برائے اصلاح

اسد امین — اکتوبر 1، 2019 3:02 شام
یہ نکتہِٕ انگبیں ہے جسے سمجھے تو کہرام
قدرت نے سکھاٸی ہے تجھے قدرتِ پرواز
تو شیشہِٕ فطرت میں عیاں ہو، کہ خودی کا
دنیائے ازل سے ہے یہی آخر و آغاز
درویش ، خدا مست ، نگہ تیز و بلند پَر
یہ چار عناصر ہوں تو بن جاتا ہے شہباز
ان خیز عناصر میں بھی خصلت ہے یہ اس کی
رکھتا نہیں سینے میں کبھی حملہِٕ بے تاز
ہے آج انھی ضرب سے امروز کشاکش
چاہیں تو وہی سوز ، جو چاہیں تو وہی ساز
ہے رہ تو مرے پاس بھی جدت کی بتاؤں
تو بندہِٕ بے حاضر و موجود پہ کر ناز
اسد امین — اکتوبر 2، 2019 11:17 صبح
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
فلسفی
یاسر شاہ
الف عین — اکتوبر 3، 2019 12:04 شام
انگبیں کی گ اور بلند کی د نہیں گرایا جا سکتا
آخری تینوں اشعار سمجھ نہیں سکا
اسد امین — اکتوبر 4، 2019 1:47 شام
انگبیں کی گ اور بلند کی د نہیں گرایا جا سکتا
آخری تینوں اشعار سمجھ نہیں سکا
علامہ اقبالؒ کے ایک خط جس میں انھوں نے شاہین کی خصوصیات نثری طور پر بیان کی ہیں۔ اشعار کی صورت میں ڈھالنے کی کوشش کی گٸی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.108639/