Muhammad Ishfaq — فروری 15، 2020 12:34 صبح
حمد باری تعالی
ہر سو ہے تو اور یکتا ہے تو
اور خالق ارض و سما ہے تو
اور شان ہے بے پایاں تیری
جو لائقِ حمد و ثنا ہے تو
ظاہر میں تو ہے باطن میں تو
ہر شے میں جلوہ نما ہے تو
پایا ہے جس سے آنکھوں نے نور
جس نے دی دل کو ضیا ہے تو
چارہ گروں میں سب سے برتر
اور سب مرضوں کی دوا ہے تو
اندھیرے میں تو سویرے میں تو
دکھ سکھ میں میرا سہارا ہے تو
الف عین — فروری 15، 2020 7:30 صبح
اس کی بھی بحر درست نہیں۔ پہلے مصرع میں 'اک' کا اضافہ کرنے سے فعولن فعولن فعولن فعولن وزن میں آ جاتا ہے
ہر اک سو ہے تو اور تنہا ہے تو
باقی بھی اسی وزن میں کہنے کی کوشش کریں
Muhammad Ishfaq — فروری 29، 2020 1:43 شام
اس کی بھی بحر درست نہیں۔ پہلے مصرع میں 'اک' کا اضافہ کرنے سے فعولن فعولن فعولن فعولن وزن میں آ جاتا ہے
ہر اک سو ہے تو اور تنہا ہے تو
باقی بھی اسی وزن میں کہنے کی کوشش کریں
ہر سو ہے تو اور یکتا ہے تو
بحرِ زمزمہ/ متدارک مربع مضاعف
فعْلن فَعِلن فعْلن فعْلن
ہر =
سو =
ہے -
تو -
اور =
یکتا ==
ہے =
تو =
الف عین — مارچ 1، 2020 2:52 صبح
شاید 'ہے تو اور' کو فعلن سے تقطیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنہ ہِ تُ اُر، یہ غیر ضروری اسقاط کے ذیل میں آئے گا
'اور' کو ہمیشہ مکمل باندھنے کی کوشش کریں اور اسی طرح ضمیر والا تُو بھی مکمل ہو۔
Muhammad Ishfaq — مارچ 1، 2020 6:15 شام
شاید 'ہے تو اور' کو فعلن سے تقطیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنہ ہِ تُ اُر، یہ غیر ضروری اسقاط کے ذیل میں آئے گا
'اور' کو ہمیشہ مکمل باندھنے کی کوشش کریں اور اسی طرح ضمیر والا تُو بھی مکمل ہو۔
شکریہ سر کوشش کرتا ہوں