برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — مارچ 30، 2020 6:54 شام
فعولن فعولن فعل
کرونا وبائی مرض ہے
اسی واسطے عرض ہے
مرض جس کو یہ ہو جائے
وہ خود ہی مقید ہو جائے
حکومت کا یہ کہنا ہے
کہ گھر میں ہمیں رہنا ہے
یہ جیون اگر جینا ہے
یہ دکھ بھی ہمیں پینا ہے
کرونا سے نا ڈرنا ہے
ختم اس کو کرنا ہے
کرونا کا بس یہ ہے حل
نبی پاک کے قول پر چل
نمازیں پڑھو صدقہ کر
نوافل پڑھو رب سے ڈر
رکھو صاف منہ ہاتھوں کو
رکھو پاک سب چیزوں کو
محمد احسن سمیع راحلؔ — مارچ 30، 2020 10:06 شام
مطلع کے مصرع اولی سے تو بحر فعولن فعولن فعولن قائم ہو رہی ہے۔
ک رو نا ۔۔۔ فعولن
و با ای ۔۔۔ فعولن
م رض ہے ۔۔۔ فعولن
پھر فعولن فعولن فعل پر کیسے تقطیع کررہے ہیں؟؟
اس کے علاوہ، مرض میں ر مفتوح ہوتی ہے، جبکہ عرض کی ر ساکن ہے، لہذا دونوں کا بطور قافیہ اجماع درست نہیں۔
دوسرے شعر میں جائے کی الف کا اسقاط درست نہیں، یعنی جائے کو جئے باندھنا۔ گو جائے کی الف کے اسقاط کے ساتھ یہ مصرعہ آپ کی تحریر کردہ بحر پر موزوں ہوجائے گا، تاہم بحر تو مطلع سے قائم ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے شعر کے مصرعہ ثانی میں آپ مقید کو م قی د باندھا ہے جو غلط ہے، درست تلفظ مقئ ید ہے، یعنی ی پر تشدید ہے۔
دکھ پینے کی ترکیب بھی خاصی عجیب معلوم ہوئی۔ اشک پینا تو بطور محاورہ سنا ہے، دکھ پینا میرے لئے نئی اصطلاح ہے۔
پانچویں شعر میں آپ ختم کو ت پر زبر کے ساتھ باندھ رہے ہیں، جو کہ غلط تلفظ ہے، درست تلفظ میں ختم کی ت ساکن ہوتی ہے۔
چھٹے شعر کے پہلے مصرعے میں ہے کی ی ساقط ہورہی ہے، جس کی وجہ سے ہے اور حل کے درمیان تنافر پیدا ہوگیا ہے، جو معیوب سمجھا جاتا ہے۔
اگلے مصرعے میں آپ نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسرہ اضافت کے لیا ہے جو درست نہیں۔ نبی اور پاک دو علیحدہ الفاظ ہیں جن کو بغیر اضافت کے جوڑ کر ترکیب نہیں بنائی جاسکتی۔
اگلے شعر کے دونوں مصرعوں میں شتر گربہ کا عیب ہے، یعنی تم اور تو کے صیغوں کو ایک ہی مصرع اور ایک ہی شعر میں جمع کردیا گیا ہے۔ یہ شاعری کے بڑے عیوب میں سے ایک ہے جس سے بچنا لازم ہے۔
آخری شعر میں آپ نے "منہ ہاتھوں" کو لکھا ہے جو محاورے کے خلاف ہے۔ محاورتا "ہاتھ منہ دھونا" یا "منہ ہاتھ دھونا" کہا جاتا ہے۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تلفظ کی تمام غلطیاں لکھ دوں۔ اب آپ درست تلفظ کی روشنی میں دوبارہ تقطیع کرکے دیکھیں کہ کون کون سے اشعار آپ کہ تحریر کردہ بحر پر موزوں ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں۔
دعاگو،
راحل۔
Muhammad Ishfaq — مارچ 31، 2020 2:36 صبح
مطلع کے مصرع اولی سے تو بحر فعولن فعولن فعولن قائم ہو رہی ہے۔
ک رو نا ۔۔۔ فعولن
و با ای ۔۔۔ فعولن
م رض ہے ۔۔۔ فعولن
پھر فعولن فعولن فعل پر کیسے تقطیع کررہے ہیں؟؟
اس کے علاوہ، مرض میں ر مفتوح ہوتی ہے، جبکہ عرض کی ر ساکن ہے، لہذا دونوں کا بطور قافیہ اجماع درست نہیں۔
دوسرے شعر میں جائے کی الف کا اسقاط درست نہیں، یعنی جائے کو جئے باندھنا۔ گو جائے کی الف کے اسقاط کے ساتھ یہ مصرعہ آپ کی تحریر کردہ بحر پر موزوں ہوجائے گا، تاہم بحر تو مطلع سے قائم ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے شعر کے مصرعہ ثانی میں آپ مقید کو م قی د باندھا ہے جو غلط ہے، درست تلفظ مقئ ید ہے، یعنی ی پر تشدید ہے۔
دکھ پینے کی ترکیب بھی خاصی عجیب معلوم ہوئی۔ اشک پینا تو بطور محاورہ سنا ہے، دکھ پینا میرے لئے نئی اصطلاح ہے۔
پانچویں شعر میں آپ ختم کو ت پر زبر کے ساتھ باندھ رہے ہیں، جو کہ غلط تلفظ ہے، درست تلفظ میں ختم کی ت ساکن ہوتی ہے۔
چھٹے شعر کے پہلے مصرعے میں ہے کی ی ساقط ہورہی ہے، جس کی وجہ سے ہے اور حل کے درمیان تنافر پیدا ہوگیا ہے، جو معیوب سمجھا جاتا ہے۔
اگلے مصرعے میں آپ نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسرہ اضافت کے لیا ہے جو درست نہیں۔ نبی اور پاک دو علیحدہ الفاظ ہیں جن کو بغیر اضافت کے جوڑ کر ترکیب نہیں بنائی جاسکتی۔
اگلے شعر کے دونوں مصرعوں میں شتر گربہ کا عیب ہے، یعنی تم اور تو کے صیغوں کو ایک ہی مصرع اور ایک ہی شعر میں جمع کردیا گیا ہے۔ یہ شاعری کے بڑے عیوب میں سے ایک ہے جس سے بچنا لازم ہے۔
آخری شعر میں آپ نے "منہ ہاتھوں" کو لکھا ہے جو محاورے کے خلاف ہے۔ محاورتا "ہاتھ منہ دھونا" یا "منہ ہاتھ دھونا" کہا جاتا ہے۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تلفظ کی تمام غلطیاں لکھ دوں۔ اب آپ درست تلفظ کی روشنی میں دوبارہ تقطیع کرکے دیکھیں کہ کون کون سے اشعار آپ کہ تحریر کردہ بحر پر موزوں ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں۔
دعاگو،
راحل۔
بہت بہت شکریہ سر ! آپ نے بہت اچھی راہنمائی فرمائی۔
Muhammad Ishfaq — اپریل 1، 2020 2:11 صبح
مطلع میں’’ مرض‘‘ کا قافیہ نہیں مل رہا۔تلفظ کی اتنی اغلاط کے ساتھ شاید اس وزن کو قائم رکھنا میرے لیے مشکل ہو رہاہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111040/