برائے اصلاح

سید احسان — جنوری 13، 2020 10:28 صبح
لو زخم زخم ہو کے ترے در پہ آئے ہیں
مرہم کوئی کرو ، کہ نیا زخم دو ہمیں
ہم جیسے پست ذوق، رہیں محفلوں سے دور
بہلائےکس طرح سے کوئی رسم نو ہمیں
سید احسان
الف عین — جنوری 13، 2020 10:45 صبح
قوافی نہیں کہے جا سکتے، زخم اور رسم
سید احسان — جنوری 13، 2020 3:19 شام
قوافی نہیں کہے جا سکتے، زخم اور رسم
رسم کا تلفظ بر وزن زخم نہیں ہے کیا یا کوئی اور وجہ ہے؟ سمجھا دیں سر؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2020 7:49 شام
یہاں ذوقافیتین کی صنعت دانستہ بروئے کار لائی گئی ہے یا یہ محض اتفاق تھا؟ :)
سید احسان — جنوری 14، 2020 8:24 صبح
یہاں ذوقافیتین کی صنعت دانستہ بروئے کار لائی گئی ہے یا یہ محض اتفاق تھا؟ :)
کوشش ذوقافیتین کی ہی ہے ۔۔ راہنمائی فرما دیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2020 8:30 صبح
ایسی باریکیوں کی بابت تو استادِ محترم ہی آگہی دے سکتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا اشارہ رسمِ نَو میں کسرۂ اضافت کی طرف ہو؟ ویسے چھوٹا منہ بڑی بات والا معاملہ ہے مگر میری ناچیز رائے میں دو اور نَو میں اختلافِ حرکات بھی محلِ نظر ہو سکتا ہے۔
سید احسان — جنوری 14، 2020 1:29 شام
ایسی باریکیوں کی بابت تو استادِ محترم ہی آگہی دے سکتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا اشارہ رسمِ نَو میں کسرۂ اضافت کی طرف ہو؟ ویسے چھوٹا منہ بڑی بات والا معاملہ ہے مگر میری ناچیز رائے میں دو اور نَو میں اختلافِ حرکات بھی محلِ نظر ہو سکتا ہے۔
استاد محترم نے جو نکتہ اٹھایا ہے انتہائی باریک ہے ۔۔۔ اور اب بعد از تحقیق میرے علم میں اضافہ ہوا ہے ۔۔ اب ان سے گزارش ہے کہ اشعار پر ضرور ارشاد فرمائیں کچھ ۔۔ اگر “ دو “ اور “”نو “ کو قوافی مان لیا جائے ۔۔ آپ بھی اشعار پر کچھ ارشاد فرمائیں
الف عین — جنوری 14، 2020 1:30 شام
اوہو، میں 'دو ہمیں' کو ردیف سمجھا۔ اصل میں قوافی دو اور نَو ہیں۔ لیکن یہ بھی درست نہیں۔ نو کے ن پر واضح فتحہ ہے، جب کہ دو پر نہیں۔
سید احسان — جنوری 14، 2020 1:32 شام
اوہو، میں 'دو ہمیں' کو ردیف سمجھا۔ اصل میں قوافی دو اور نَو ہیں۔ لیکن یہ بھی درست نہیں۔ نو کے ن پر واضح فتحہ ہے، جب کہ دو پر نہیں۔
سر ۔۔ دو کے مزید کچھ قوافی مرحمت فرمائیں ۔۔ کیا ان اشعار کو نظری کر دیا جائے ؟؟؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2020 1:35 شام
اوہو، میں 'دو ہمیں' کو ردیف سمجھا۔ اصل میں قوافی دو اور نَو ہیں۔ لیکن یہ بھی درست نہیں۔ نو کے ن پر واضح فتحہ ہے، جب کہ دو پر نہیں۔
استاذی، زخم اور رسم والے نکتے کی کچھ تفصیل عنایت فرمائیں، میری سمجھ میں بھی نہیں آسکا۔
جزاک اللہ۔
الف عین — جنوری 14، 2020 2:00 شام
قوافی کے لیے ضروری ہے کہ مشترک حروف سے پہلے کا حرف متحرک ہو، یعنی زیر زبر یا پیش یو۔ زخم اور رسم میں صرف م مشترک ہے، اور اس سے پہلے کے حروف ض اور س ساکن ہیں۔ رزم اور بزم درست قوافی ہیں کہ مشترک حروف زم ہیں اور ان سے پہلے ر اور ب پر زبر ہے۔
سید احسان — جنوری 14، 2020 2:08 شام
قوافی کے لیے ضروری ہے کہ مشترک حروف سے پہلے کا حرف متحرک ہو، یعنی زیر زبر یا پیش یو۔ زخم اور رسم میں صرف م مشترک ہے، اور اس سے پہلے کے حروف ض اور س ساکن ہیں۔ رزم اور بزم درست قوافی ہیں کہ مشترک حروف زم ہیں اور ان سے پہلے ر اور ب پر زبر ہے۔
جزاک اللہ استاذی ۔۔ دو کے قوافی کے لئے عرض کیا تھا۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.109968/