برائے اصلاح

اسماء آرزو — مارچ 19، 2019 11:04 شام
اسلام وعلیکم!
میں ردیف قافیہ سے زیادہ نہیں جانتی تھی شاعری کو اب کچھ باتیں سیکھی ہیں بلکہ سیکھنا شروع کیا ہے یہ پہلی کوشش ہے۔۔۔۔۔ آپکی اصلاح کی خواستگار ہوں۔۔۔۔
تمہیں تو لگتی بادِ بہار تھی میں
پھر یہ کب جانا ہے تم نے خار تھی میں
اب کہ کس طرح کی تار تار تھی میں
یہ کیا اپنے ہی آر پار تھی میں
وقت کے ساتھ تھی جوبدلتی رہی
ایسی چاہت لیے داغ دارتھی میں
تھا لگا میں ہی قل زندگی رہوں گی
پرکہیں بھی نہیں اب شمار تھی میں
خونِ دل کی سیاہی بنی ہے کیا
رنگِ نو اوڑھے تصویرِ زار تھی میں
فیصلے میرے کرنے تھے تم نے ہی کیا
ہاں کہ تمہارا ہی اختیارتھی میں
آرزو آج جا کر یہ اس نے سوچا
تو بنا وجہ کا ہوا پیار تھی میں
عظیم — مارچ 20، 2019 1:10 شام
ردیف اور قافیہ دونوں درست ہیں، تھوڑا بہت عروض کی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے
ایک لنک میں آپ کو فراہم کر دیتا ہوں، یہاں آپ کو عروض کے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو مل جائے گا
اسماء آرزو — مارچ 20، 2019 1:20 شام
جی بہت مشکور ہوں عظیم صاحب ، لنک کیا ہے؟
عظیم — مارچ 20، 2019 4:19 شام
اوپر مراسلے میں جو میں نے لفظ 'لنک' لکھا ہے اس پر کلک کریں
اسماء آرزو — مارچ 20، 2019 4:23 شام
جی، بہت شکریہ
یاسر شاہ — مارچ 20، 2019 5:06 شام
وعلیکم السلام !
ویسے تو عظیم صاحب نے ربط مہیّا کر دیا ہے عروض سے شد بد حاصل کرنے کے لیے -میں آپ کے ابتدائی تین اشعار، میں ،کچھ تبدیلیوں سے موزوں کیے دیتا ہوں -آپ فرق غور کیجیے گا :
تمہیں تو لگتی بادِ بہار تھی میں
پھر یہ کب جانا ہے تم نے خار تھی میں
کبھی تم کو گلِ بہار تھے ہم
کیا ہوا اب کہ مثلِ خار تھے ہم

-----------
اب کہ کس طرح کی تار تار تھی میں
یہ کیا اپنے ہی آر پار تھی میں
اس قرینے سے تار تار تھے ہم
گویا
اپنے ہی آر پار تھے ہم
----------
وقت کے ساتھ تھی جوبدلتی رہی
ایسی چاہت لیے داغ دارتھی میں
وقت کے ساتھ جو بدلتی رہی
ایسی چاہت سے داغدار تھے ہم
---------
باقی کے اشعار آپ خود ٹھیک کر لیں، کچھ بحر و اوزان سے واقفیت حاصل کر کے -
اسماء آرزو — مارچ 23، 2019 9:34 شام
واااہ کیا بات ہے۔۔۔
بہت شکریہ آپ کا یاسر شاہ صاحب، میں کوشش کرتی ہوں اسے بہتر کر سکوں۔۔۔ آپ کی رہنمائی کے لیے بہت شکریہ۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.106039/