Muhammad Ishfaq — فروری 11، 2020 10:25 صبح
تجھ پہ ہم اعتبار کیوں کرتے
اپنے دل کو فگار کیوں کرتے
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
پھر دل و جاں نثار کیوں کرتے
گر نہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتیں
لوگ چیخ و پکار کیوں کرتے
جس نے خوں کے رلا دیے آنسو
اس سے قول و قرار کیوں کرتے
جس سے امید ہی نہ اچھےکی ہو
ربط پھر استوار کیوں کرتے
جو چمن کو اجاڑ کر رکھ دے
اُس سے ذکرِ بہار کیوں کرتے
جس کو احساسِ غم نہیں شاکی
اُس پہ غم آشکار کیوں کرتے
الف عین — فروری 12، 2020 5:25 صبح
یہ درست تقطیع کی غزل ہے ماشاء اللہ، البتہ یہ احساس ہوا کہ اگر ردیف 'کیا کرتے' کر دی جائے تو بہتر تاثر دیتی یے۔
تجھ پہ ہم اعتبار کیوں کرتے
اپنے دل کو فگار کیوں کرتے
... درست
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
پھر دل و جاں نثار کیوں کرتے
... 'کرتے' فعل سے اگر فاعل 'ہم' فرض کیا جائے تو پہلے مصرع میں 'میری' سے شتر گربہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بہتر ہے مفہوم واضح کر کے کہیں
گر نہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتیں
لوگ چیخ و پکار کیوں کرتے
چیخ اور پکار کے درمیان واو عطف درست نہیں کہ پکار ہندی لفظ ہے
لوگ اتنی پکار... بہتر ہو گا
جس نے خوں کے رلا دیے آنسو
اس سے قول و قرار کیوں کرتے
.. درست
جس سے امید ہی نہ اچھےکی ہو
ربط پھر استوار کیوں کرتے
... اچھک ہو' تقطیع ہوتا ہے، ے کا اسقاط درست نہیں، دوسرے مصرعے میں بھی کس سے ربط؟ اس کا سوال اٹھتا ہے
یوں کہا جا سکتا ہے
جس سے امید ہو نہ اچھے کی
اس سے رثط استوار کیوں کرتے
جو چمن کو اجاڑ کر رکھ دے
اُس سے ذکرِ بہار کیوں کرتے
... درست
جس کو احساسِ غم نہیں شاکی
اُس پہ غم آشکار کیوں کرتے
... شاکی تخلص ہے؟ درست ہے شعر، غم نہیں کی بہ نسبت 'غم نہ ہو' بہتر لگتا ہے مجھے
Muhammad Ishfaq — فروری 12، 2020 12:50 شام
یہ درست تقطیع کی غزل ہے ماشاء اللہ، البتہ یہ احساس ہوا کہ اگر ردیف 'کیا کرتے' کر دی جائے تو بہتر تاثر دیتی یے۔
تجھ پہ ہم اعتبار کیوں کرتے
اپنے دل کو فگار کیوں کرتے
... درست
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
پھر دل و جاں نثار کیوں کرتے
... 'کرتے' فعل سے اگر فاعل 'ہم' فرض کیا جائے تو پہلے مصرع میں 'میری' سے شتر گربہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بہتر ہے مفہوم واضح کر کے کہیں
گر نہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتیں
لوگ چیخ و پکار کیوں کرتے
چیخ اور پکار کے درمیان واو عطف درست نہیں کہ پکار ہندی لفظ ہے
لوگ اتنی پکار... بہتر ہو گا
جس نے خوں کے رلا دیے آنسو
اس سے قول و قرار کیوں کرتے
.. درست
جس سے امید ہی نہ اچھےکی ہو
ربط پھر استوار کیوں کرتے
... اچھک ہو' تقطیع ہوتا ہے، ے کا اسقاط درست نہیں، دوسرے مصرعے میں بھی کس سے ربط؟ اس کا سوال اٹھتا ہے
یوں کہا جا سکتا ہے
جس سے امید ہو نہ اچھے کی
اس سے رثط استوار کیوں کرتے
جو چمن کو اجاڑ کر رکھ دے
اُس سے ذکرِ بہار کیوں کرتے
... درست
جس کو احساسِ غم نہیں شاکی
اُس پہ غم آشکار کیوں کرتے
... شاکی تخلص ہے؟ درست ہے شعر، غم نہیں کی بہ نسبت 'غم نہ ہو' بہتر لگتا ہے مجھے
بہت بہت شکریہ آپ نے بہت اچھے سے راہنمائی کی۔بندہ کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔
Muhammad Ishfaq — فروری 12، 2020 1:18 شام
اصلاح کے بعد
تجھ پہ ہم اعتبار کیوں کرتے
اپنے دل کو فگار کیوں کرتے
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
گر نہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتیں
لوگ اتنی پکار کیوں کرتے
جس نے خوں کے رلا دیے آنسو
اس سے قول و قرار کیوں کرتے
جس سے امید ہو نہ اچھے کی
اس سے ربط استوار کیوں کرتے
جو چمن کو اجاڑ کر رکھ دے
اُس سے ذکرِ بہار کیوں کرتے
جس کو احساسِ غم نہ ہو شاکی
اُس پہ غم آشکار کیوں کرتے
Muhammad Ishfaq — فروری 12، 2020 5:22 شام
اصلاح کے بعد
