خوش آتا نہیں مجھ کو ترا تیشہِ افکار
سر گشتہِ آفت ہے یا سر گشتہِ تریاک
دوسرے مصرعے میں کچھ ٹائپنگ کی غلطی ہے شاید کہ بحر سے خارج ہو گیا ہے
تریاک؟ کیا تریاق مراد ہے؟ جو قافیہ نہیں ہو سکتا
باقی اشعار میں عروضی خامی تو کوئی نظر نہیں آتی۔
معنوی اعتبار سے میں خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔
سید عاطف علی کچھ کہہ سکیں۔ یہ اقبال جیسا فلسفہ میری چائے کی پیالی نہیں
شا عری اگر کسی کے متعین رنگ میں کی جائے خصوصا اقبال کے تو اقبال کے ہاں استعمال شدہ تشبیہات اور استعارات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو کلام اقبال میں اتنی کثرت سے مستعمل ہیں ہیں کہ گویا وہ شاعرانہ تشبیہات و استعارات نہیں بلکہ اقبال کی اصطلاحات کہلاتی ہیں وہ ہر جگہ کرمک شمع خاک و نور خودی وبےخودی عشق و عقل سے ایسی مراد لیتے ہیں جو انکا کلام ہی متعین کرتا ہے ۔ ایسے میں کسی شاعر کے تتبع کا رنگ نئے شاعر کی اپنی تخلیق پر ایک سوال بن جاتا ہے ۔
مندرجہ بالا غزل میں کئی جگہ اسلوب بیان غیر واضح ہے جیسا کہ مطلع میں دیکھا جاسکتا ہے ۔
"اگر چہ خاک تجھے دوریِ ادراک بناتی ہے "
"خاک کا کسی کو دوری بنا دینا" ایک غیرواضح اور بنا بریں بے معنی تصور پیش کرتا ہے ۔دوسرے مصرع میں اس کا جواب دیا گیا ہے لیکن سوال ہی عجز بیان میں الجھ گیا تو جواب کا لطف جاتا رہا ۔
اسی طرح آخری شعر بھی عجز بیان سے بے معنی سا ہوگیا کہ "بو قلمونی کسی کو نازاں " کس طرح ہو سکتی ہے؟ اور شاعر نے کیا مراد لینی چاہی ہے ۔
لفظی اور عروضی لحاظ سے تو کچھ قابل ذکر بات نہیں ۔البتہ معنی اور اسلوب پر نظر ثانی کی جانی چاہیئے ۔
تریاق کا صحیح تلفظ تو یہی ہے ،تریاک نہیں ۔