سید احسان — مئی 29، 2019 7:41 شام
※ غزل برائے اصلاح ※
وہ اگر میرا ہم سفر ہوتا
میرا خالی مکاں بھی گھر ہوتا
خون روئیں نہ گر مری آنکھیں
نخل دل میرا بے ثمر ہوتا
ہاتھ تھامے۔ مرا وہ کب چلتا
میرے کل سے جو با خبر ہوتا
دوست ہوتے نہ اشک آنکھوں کے
رائیگاں زیست کا سفر ہوتا
جان لیتا یہ راز ہستی بھی
کاش میں صاحب نظر ہوتا
زیست میری شب فراق سہی
نام اس کا اگر سحر ہوتا
رات اپنی سکون سے کٹتی
میرے زانو پہ اس کا سر ہوتا
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
تیرے بندوں کا ہم سفر ہوتا
(سید احسان الحق )
سید احسان — مئی 29، 2019 7:53 شام
تمام واجب الاحترام اساتذہ سے گزارش ہے کہ میری راہنمائی کریں ۔ اصلاح کے لیے حاضر ہوں
الف عین — مئی 30، 2019 4:50 صبح
اچھی غزل ہے
وہ اگر میرا ہم سفر ہوتا
میرا خالی مکاں بھی گھر ہوتا
.. خوب
خون روئیں نہ گر مری آنکھیں
نخل دل میرا بے ثمر ہوتا
... خون روتیں... کہا جائے تو مفہوم کے اعتبار سے بہتری محسوس ہوتی ہے
ہاتھ تھامے۔ مرا وہ کب چلتا
میرے کل سے جو با خبر ہوتا
... واضح نہیں ہوا، تھامے مرا میں 'میں میں' کی تکرار محسوس ہوتی ہے الفاظ بدل دیں
دوست ہوتے نہ اشک آنکھوں کے
رائیگاں زیست کا سفر ہوتا
.. درست
جان لیتا یہ راز ہستی بھی
کاش میں صاحب نظر ہوتا
.... درست
زیست میری شب فراق سہی
نام اس کا اگر سحر ہوتا
.. کس کا نام؟ واضح نہیں
رات اپنی سکون سے کٹتی
میرے زانو پہ اس کا سر ہوتا
.. درست
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
تیرے بندوں کا ہم سفر ہوتا
.. خطاب کس سے ہے؟ اللہ سے؟
سید احسان — مئی 30، 2019 8:58 شام
الف عین
سر آپ کے التفات پر جی خوش ہوا۔ آپ کی طرف سے کی گئی اصلاح پر عمل کروں گا۔ آپ کا بے حد شکریہ
بذیل تبدیلیاں اگر کی جائیں تو آپ کیا کہیں گے سر !
زیست میری شب فراق سہی
نام تیرا اگر سحر ہوتا
ساتھ میرا وہ آج کب دیتا
میرے کل سے جو باخبر ہوتا
مقطع میں عاجز اللہ سے ہی مخاطب ہے
شکریہ
الف عین — مئی 31، 2019 3:06 شام
زیست میری شب فراق سہی
نام تیرا اگر سحر ہوتا
اب بھی ابلاع نہیں ہوتا
مقطع بھی واضح نہیں
سید احسان — مئی 31، 2019 11:49 شام
زیست میری شب فراق سہی
نام تیرا اگر سحر ہوتا
اب بھی ابلاع نہیں ہوتا
مقطع بھی واضح نہیں
جی میں کوشش کرتا ہوں ترمیم کی
سید احسان — مئی 31، 2019 11:52 شام
جی میں کوشش کرتا ہوں ترمیم کی
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
رب کے بندوں کا ہم سفر ہوتا
سید احسان — مئی 31، 2019 11:55 شام
زیست میری شب فراق سہی
نام تیرا اگر سحر ہوتا
اب بھی ابلاع نہیں ہوتا
مقطع بھی واضح نہیں
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
رب کے بندوں کا ہم سفر ہوتا
محمد خلیل الرحمٰن — جون 1، 2019 12:09 صبح
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
رب کے بندوں کا ہم سفر ہوتا
نیک بندوں کا ہم سفر ہوتا
الف عین — جون 1، 2019 4:55 صبح
اب تو احسان کی یہ خواہش ہے
رب کے بندوں کا ہم سفر ہوتا
خواہش کے ساتھ 'ہونا' کا محل ہے، یہاں 'کاش' لاؤ
خواہش کے ساتھ 'کہ وہ' ضروری ہے
اب تو احسان چاہتا ہے کہ وہ
لیکن مفہوم کے اعتبار سے اب بھی عجیب ہے