برائے اصلاح

بدر القادری — فروری 15، 2020 12:54 شام
السّلامُ علیکم
خراب حالوں میں قولِ مثال ہونا ہے
اب اس طرح سے ہمیں پائمال ہونا ہے
جفا میں تم کو اگر بے مثال ہونا ہے
جنوں میں ہم کو بہت پائمال ہونا ہے
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
اسی کو بڑھکے کسی دن وبال ہونا ہے
قریں ہے منزلِ مقصود راہبر سے کہو
یہیں پہ ذوقِ سفر کو نڈھال ہونا ہے
ہوائیں آکے اُڑاتی ہیں سُرخ عارض پر
ہمیں بھی گیسوئے جاناں کا بال ہونا ہے
ہزار زور ہو سورج کا، شام لازم ہے
کوئی عروج ہو آخر زوال ہونا ہے
ادا و ناز سے برباد کر رہا ہے کوئی
خلوصِ دل سے ہمیں پائمال ہونا ہے
تمام اساتذہ حضرات سے گزارش ہے کہ برائے کرم اصلاح فرمادیجیے۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 15، 2020 1:00 شام
اسّلامُ علیکم
خراب حالوں میں قولِ مثال ہونا ہے
اب اس طرح سے ہمیں پائمال ہونا ہے
جفا میں تم کو اگر بے مثال ہونا ہے
جنوں میں ہم کو بہت پائمال ہونا ہے
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
اسی کو بڑھکے کسی دن وبال ہونا ہے
قریں ہے منزلِ مقصود راہبر سے کہو
یہیں پہ ذوقِ سفر کو نڈھال ہونا ہے
ہوائیں آکے اُڑاتی ہیں سُرخ عارض پر
ہمیں بھی گیسوئے جاناں کا بال ہونا ہے
ہزار زور ہو سورج کا، شام لازم ہے
کوئی عروج ہو آخر زوال ہونا ہے
ادا و ناز سے برباد کر رہا ہے کوئی
خلوصِِ دل سے ہمیں پائمال ہونا ہے
تمام اساتذہ حضرات سے گزارش ہے کہ برائے کرم اصلاح فرمادیجیے۔
خوب صورت غزل ہے جناب۔ داد قبول فرمائیے۔
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
اسی کو بڑھکے کسی دن وبال ہونا
پہلا مصرع درست نہیں، شاید ٹائیپو ہے۔ درست فرمالیجیے!
بدر القادری — فروری 15، 2020 1:13 شام
خوب صورت غزل ہے جناب۔ داد قبول فرمائیے۔
پہلا مصرع درست نہیں، شاید ٹائیپو ہے۔ درست فرمالیجیے!
حوصلہ افزائی کا شکرہی
میں سمجھا نہیں
تھوڑی وضاحت فرما دیجیے
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 15، 2020 1:23 شام
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
مندرجہ بالا مصرع " مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن پر تقطیع نہیں ہورہا۔
بدر القادری — فروری 15، 2020 2:37 شام
مندرجہ بالا مصرع " مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن پر تقطیع نہیں ہورہا۔
یوں اصلاح کی ہے کہ
نگاہ کا یہ تصادم
یا
نگاہوں کا یہ تصادم اک اتفاق سہی
کیا درست ہوگا
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 15، 2020 2:48 شام
یوں اصلاح کی ہے کہ
نگاہ کا یہ تصادم
یا
نگاہوں کا یہ تصادم اک اتفاق سہی
کیا درست ہوگا
ہماری صلاح
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
اسی کو بڑھکے کسی دن وبال ہونا ہے

نگاہوں کا یہ تصادم ہے اتفاق ابھی
اسی کو بڑھ کے کسی دِن وبال ہونا ہے
بدر القادری — فروری 15، 2020 3:28 شام
ہماری صلاح
نگاہوں کا یہ تصادم ہے اتفاق ابھی
اسی کو بڑھ کے کسی دِن وبال ہونا ہے
بہت اچھا۔
باقی اشعار پر کوئی رائ ؟
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 15، 2020 3:33 شام
