برائے اصلاح

عابد علی خاکسار — جنوری 29، 2020 7:28 شام
الف عین صاحب
وہ آئے گا پلٹ کر یہ یقیں تو ہے
وہی آخر مرے دل کا مکیں تو ہے
میں چاہوں گا اسے مت روکنا مجھکو
ستم گر ہی سہی لیکن حسیں تو ہے
مہک سے اس کی مہکا ہے کسی کا گھر
خوشی ہے وہ گل-لالہ کہیں تو ہے
نہ طعنہ دے مجھے خانہ بدوشی کا
ہے بنجر سی مگر میری زمیں تو ہے
الف عین — جنوری 30، 2020 5:34 صبح
مہک سے مہکنا؟ عجیب ترکیب ہے
اسی خوشبو سے مہکا.... کر دیں
آخری شعر میں خانہ بدوشی کا بنجر زمین سے ربط سمجھ میں نہیں آیا
باقی اشعار درست ہیں
عابد علی خاکسار — جنوری 30، 2020 6:27 شام
مہک سے مہکنا؟ عجیب ترکیب ہے
اسی خوشبو سے مہکا.... کر دیں
آخری شعر میں خانہ بدوشی کا بنجر زمین سے ربط سمجھ میں نہیں آیا
باقی اشعار درست ہیں
بہت نوازش سر گو کہ خانہ بدوش وہ ہے جس کا اپنا مکان نہ ہو لیکن عام یہی مفہوم لیا جاتا ہے جس کی اپنی زمین نہ ہو ۔۔۔ اس لیے
الف عین — جنوری 31، 2020 9:49 صبح
بہت نوازش سر گو کہ خانہ بدوش وہ ہے جس کا اپنا مکان نہ ہو لیکن عام یہی مفہوم لیا جاتا ہے جس کی اپنی زمین نہ ہو ۔۔۔ اس لیے
وہ تو مان لیا مگر سوال زمین کے بنجر ہونے سے تعلق کا تھا!
عابد علی خاکسار — جنوری 31، 2020 11:31 صبح
وہ تو مان لیا مگر سوال زمین کے بنجر ہونے سے تعلق کا تھا!
ھاھاھا سر زرخیز نہیں ہے جس میں کچھ بھی نہیں ہوتا برائے نام ہے ۔۔۔ گو کہ حاصل کچھ نہیں لیکن زمین تو ہے۔۔۔
الف عین — فروری 1، 2020 6:22 صبح
میرا مطلب یہ تھا کہ خانہ بدوشی کا راست مطلب محض شہر شہر بھٹکنے کا ہوتا ہے، زمین یا مکان کا مالک ہونے سے کوئی راست تعلق نہیں۔ اس لیے شعر میں ربط کی کمی ہے۔ بے زمینی کی بات ہوتی تو ضرور مانا جا سکتا تھا
عابد علی خاکسار — فروری 1، 2020 5:54 شام
میرا مطلب یہ تھا کہ خانہ بدوشی کا راست مطلب محض شہر شہر بھٹکنے کا ہوتا ہے، زمین یا مکان کا مالک ہونے سے کوئی راست تعلق نہیں۔ اس لیے شعر میں ربط کی کمی ہے۔ بے زمینی کی بات ہوتی تو ضرور مانا جا سکتا تھا
بہت نوازش سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110270/