برائے اصلاح

عابد علی خاکسار — جنوری 18، 2020 8:04 صبح
الف عین صاحب
ہمیں اپنے ہی گلشن میں بنا کے فریادی رکھا ہے
ہماری گردنوں میں ڈال کے طوق-ایازی رکھا ہے
ہماری سوچ پر پابندی ہماری زبان پر پابندی
ہمارے آقاوں نے شائد اسی کا نام آزادی رکھاہے
سر یہ کسی بحر میں نہیں ہے لیکن یہ اشعار اتنے مشہور کہ لوگ سٹیج پر بھی پڑھتے ہیں تقریروں میں بمہربانی انھیں کسی بحر میں کر دیں
الف عین — جنوری 19، 2020 4:17 صبح
یہ "مشہور" اشعار کس کے ہیں؟ کسی دوسرے کے اشعار پر اصلاح یہاں کرانے کی ضرورت نہیں۔ ایازی تو قافیہ بھی نہیں ہے، انہیں غزل کے اشعار کہا ہی نہیں جا سکتا
عابد علی خاکسار — جنوری 19، 2020 8:10 صبح
یہ "مشہور" اشعار کس کے ہیں؟ کسی دوسرے کے اشعار پر اصلاح یہاں کرانے کی ضرورت نہیں۔ ایازی تو قافیہ بھی نہیں ہے، انہیں غزل کے اشعار کہا ہی نہیں جا سکتا

سر میرے اپنے ہیں ۔۔۔ دو ہی شعر قطعہ کی صورت میں لکھے تھے آزادی عنوان سے مگر یہ کالج دور میں ۔۔ مگر بہت عام ہو گئے تو سوچا ان کی اصلاح ضروری ہے
عابد علی خاکسار — جنوری 20، 2020 12:13 شام
سر الف عین صاحب
الف عین — جنوری 20، 2020 4:08 شام
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے
یہ کس نے ڈال کر طوقِ غلامی اپنی گردن میں
بنا کر اپنے گلشن میں ہی فریادی رکھا شاید
زباں بندی بھی جاری( /زباں بھی بند کر دی)، فکر پر پابندیاں بھی ہیں
اسی کا نام آقاؤں نے آزادی رکھا شاید
عابد علی خاکسار — جنوری 21، 2020 7:22 صبح
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے
یہ کس نے ڈال کر طوقِ غلامی اپنی گردن میں
بنا کر اپنے گلشن میں ہی فریادی رکھا شاید
زباں بندی بھی جاری( /زباں بھی بند کر دی)، فکر پر پابندیاں بھی ہیں
اسی کا نام آقاؤں نے آزادی رکھا شاید
شکر سر اگر شائد کی جگہ ہے ہو تو مناسب نہیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 21، 2020 10:02 شام
شکر سر اگر شائد کی جگہ ہے ہو تو مناسب نہیں
شاید کی جگہ ہے رکھیں گے تو وزن کیسے پورا ہوگا؟ یہ اشعار بحر ہزج میں نہیں؟
عابد علی خاکسار — جنوری 22، 2020 11:21 صبح
شاید کی جگہ ہے رکھیں گے تو وزن کیسے پورا ہوگا؟ یہ اشعار بحر ہزج میں نہیں؟
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن کے وزن پر آ جاتا ہے
ہماری گردنوں میں ڈال کر طوق-غلامی
بنا کر اپنے گلشن میں ہی فریادی رکھا ہے
زباں بندی بھی جاری سوچ پر پابندیاں بھی
ہمارے آقاوں نے اسی کا نام آزادی رکھا ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 22، 2020 11:55 صبح
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن کے وزن پر آ جاتا ہے
ہماری گردنوں میں ڈال کر طوق-غلامی
بنا کر اپنے گلشن میں ہی فریادی رکھا ہے
زباں بندی بھی جاری سوچ پر پابندیاں بھی
ہمارے آقاوں نے اسی کا نام آزادی رکھا ہے
جناب، یہ تو آپ نے بحر بدل دی، جو ظاہر ہے آپ کی صوابدید ہے، میں تو بحر ہزج مثمن سالم کے تناظر میں عرض کر رہا تھا، جو استادِ محترم نے استعمال کی تھی۔
آخری مصرعہ دوبارہ دیکھ لیجئے، یہ آپ کی چنیدہ بحر کے وزن میں پورا نہیں آرہا۔ جزاک اللہ
دعاگو،
راحلؔ
عابد علی خاکسار — جنوری 22، 2020 4:53 شام
جناب، یہ تو آپ نے بحر بدل دی، جو ظاہر ہے آپ کی صوابدید ہے، میں تو بحر ہزج مثمن سالم کے تناظر میں عرض کر رہا تھا، جو استادِ محترم نے استعمال کی تھی۔
آخری مصرعہ دوبارہ دیکھ لیجئے، یہ آپ کی چنیدہ بحر کے وزن میں پورا نہیں آرہا۔ جزاک اللہ
دعاگو،
راحلؔ
اسی کا نام آقاوں نے آزادی رکھا ہے
شکریہ
الف عین — جنوری 23، 2020 5:52 صبح
میں نے آخری مصرعے کے کلیدی لفظ شاید کی وجہ سے ردیف میں شاید رکھنے کی کوشش کی تھی، شاید خاکسار نے خاکساری کی وجہ سے خود کوشش نہیں کی! بہر حال بغیر شاید کے بھی یہ قطعہ درست ہو گیا ہے
طوقِ ایازی کی ترکیب میں جدت سہی لیکن بحر میں بھی غلامی ہی آتا تھا اس لیے بدل دیا تھا
عابد علی خاکسار — جنوری 23، 2020 11:22 صبح
میں نے آخری مصرعے کے کلیدی لفظ شاید کی وجہ سے ردیف میں شاید رکھنے کی کوشش کی تھی، شاید خاکسار نے خاکساری کی وجہ سے خود کوشش نہیں کی! بہر حال بغیر شاید کے بھی یہ قطعہ درست ہو گیا ہے
طوقِ ایازی کی ترکیب میں جدت سہی لیکن بحر میں بھی غلامی ہی آتا تھا اس لیے بدل دیا تھا
بہت نوازش سر ۔ خاکساری اڑے تو نہیں آئی ۔۔ ناتجربہ کاری ۔۔۔۔ بہت شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110036/