو ئی بحث تا شب
دل کو پھر سے جلال آیا
سر
الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش۔
عظیم ،
فلسفی
الف عین
محمد تابش صدیقی
یاسر شاہ
سید عاطف علی
فلسفی — مارچ 10، 2019 7:38 صبح
میں اس کی بحر سمجھ نہیں پایا۔ آپ ذرا بحر کا تعین کردیجیے۔
انس معین — مارچ 10، 2019 7:44 صبح
میں اس کی بحر سمجھ نہیں پایا۔ آپ ذرا بحر کا تعین کردیجیے۔
فاعلاتن مفاعلن فِع
فلسفی — مارچ 10، 2019 8:18 صبح
مری آنکھ کا سوال آیا
ترے رخ پہ جب جمال آیا
بحر سے خارج ہے۔ مفہوم بھی واضح نہیں۔
بوجھ یادوں کا اور بڑھا ہے
جب نیا کوئی سال آیا
پہلا مصرع یوں بہتر رہے گا
بڑھ گیا تیری یاد کا بوجھ
عشق آخر شے ہی کیا ہے
ہر کوئی پر ملال آیا
پہلے مصرعے میں روانی بہتر ہوسکتی ہے۔ دوسرے کا ربط پہلے مصرعے سے سمجھ نہیں آیا۔
یادوں سے ہو ئی بحث تا شب
دل کو پھر سے جلال آیا
"تا" تمام کے معنوں میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ محبوب کو یاد کرکے دل مغموم ہونا چاہیے، جلال کس بات پر آیا؟
میری گذارشات کو طالب علمانہ سمجھیے گا۔ بہتر رائے تو اساتذہ میں سے ہی کوئی دے سکتا ہے۔
انس معین — مارچ 10، 2019 8:36 صبح
بحر سے خارج ہے۔ مفہوم بھی واضح نہیں۔
پہلا مصرع یوں بہتر رہے گا
بڑھ گیا تیری یاد کو بوجھ
پہلے مصرعے میں روانی بہتر ہوسکتی ہے۔ دوسرے کا ربط پہلے مصرعے سے سمجھ نہیں آیا۔
"تا" تمام کے معنوں میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ محبوب کو یاد کرکے دل مغموم ہونا چاہیے، جلال کس بات پر آیا؟
میری گذارشات کو طالب علمانہ سمجھیے گا۔ بہتر رائے تو اساتذہ میں سے ہی کوئی دے سکتا ہے۔
بہت شکریہ سر ۔ بہتر کر کے پیش کرتا ہوں
الف عین — مارچ 10، 2019 8:11 شام
خود ساختہ بحر محسوس ہو رہی ہے اور میں مبتدیوں کو اس سے بچنے کا مشورہ دیتا ہوں