غم کی وادی
دشمن نےاخیر کر دیا ہے
لہو سے کشمیر تر کیا ہے
ظلم وستم کی انتہاکرکے
پیمانہ صبر کا بھر دیا ہے
جنت جیسی وادی کو
قید میں تبدیل کر دیا ہے
خوراک اور دوا بند کر کے
انسانیت کا نیچاسرکیاہے
ظلمت کی کالی رات نے
ہر گھر میں گھر کیا ہے
ڈر ہے کہیں چلی نہ جائے
آزادی کو زنجیر کر دیا ہے
قراردادوں کوسبوتاژکرکے
ڈسٹ بنِ میں دَھر دیا ہے
معاہدے کو توڑ کر اس نے
کشمیر کا حصہ کر لیا ہے
اب آزادی کے متوالوں نے
باندھ کفن سر لیا ہے
آخری حد تک لڑیں گے ہم
خود سے وعدہ کر لیا ہے
سلام ہےمیراان ماِِؤں کو
جنہوں نے صبر کر لیا ہے
اپنے نو جواں بیٹو ں کو
آزادی کی نذر کر دیا ہے
اقوام عالم دیکھ رہا ہے
کسی نے نہ درد سر لیا ہے
سن کر حال اس وادی کا
دل اپنا غم گیں کر لیا ہے,,
دشمن نےاخیر کر دیا ہے
لہو سے کشمیر تر کیا ہے
ظلم وستم کی انتہاکرکے
پیمانہ صبر کا بھر دیا ہے
جنت جیسی وادی کو
قید میں تبدیل کر دیا ہے
خوراک اور دوا بند کر کے
انسانیت کا نیچاسرکیاہے
ظلمت کی کالی رات نے
ہر گھر میں گھر کیا ہے
ڈر ہے کہیں چلی نہ جائے
آزادی کو زنجیر کر دیا ہے
قراردادوں کوسبوتاژکرکے
ڈسٹ بنِ میں دَھر دیا ہے
معاہدے کو توڑ کر اس نے
کشمیر کا حصہ کر لیا ہے
اب آزادی کے متوالوں نے
باندھ کفن سر لیا ہے
آخری حد تک لڑیں گے ہم
خود سے وعدہ کر لیا ہے
سلام ہےمیراان ماِِؤں کو
جنہوں نے صبر کر لیا ہے
اپنے نو جواں بیٹو ں کو
آزادی کی نذر کر دیا ہے
اقوام عالم دیکھ رہا ہے
کسی نے نہ درد سر لیا ہے
سن کر حال اس وادی کا
دل اپنا غم گیں کر لیا ہے,,