برائے اصلاح

بدر القادری — مارچ 15، 2020 2:20 شام
اب کیا کہوں کہ ربط ہے کیا آبلوں کے ساتھ
میلوں سفر کیا ہے انھیں دوستوں کے ساتھ
زاہد بھی سیکھ جائیںگے آدابِ بندگی
بیٹھینگے چند روز اگر مے کشوں کے ساتھ
مر کر بھی اپنی صحرا نوردی نہ مر سکی
اُڑ اُڑ کے خاک جاتی رہی قافلوں کے ساتھ
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ
یہ کم نہیں کہ راہ کی ظلمت مٹا گئے
کیا غم ہے جل گئے ہیں اگر مشعلوں کے ساتھ
سر دےکے سرفراز ہیں راہِ وفا میں جو
اپنا بھی ہو مآل اُنہیں "بےسروں" کے ساتھ​
اساتذہ کرام و دیگر محفلین سے اصلاح کی درخواست ہے۔
والاسّلام
بدر القادری​
فاخر — مارچ 15، 2020 2:51 شام
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافر
اس مصرعہ پر ذرا توجہ دیں!! ذرا پڑھنے میں ’’بَن‘‘ نہیں رہا ہے، روانی متأثر ہورہی ہے۔
مجموعی طور پر غزل اچھی ہے ، ویسے اساتذہ کرام اس کے متعلق بتائیں گے۔
شکیل احمد خان23 — مارچ 15، 2020 3:00 شام
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافر
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ
میلوں سفر کیا ہے انھیں دوستوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نون غنہ رہ گیا تھا
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی ی رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔تو یہ غلطیاں ٹائپنگ کی تھیں مگر شاعری لاجواب ہے ،باعتبارِ مضامین اور بلحاظ بندشِ الفاظ ازروئے بحرمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف۔۔۔۔۔۔۔۔واہ بدر صاحب ماشاء اللہ۔اساتذہ کرام بہتررائے دے سکیں گے تو باقی چیزیں اُنہیں پر چھوڑتے ہیں۔۔۔۔۔والسلام
بدر القادری — مارچ 15، 2020 3:12 شام
اس مصرعہ پر ذرا توجہ دیں!! ذرا پڑھنے میں ’’بَن‘‘ نہیں رہا ہے، روانی متأثر ہورہی ہے۔
مجموعی طور پر غزل اچھی ہے ، ویسے اساتذہ کرام اس کے متعلق بتائیں گے۔
شکریہ فاخر صاحب، عنایت آپ کی۔
بدر القادری — مارچ 15، 2020 3:17 شام
میلوں سفر کیا ہے انھیں دوستوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نون غنہ رہ گیا تھا
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی ی رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔تو یہ غلطیاں ٹائپنگ کی تھیں مگر شاعری لاجواب ہے ،باعتبارِ مضامین اور بلحاظ بندشِ الفاظ ازروئے بحرمضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف۔۔۔۔۔۔۔۔واہ بدر صاحب ماشاء اللہ۔اساتذہ کرام بہتررائے دے سکیں گے تو باقی چیزیں اُنہیں پر چھوڑتے ہیں۔۔۔۔۔والسلام
شکریہ شکیل صاحب نشاندہی اور ذرہ نوازی کا۔
الف عین — مارچ 16، 2020 5:13 صبح
خوب غزل ہے ماشاء اللہ، بس مقطع پر دو ایک باتیں
مآل یا انجام کسی کے ساتھ ہونا محاورہ نہیں۔ حشر ہو سکتا ہے، یا جزا و سزا یو سکتی ہے
"بے سروں" میں س پر زبر ضرور لگائیں ورنہ کوئی مجھ جیسا اسے بے سُروں بھی پڑھ سکتا ہے
بدر القادری — مارچ 16، 2020 7:26 صبح
خوب غزل ہے ماشاء اللہ، بس مقطع پر دو ایک باتیں
مآل یا انجام کسی کے ساتھ ہونا محاورہ نہیں۔ حشر ہو سکتا ہے، یا جزا و سزا یو سکتی ہے
"بے سروں" میں س پر زبر ضرور لگائیں ورنہ کوئی مجھ جیسا اسے بے سُروں بھی پڑھ سکتا ہے
بہت بہت شکر گزاری کہ احقر کی حقیر کاوش کو آپ نے سراہا۔استاذ الف عین صاحب آپ کی فرمودہ صلاح پر دھیان رکھونگا کہ آیندہ بیانِ مضمون کے خبط زبان و ادب دامن چاک نہ ہو۔
والسلام
شکیل احمد خان23 — مارچ 16، 2020 8:10 صبح
بہت بہت شکر گزاری کہ احقر کی حقیر کاوش کو آپ نے سراہا۔استاذ الف عین صاحب آپ کی فرمودہ صلاح پر دھیان رکھونگا کہ آیندہ بیانِ مضمون کے خبط زبان و ادب دامن چاک نہ ہو۔
والسلام
۔۔۔۔۔۔کہ آیندہ بیانِ مضمون کے خبط میں زبان و ادب کا دامن چاک نہ ہو
بدر صاحب محترمی !