تجھ پہ ہم اعتبار کیوں کرتے
اپنے دل کو فگار کیوں کرتے
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
گر نہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتیں
لوگ اتنی پکار کیوں کرتے
جس نے خوں کے رلا دیے آنسو
اس سے قول و قرار کیوں کرتے
جس سے امید ہو نہ اچھے کی
اس سے ربط استوار کیوں کرتے
جو چمن کو اجاڑ کر رکھ دے
اُس سے ذکرِ بہار کیوں کرتے
جس کو احساسِ غم نہ ہو شاکی
اُس پہ غم آشکار کیوں کرتے
پرورش کا جو مول ہی پا لے
اس کو رب شمار کیوں کرتے
جب ترے آنے کی امید نہ ہو
ہم ترا انتظار کیوں کرتے
ان اشعار کی بھی اصلاح کردیجئے گا۔
شکریہ ۔
دعا گو ۔
محمداشفاق
الف عین — فروری 13، 2020 4:24 صبح
پرورش کا جو مول ہی پا لے
اس کو رب شمار کیوں کرتے
.. کیا کہنا چاہتے ہیں؟ سمجھ نہیں سکا 'مول' بمعنی قیمت؟ دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے
پھر اسے رب شمار کیوں کرتے
ہو سکتا ہے، اس کا مطلب جو بھی ہو۔
جب ترے آنے کی امید نہ ہو
ہم ترا انتظار کیوں کرتے
.. درست
البتہ
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
مفہوم سے عاری ہو گیا ہے
Muhammad Ishfaq — فروری 13، 2020 7:41 صبح
پرورش کا جو مول ہی پا لے
اس کو رب شمار کیوں کرتے
.. کیا کہنا چاہتے ہیں؟ سمجھ نہیں سکا 'مول' بمعنی قیمت؟ دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے
پھر اسے رب شمار کیوں کرتے
ہو سکتا ہے، اس کا مطلب جو بھی ہو۔
جب ترے آنے کی امید نہ ہو
ہم ترا انتظار کیوں کرتے
.. درست
البتہ
جن کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
مفہوم سے عاری ہو گیا ہے
وہ ‘‘ کی جگہ ‘‘ہم ’’ٹھیک رہے گا؟
ہم دل و جان نثار کیوں گرتے
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 13، 2020 8:30 صبح
وہ ‘‘ کی جگہ ‘‘ہم ’’ٹھیک رہے گا؟
ہم دل و جان نثار کیوں گرتے
ہم کہیں گے تو شتر گربہ در آئے گا۔
Muhammad Ishfaq — فروری 13، 2020 10:40 صبح
ہم کہیں گے تو شتر گربہ در آئے گا۔
ان کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
Muhammad Ishfaq — فروری 13، 2020 10:41 صبح
ان کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
سر ! کیا اس طرح ٹھیک ہے ؟
الف عین — فروری 14، 2020 9:00 صبح
ان کو میری خوشی گوارا نہیں
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
مفہوم میری سمجھ میں تو نہیں آ سکا، محض 'جن' کو 'ان' سے بدلنے کے علاوہ تو کچھ تبدیلی نہیں ہے
Muhammad Ishfaq — فروری 15، 2020 1:51 صبح
مفہوم میری سمجھ میں تو نہیں آ سکا، محض 'جن' کو 'ان' سے بدلنے کے علاوہ تو کچھ تبدیلی نہیں ہے
مجھ سے ملنا جسے گوارا نہ ہو
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
اب دیکھیں
الف عین — فروری 15، 2020 6:35 صبح
مجھ سے ملنا جسے گوارا نہ ہو
وہ دل و جاں نثار کیوں کرتے
اب دیکھیں
وہ مراد محبوب؟ یہ تو زبردستی ہے کہ محبوب کو مجبور کیا جائے کہ وہ آپ کے عشق میں شہید ہو جائے!
Muhammad Ishfaq — فروری 15، 2020 10:17 صبح
برائے مہربانی درستی فرمادیں۔
Muhammad Ishfaq — فروری 15، 2020 1:59 شام
کیا باقی تمام اشعار ٹھیک ہیں؟
الف عین — فروری 16، 2020 5:37 صبح
باقی اشعار تو اصلاح کے ضمن میں جو مشورے دیے تھے، وہ تم قبول کر چکے، اس لیے درست ہی ہیں۔ بعد میں دو اشعار مزید پوسٹ کیے تھے، ان میں بھی ایک درست قرار دیا تھا۔ شمار اور نثار قوافی والے شعر درست نہیں ہوئے ہیں، باقی درست ہیں
Muhammad Ishfaq — فروری 16، 2020 11:38 صبح
باقی اشعار تو اصلاح کے ضمن میں جو مشورے دیے تھے، وہ تم قبول کر چکے، اس لیے درست ہی ہیں۔ بعد میں دو اشعار مزید پوسٹ کیے تھے، ان میں بھی ایک درست قرار دیا تھا۔ شمار اور نثار قوافی والے شعر درست نہیں ہوئے ہیں، باقی درست ہیں
غزل میں کم از کم کتنے اشعار ہونے چاہیئے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 16، 2020 1:38 شام
کم از کم چار تو ہوں، پانچ سے سات کا عدد نہایت مناسب رہتا ہے۔