پانی پر حباب سی
تیرا جو شباب سی
میرا جو خیال تھا
وہ تو اک سراب سی
زندگی یوں گزری ہے
جیسے احتساب سی
وہ تو کوئی اور تھا
یوں لگا جناب سی
رات بھی اندھیری تھی
رستہ بھی خراب سی
اپنے کیوں خفا ہوئے
میں کھلی کتاب سی
فرش پر جو حبس ہے
عرش پر سحاب سی
محمد احسن سمیع راحلؔ — فروری 23، 2020 8:29 شام
ردیف سمجھ نہیں آرہا، کہیں اردو کے "جیسا" کے معنی میں آرہا ہے تو کہیں پنجابی والا "سی" محسوس ہوتا ہے! دوسرے یہ کہ جس بحر میں طبع آزمائی کی ہے وہ بھی لکھ دیں۔
ردیف سمجھ نہیں آرہا، کہیں اردو کے "جیسا" کے معنی میں آرہا ہے تو کہیں پنجابی والا "سی" محسوس ہوتا ہے! دوسرے یہ کہ جس بحر میں طبع آزمائی کی ہے وہ بھی لکھ دیں۔
گویا راحل بھائی کا شبہ درست ثابت ہوا، آپ نے اردو اور پنجابی کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ مزاحیہ نظم میں تو شاید ایسا کرنا جائز ہوتا لیکن سنجیدہ اردو شاعری میں مناسب نہیں کہ اردو میں پنجابی کی ملاوٹ کریں۔ جہاں جہاں آپ نے پنجابی لفظ ’’سی‘‘ استعمال کیا ہے وہاں تھا یا تھی کا محل ہے۔ بعض جگہوں پر آپ نے اپنے بیان کے مطابق جیسا یا جیسی کے معنوں میں استعمال کیا ہے، وہاں آپ کو مصرع تبدیل کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی بہت سے مصرعے وزن میں نہیں۔
ردیف سمجھ نہیں آرہا، کہیں اردو کے "جیسا" کے معنی میں آرہا ہے تو کہیں پنجابی والا "سی" محسوس ہوتا ہے! دوسرے یہ کہ جس بحر میں طبع آزمائی کی ہے وہ بھی لکھ دیں۔
صرف ( فاعلن مفاعلن) یہ کوئی معروف بحر تو نہیں لگتی۔سی کی جگہ تھا لکھا جائے تو اکثر مصرعوں میں بات قابلِ فہم بن سکتی ہے لیکن بحر کا مسئلہ پھر بھی رہے گا
صرف ( فاعلن مفاعلن) یہ کوئی معروف بحر تو نہیں لگتی۔سی کی جگہ تھا لکھا جائے تو اکثر مصرعوں میں بات قابلِ فہم بن سکتی ہے لیکن بحر کا مسئلہ پھر بھی رہے گا
پنجابی "سی" اردو کے "تھا/تھے" کے معنی استعمال ہوتا ہے
اردو میں "سی" ۔۔۔ "جیسی" کے معنی میں آتا ہے۔
جیسا کہ میر کا مشہور مصرعہ ہے
پنکھڑی اک گلاب کی "سی" ہے یہاں "سی" سے مراد "جیسی" ہے۔
جی ہاں۔ اساتذہ کرام کے ساتھ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں۔
Muhammad Ishfaq — فروری 24، 2020 7:42 صبح
پانی پر حباب تھا
تیرا جو شباب تھا
میرا جو خیال تھا
وہ تو اک سراب تھا
زندگی یوں گزری ہے
جیسے احتساب تھا
وہ تو کوئی اور تھا
یوں لگا جناب تھا
رات بھی اندھیری تھی
رستہ بھی خراب تھا
اپنے کیوں خفا ہوئے
میں کھلی کتاب تھا
فرش پر جو حبس ہے
عرش پر سحاب تھا
سر ! در اصل میں نے تو ‘‘سی ’’ اردو لفظ سمجھ کر استعمال کیاتھا ۔میرے ذہن میں نہیں آیا کہ یہ پنجابی لفظ ہے۔آگے آپ جو راہنمائی فرمائیں۔مجھے کیا کرنا ہے۔
پانی پر حباب تھا
تیرا جو شباب تھا
میرا جو خیال تھا
وہ تو اک سراب تھا
زندگی یوں گزری ہے
جیسے احتساب تھا
وہ تو کوئی اور تھا
یوں لگا جناب تھا
رات بھی اندھیری تھی
رستہ بھی خراب تھا
اپنے کیوں خفا ہوئے
میں کھلی کتاب تھا
فرش پر جو حبس ہے
عرش پر سحاب تھا
معزز اساتذہ اکرام !
برائے مہربانی اس پر بھی اپنی رائے کا اظہارکریں اور راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
الف عین — فروری 27، 2020 4:48 صبح
شروع میں تو میں یہی سمجھا تھا کہ شاید عزیزی اشفاق پٹھان واقع ہوئے ہیں جو مذکر کی صورت میں بھی 'سا' کی جگی 'سی' استعمال کر گئے ہیں ۔ معلوم یہ ہوا کہ غیر پنجابی ہونے کی وجہ سے میرے فرشتوں کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ پنجابی کا لفظ ہو سکتا ہے حالانکہ میں جانتا تھا کہ سی پنجابی میں تھا، تھی کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی اردو شاعری میں کر سکتا ہے، یہ گمان سے باہر تھا۔ میں نے تو اسے ہر جگہ 'جیسی' کے معنی میں لیا تھا۔
بہر حال اب تو 'تھا' ردیف ہے۔ اس لیے وہ بحث ختم!