برا نہ مانیے گا۔۔۔۔۔۔میری اصلاح بھی فرماتے رہیں تو یہ عاجز آپ کا تہہِ دل سے ممنون رہیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دل سے معترف ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ درجہ کے ذوقِ ادب سے نوازا ہے ،پروردگارآپ کو شعرو سخن اور علم وادب کے اعلیٰ ترین مقام پر متمکن فرمائے،آمین!
بدر القادری — مارچ 16، 2020 9:56 صبح
۔۔۔۔۔۔کہ آیندہ بیانِ مضمون کے خبط میں زبان و ادب کا دامن چاک نہ ہو
بدر صاحب محترمی !
برا نہ مانیے گا۔۔۔۔۔۔میری اصلاح بھی فرماتے رہیں تو یہ عاجز آپ کا تہہِ دل سے ممنون رہیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دل سے معترف ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ درجہ کے ذوقِ ادب سے نوازا ہے ،پروردگارآپ کو شعرو سخن اور علم وادب کے اعلیٰ ترین مقام پر متمکن فرمائے،آمین!
نظّارہ بے مزہ ہے جو تابِ نظر نہ ہو​
شکیل بھائی جو دیکھا آپ کی چشمِ بصیرت مآب نے دیکھا۔نظّارے کا حسن معیارِ نظر کا گداگر ہوتا ہے۔
آپ کا بھی مدعی ہوں کہ میری حقیر کاوشوں کے دامن میں ایک نگاہِ بصیرت مآب کا صدقہ ڈال دیا کیجے۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لیے معذرت۔
والسلام
بدر القادری
شکیل احمد خان23 — مارچ 16، 2020 10:59 صبح
نظّارہ بے مزہ ہے جو تابِ نظر نہ ہو​
شکیل بھائی جو دیکھا آپ کی چشمِ بصیرت مآب نے دیکھا۔نظّارے کا حسن معیارِ نظر کا گداگر ہوتا ہے۔
آپ کا بھی مدعی ہوں کہ میری حقیر کاوشوں کے دامن میں ایک نگاہِ بصیرت مآب کا صدقہ ڈال دیا کیجے۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لیے معذرت۔
والسلام
بدر القادری
سید مہدی علی خان نواب محسن الملک کے بارے میں مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب ’’چندہم عصر ‘‘ میں فرمایا تھا :’’تقریرکے وقت منہ سے پھول جھڑتے تھے۔۔۔۔۔‘‘ آپ کی تحریر دیکھ کر لگتا ہے قلم سے موتیوں اور ستاروں کی برسات جاری ہے،واہ ماشاء اللہ ! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
آپ کی شاعری تو دلنواز ہے ہی نثر میں بھی جاں نوازی اور دلسوزی کی کیفیات کے کیا کہنے !جب آپ مندرجہ بالا غزل فائنل کرلیں گے تو اِسے مہرنستعلیق خط میں کمپوز کرکے پیش کروں گا، انشاء اللہ!
بدر القادری — مارچ 16، 2020 3:50 شام
سید مہدی علی خان نواب محسن الملک کے بارے میں مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب ’’چندہم عصر ‘‘ میں فرمایا تھا :’’تقریرکے وقت منہ سے پھول جھڑتے تھے۔۔۔۔۔‘‘ آپ کی تحریر دیکھ کر لگتا ہے قلم سے موتیوں اور ستاروں کی برسات جاری ہے،واہ ماشاء اللہ ! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
آپ کی شاعری تو دلنواز ہے ہی نثر میں بھی جاں نوازی اور دلسوزی کی کیفیات کے کیا کہنے !جب آپ مندرجہ بالا غزل فائنل کرلیں گے تو اِسے مہرنستعلیق خط میں کمپوز کرکے پیش کروں گا، انشاء اللہ!
