آئی کے عمران — جنوری 29، 2020 12:14 شام
ایک پرانی غزل کچھ نئے اشعار کے ساتھ
عشق سے پہلے ہوئے سرشار ہم
اور پھر کہنے لگے اشعار ہم
شاعری کا سکھ کہاں ملتا ہمیں
ہجر کے سہتے نہ جو آزار ہم
عشق نے ہم کو بنایا کام کا
ورنہ ہوتے آدمی بے کار ہم
جو نہ ملتے تم سے بازی گر ہمیں
دوستو ہوتے کہاں ہشیار ہم
کاش دہرائے کہانی وقت پھر
اور نبھائیں قیس کا کردار ہم
دشت میں آ کے ملا دل کو سکوں
گلستاں میں پھرتے تھے بیزار ہم
ہم پہ احساں کا نہ احساں کیجیے
یہ اٹھا سکتے نہیں ہیں بار ہم
آئی کے عمران — جنوری 29، 2020 12:17 شام
ظہیراحمدظہیر — جنوری 29، 2020 5:11 شام
مطلع ہی ٹھیک نہیں ہے ۔ پہلا مصرع وزن سے خارج ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے۔ فی الوقت یہی کہہ سکتا ہوں ۔
آئی کے عمران — جنوری 30، 2020 5:44 صبح
مطلع ہی ٹھیک نہیں ہے ۔ پہلا مصرع وزن سے خارج ہے ۔ اسے دیکھ لیجئے۔ فی الوقت یہی کہہ سکتا ہوں ۔
بہت بہت شکریہ جناب
دوچار کی و کو میں نے گرایا نہیں تھا۔
چلیں مطلع بدل دیتا ہوں۔
اب غزل دیکھیے۔۔
بہت نوازش آپ کی۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 30، 2020 9:03 صبح
مکرمی
ظہیراحمدظہیر بھائی، آداب!
آپ نے مطلع کے پہلے مصرعے کے ناموزں ہونے کی نشاندہی کی تھی، جو مجھے سمجھ نہیں آسکی۔ اس لئے محض سیکھنے کی غرض سے درخواست ہے ذرا سی تفصیل عنایت فرمائیں۔ میں اس مصرعے کی تقطیع یوں کررہا ہوں، برائے مہربانی ذرا ایک نظر دیکھئے کہ کہاں غلطی پر ہوں۔ جزاک اللہ۔
عش ق سے پہ
فا ع لا تن
لے ہُ اے دو
فا ع لا تن
چا ر ہم
فا ع لن
دعاگو،
راحلؔ
آئی کے عمران — جنوری 30، 2020 10:19 صبح
مکرمی
ظہیراحمدظہیر بھائی، آداب!
آپ نے مطلع کے پہلے مصرعے کے ناموزں ہونے کی نشاندہی کی تھی، جو مجھے سمجھ نہیں آسکی۔ اس لئے محض سیکھنے کی غرض سے درخواست ہے ذرا سی تفصیل عنایت فرمائیں۔ میں اس مصرعے کی تقطیع یوں کررہا ہوں، برائے مہربانی ذرا ایک نظر دیکھئے کہ کہاں غلطی پر ہوں۔ جزاک اللہ۔
عش ق سے پہ
فا ع لا تن
لے ہُ اے دو
فا ع لا تن
چا ر ہم
فا ع لن
دعاگو،
راحلؔ
محترمی
محمّد احسن سمیع :راحل:
۔باقی اشعار پر آپ بے لاگ رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 30، 2020 4:12 شام
مکرمی
ظہیراحمدظہیر بھائی، آداب!
آپ نے مطلع کے پہلے مصرعے کے ناموزں ہونے کی نشاندہی کی تھی، جو مجھے سمجھ نہیں آسکی۔ اس لئے محض سیکھنے کی غرض سے درخواست ہے ذرا سی تفصیل عنایت فرمائیں۔ میں اس مصرعے کی تقطیع یوں کررہا ہوں، برائے مہربانی ذرا ایک نظر دیکھئے کہ کہاں غلطی پر ہوں۔ جزاک اللہ۔
عش ق سے پہ
فا ع لا تن
لے ہُ اے دو
فا ع لا تن
چا ر ہم
فا ع لن
دعاگو،
راحلؔ
دوچار ہونا ایک محاورہ ہے اور اس کے معنی ہیں آمنا سامنا ہونا ، ملاقات ہونا وغیرہ ۔ دُوچار فارسی لفظ ہے اور اس میں وائو معدولہ ہے ۔ یعنی اس وائو کو لکھا تو جاتا ہے لیکن پڑھا نہیں جاتا ۔ اس کا تلفظ بروزن بخار ، غبار، خمار وغیرہ ہے۔
راحل بھائی ، ایک اور چھوٹی سی بات یہ کہ تقطیع لکھتے وقت رکن کو اس کی اصل حالت میں لکھا جاتا ہے یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ۔۔ نہ کہ ۔۔۔ فاع لاتن اور فاع لن
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 30، 2020 4:17 شام
بہت شکریہ ظہیر بھائی، آپ کے طفیل ایک اور نیا نکتہ سیکھنے کو ملا۔ جزاک اللہ
راحل بھائی ، ایک اور چھوٹی سی بات یہ کہ تقطیع لکھتے وقت رکن کو اس کی اصل حالت میں لکھا جاتا ہے یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ۔۔ نہ کہ ۔۔۔ فاع لاتن اور فاع لن
جی ظہیر بھائی، اس بات سے واقف ہوں۔ یہاں عموما افاعیل کو منفصل اس لئے لکھتا ہوں کہ اگر اسقاط حروف میں کوئی غلطی کررہا ہوں تو آسانی سے پکڑ میں آجائے۔
دعاگو،
راحل۔
الف عین — فروری 1، 2020 7:47 صبح
اس کا ٹیگ مجھے نہیں ملا!
اچھی غزل ہے، بس
گلستاں میں پھرتے تھے بیزار ہم
پھرتے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں
پھر رہے تھے باغ میں.... کیا جا سکتا ہے
آئی کے عمران — فروری 2، 2020 12:02 شام
اس کا ٹیگ مجھے نہیں ملا!
اچھی غزل ہے، بس
گلستاں میں پھرتے تھے بیزار ہم
پھرتے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں
پھر رہے تھے باغ میں.... کیا جا سکتا ہے
بہت بہت شکریہ سر
بہت اچھی تجویز ہے۔
بہت نوازش
جزاک اللہ!