پانی پر حباب تھا
تیرا جو شباب تھا
.. فاعلم مفاعلن کے افاعیل پر حروف کے اسقاط سے ہی درست باندھا جا سکتا ہے جو ہر جگہ گوارا نہیں کیا جا سکتا
آب پر حباب تھا
جو ترا شباب تھا
بہتر یو گا میرا جو خیال تھا
وہ تو اک سراب تھا
... ٹھیک، پہلا مصرع 'جو مرا' کہیں تو وہی معنی نکل سکتے ہیں؟ زندگی یوں گزری ہے
جیسے احتساب تھا
... یہ عجز بیان کا شکار ہے۔ زندگی خود احتساب نہیں، اس کا گزرنا 'ایک' احتساب ہو سکتا ہے۔ وہ تو کوئی اور تھا
یوں لگا جناب تھا
... جناب کے ساتھ 'تھا' کا استعمال بیک وقت تعظیم و تحقیر لگتا ہے، اس شعر کو نکال ہی دیں رات بھی اندھیری تھی
رستہ بھی خراب تھا
اندھیری کی ی اور رستہ کی ہ کا اسقاط ناگوار لگتا ہے اپنے کیوں خفا ہوئے
میں کھلی کتاب تھا
.. دوسرا مصرع عجز بیان ہے، مکمل بات 'میں تو ایک کھلی کتاب تھا'
ہونا چاہیے تھا فرش پر جو حبس ہے
عرش پر سحاب تھا
.. فرش و عرش سے مراد زمین و آسمان ہر جگہ نہیں لیا جا سکتا
شروع میں تو میں یہی سمجھا تھا کہ شاید عزیزی اشفاق پٹھان واقع ہوئے ہیں جو مذکر کی صورت میں بھی 'سا' کی جگی 'سی' استعمال کر گئے ہیں ۔ معلوم یہ ہوا کہ غیر پنجابی ہونے کی وجہ سے میرے فرشتوں کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ پنجابی کا لفظ ہو سکتا ہے حالانکہ میں جانتا تھا کہ سی پنجابی میں تھا، تھی کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی اردو شاعری میں کر سکتا ہے، یہ گمان سے باہر تھا۔ میں نے تو اسے ہر جگہ 'جیسی' کے معنی میں لیا تھا۔
بہر حال اب تو 'تھا' ردیف ہے۔ اس لیے وہ بحث ختم!
پانی پر حباب تھا
تیرا جو شباب تھا
.. فاعلم مفاعلن کے افاعیل پر حروف کے اسقاط سے ہی درست باندھا جا سکتا ہے جو ہر جگہ گوارا نہیں کیا جا سکتا
آب پر حباب تھا
جو ترا شباب تھا
بہتر یو گا میرا جو خیال تھا
وہ تو اک سراب تھا
... ٹھیک، پہلا مصرع 'جو مرا' کہیں تو وہی معنی نکل سکتے ہیں؟ زندگی یوں گزری ہے
جیسے احتساب تھا
... یہ عجز بیان کا شکار ہے۔ زندگی خود احتساب نہیں، اس کا گزرنا 'ایک' احتساب ہو سکتا ہے۔ وہ تو کوئی اور تھا
یوں لگا جناب تھا
... جناب کے ساتھ 'تھا' کا استعمال بیک وقت تعظیم و تحقیر لگتا ہے، اس شعر کو نکال ہی دیں رات بھی اندھیری تھی
رستہ بھی خراب تھا
اندھیری کی ی اور رستہ کی ہ کا اسقاط ناگوار لگتا ہے اپنے کیوں خفا ہوئے
میں کھلی کتاب تھا
.. دوسرا مصرع عجز بیان ہے، مکمل بات 'میں تو ایک کھلی کتاب تھا'
ہونا چاہیے تھا فرش پر جو حبس ہے
عرش پر سحاب تھا
.. فرش و عرش سے مراد زمین و آسمان ہر جگہ نہیں لیا جا سکتا
محترمی ومکرمی الف عین صاحب !
راہنمائی کے لیے بہت بہت شکریہ۔ بس یوں سمجھیے ابھی ہم طفلِ مکتبِ ادب ہیں آپ کی راہنمائی میں سیکھ رہے ہیں۔
Muhammad Ishfaq — فروری 28، 2020 2:14 صبح
آ تے آ تے ٹل گیا
جو بڑا عذاب تھا
چہرہ کیسے دیکھتا
منہ پر نقاب تھا
ان اشعار پر بھی اپنی راہنمائی سے نوازیں۔
الف عین — فروری 28، 2020 8:57 صبح
آ تے آ تے ٹل گیا
جو بڑا عذاب تھا
... درست چہرہ کیسے دیکھتا
منہ پر نقاب تھا
... دوسرا مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے
رخ پہ اک نقاب تھا
یا
رخ پہ جو....
سے درست ہو سکتا ہے
آ تے آ تے ٹل گیا
جو بڑا عذاب تھا
... درست چہرہ کیسے دیکھتا
منہ پر نقاب تھا
... دوسرا مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے
رخ پہ اک نقاب تھا
یا
رخ پہ جو....
سے درست ہو سکتا ہے