بہت اچھا۔
باقی اشعار پر کوئی رائ ؟
اپنی رائے تو ہم پہلے ہی دے چکے
خوب صورت غزل ہے جناب۔ داد قبول فرمائیے۔
بدر القادری — فروری 15، 2020 4:29 شام
ایک تازہ غزل کو مکمل ہوئی نہیں ابھی اسکے دو اشعار پر کچھ تشکیک سی ہے۔ آپ نظر ڈال کر اپنی رائے دے دیں تو عنایت ہو۔
ہزار وعدے ہو آنے کے، پر یہ دعویٰ ہے
ہمارے سر کی قسم آپ کھا نہیں سکتے
______________________________
کریں فضول میں محنت نہ چارہ گر برباد
مریضِ عشق کو ہرگز بچا نہیں سکتے
الف عین — فروری 16، 2020 6:55 صبح
نگاہوں کا یہ تصادم اک اتفاق سہی
یا
نگاہوں کا یہ تصادم ہے اتفاق ابھی
دونوں مصرعوں میں نگاہوں کی 'ون' کا اسقاط اچھا نہیں ۔ یعنی محض 'نگاہُ' تقطیع ہو رہا ہے۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
نئے اشعار دوسرے نئے تھریڈ میں پوسٹ کیے جائیں تو بہتر ہے۔ بہر حال ان اشعار میں دوسرا درست ہے، پہلے مین 'پر' بمعنی لیکن فصیح نہیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 16، 2020 8:13 صبح
جناب بدرؔ صاحب، آداب!
ماشاء اللہ بہت اچھی غزل ہے، جو آپ کی مشق کی پختگی کا پتہ دیتی ہے۔
اگر برا نہ مانیں تو ایک دو مشورے گوشِ گزار کرنے کی جسارت کروں گا۔
حسنِ مطلع میں پائمال کا کا دوبارہ آنا اچھ نہیں لگ رہا۔ وزن کی بندش ہے، وگرنہ دوسرے مصرعے میں اگر جفا کی مثال کے مقابل جنوں میں صاحبِ کمال ہونا مناسب ہوتا۔
ہے اتفاق نگاہوں کا تصادم لیکن
اسی کو بڑھکے کسی دن وبال ہونا ہے
پہلے مصرعے کو اگر یوں کہا جائے تو؟
گو اتفاق ہے نظروں کا ایسے لڑجانا۔۔۔
ہزار زور ہو سورج کا، شام لازم ہے
کوئی عروج ہو آخر زوال ہونا ہے
’’کوئی عروج ہو‘‘ کی بجائے ’’کہ ہر عروج کا‘‘ کہا جائے تو؟ اگر تقابل ردیفین سے بچ سکیں تو شعر مزید بہتر ہوجائے گا۔
ہوائیں آکے اُڑاتی ہیں سُرخ عارض پر
ہمیں بھی گیسوئے جاناں کا بال ہونا ہے
اس شعر میں حرف ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
دعاگو،
راحلؔ
بدر القادری — فروری 18، 2020 4:59 صبح
اسّلامُ علیکم ورحمتہ اللہ علیہ
نطق عاجز ہے آپ حضرات کی عنایات و کرم کےآگے۔اور یہ جو عاجزی ہے نا کمبخت نطق و دہن پر قفل مار دیتی ہے۔
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے ک....​
نہیں نہیں یہ شعر اس موقع کے لیے موزوں نہیں۔درست بات تو یہ ہوگی کہ میں خود کوئی شعر کہوں اور خدمتِ دوستاں میں پیش کروں۔
بدر القادری​
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 18، 2020 6:27 صبح
اسّلامُ علیکم ورحمتہ اللہ علیہ
نطق عاجز ہے کہ آپ حضرات نایات و کرم کےآگے۔اور یہ جو عاجزی ہے نا کمبخت نطق و دہن پر قفل مار دیتی ہے۔
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے ک....​
نہیں نہیں یہ شعر اس موقع کے لیے موزوں نہیں۔درست بات تو یہ ہوگی کہ میں خود کوئی شعر کہوں اور خدمتِ دوستاں میں پیش کروں۔
بدر القادری​
سمجھ نہیں آرہا کہ آپ کے مراسلے کے لئے "پسندیدہ" کا بٹن دباوں یا "معلوماتی" کا! :) :) :)
اس قدر ثقیل اردو!!! :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110510/