خوب غزل ہے ماشاء اللہ، بس مقطع پر دو ایک باتیں
مآل یا انجام کسی کے ساتھ ہونا محاورہ نہیں۔ حشر ہو سکتا ہے، یا جزا و سزا یو سکتی ہے
"بے سروں" میں س پر زبر ضرور لگائیں ورنہ کوئی مجھ جیسا اسے بے سُروں بھی پڑھ سکتا ہے

عنایت، عنایت، عنایت شکیل بھائی
مقطعے کی اصلاح یوں کی ہے
سر دے کے سر فراز ہیں راہِ وفا میں جو
یارب ہو میرا حشراُنہیں"بے سَروں"کےساتھ​
اُستاذ الف عین صاحب قبلہ نظرِ بصیرت فرما دیں تو فائنل ہو جائے گی۔
ولسلام
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 17، 2020 1:19 صبح
یہ کافری نہیں تو بتا کیا ہے کافری
مایوسیاں خدا سے اُمیدیں بتوں کے ساتھ
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی،
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
(اقبال)
ماشاء اللہ، جب اتنی اچھی غزل کہی ہے تو توارد کا الزام کیوں اپنے سر لیتے ہیں؟
بدر القادری — مارچ 17، 2020 5:44 صبح
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی،
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
(اقبال)
ماشاء اللہ، جب اتنی اچھی غزل کہی ہے تو توارد کا الزام کیوں اپنے سر لیتے ہیں؟
حکیم الامّت رضی اللّہ عنہ سے تواردی الزام سر آنکھوں پر۔
بدر القادری — مارچ 17، 2020 6:03 صبح
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی،
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
(اقبال)
ماشاء اللہ، جب اتنی اچھی غزل کہی ہے تو توارد کا الزام کیوں اپنے سر لیتے ہیں؟
راحل بھائی ترمیم و اصلاح کردہ مقطعے پر کوئی رائے دے دیں تو تو عنایت ہوگی۔
شکیل احمد خان23 — مارچ 17، 2020 6:37 صبح
مہر نستعلیق ویب (فونٹس) میں اِس غزل کی کتابت انشاء اللہ جلد پیش کروں گا۔
Muhammad Ishfaq — مارچ 18، 2020 1:35 صبح
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی،
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
(اقبال)
ماشاء اللہ، جب اتنی اچھی غزل کہی ہے تو توارد کا الزام کیوں اپنے سر لیتے ہیں؟
ٹھیک فرمایا آپ نے۔۔۔
الف عین — مارچ 18، 2020 4:43 صبح
عنایت، عنایت، عنایت شکیل بھائی
مقطعے کی اصلاح یوں کی ہے
سر دے کے سر فراز ہیں راہِ وفا میں جو
یارب ہو میرا حشراُنہیں"بے سَروں"کےساتھ​
اُستاذ الف عین صاحب قبلہ نظرِ بصیرت فرما دیں تو فائنل ہو جائے گی۔
ولسلام
اب درست ہے
بدر القادری — مارچ 18، 2020 5:04 صبح
شکریہ استاذِ محترم۔
عنایت آپکی۔
شکیل احمد خان23 — مارچ 18، 2020 6:52 صبح
شکریہ استاذِ محترم۔
عنایت آپکی۔
ماشاء اللہ !
آپ کی خوبصورت غزل فائنل ہوئی ۔انشاء اللہ عنقریب،جب آپ اِسے شاعری کے شعبے میں پوسٹ کردیں گے تو اِس کی کتابت مع تبصرہ خدمت میں پیش کروں گا۔
بدر القادری — مارچ 18، 2020 11:37 صبح
ماشاء اللہ !
آپ کی خوبصورت غزل فائنل ہوئی ۔انشاء اللہ عنقریب،جب آپ اِسے شاعری کے شعبے میں پوسٹ کردیں گے تو اِس کی کتابت مع تبصرہ خدمت میں پیش کروں گا۔
اس سے پہلے آپکی خدمت میں ایک قطعہ پیش کرنے کی اجازت مل جائے۔ کل صبح تک انشاء اللہ مکمل ہو جایےگا۔
والسّلام
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.110851/