برائے اصلاح

Muhammad Ishfaq — مئی 2، 2020 2:43 شام
فاعلاتن مفاعلن فعلن
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی پوری زندگی کر لی
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کے ہی روشنی کر لی
پھولوں سے جب سکوں نہیں پایا
کانٹوں سے ہی پھر دوستی کرلی
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
نام جج نے حویلی کر لی
جب گیا جوتا ٹوٹ تو ہم نے
پھر سے پیوند کاری کر لی
آمدن گھر کی بند ہو گئی ہے
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
بس نہ کیا گلہ کسی سے ہم نے
چُپکے سے اشک باری کر لی
چھوڑ کے سارے کام پھر ہم نے
اب روا شعر و شاعری کر لی
تھام کر در گزر کا دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
الف عین — مئی 3، 2020 2:25 صبح
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی پوری زندگی کر لی
... ٹھیک
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کے ہی روشنی کر لی
... جلانے کی ے کا اسقاط ناگوار ہے،
جلا کر کہیں بجائے 'جلا کے' یہ زیادہ رواں اور درست مانا جاتا ہے
پھولوں سے جب سکوں نہیں پایا
کانٹوں سے ہی پھر دوستی کرلی
... پھولوں، کانٹوں کے 'وں' کا اسقاط درست نہیں
الفاظ بدل کر کوشش کریں جیسے
جب سکوں مل سکا نہ پھولوں سے
ہم نے کانٹوں سے.....
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
نام جج نے حویلی کر لی
... دوسرا مصرع بحر سے خارج
جب گیا جوتا ٹوٹ تو ہم نے
پھر سے پیوند کاری کر لی
... دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، پہلے کی روانی متاثر ہے، جوتا کانا ضروری ہے؟
آمدن گھر کی بند ہو گئی ہے
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
... گئی کی ی کا اسقاط غلط ہے۔
ہو گئی بند گھر کی آمدنی
کہنے میں کیا حرج تھا!
بس نہ کیا گلہ کسی سے ہم نے
چُپکے سے اشک باری کر لی
.. دونوں مصرعے بحر سے خارج
چھوڑ کے سارے کام پھر ہم نے
اب روا شعر و شاعری کر لی
... روا؟
تھام کر در گزر کا دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
.. اولی مصرع بحر سے خارج
Muhammad Ishfaq — مئی 3، 2020 7:42 صبح
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی پوری زندگی کر لی
... ٹھیک
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کے ہی روشنی کر لی
... جلانے کی ے کا اسقاط ناگوار ہے،
جلا کر کہیں بجائے 'جلا کے' یہ زیادہ رواں اور درست مانا جاتا ہے
پھولوں سے جب سکوں نہیں پایا
کانٹوں سے ہی پھر دوستی کرلی
... پھولوں، کانٹوں کے 'وں' کا اسقاط درست نہیں
الفاظ بدل کر کوشش کریں جیسے
جب سکوں مل سکا نہ پھولوں سے
ہم نے کانٹوں سے.....
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
نام جج نے حویلی کر لی
... دوسرا مصرع بحر سے خارج
جب گیا جوتا ٹوٹ تو ہم نے
پھر سے پیوند کاری کر لی
... دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، پہلے کی روانی متاثر ہے، جوتا کانا ضروری ہے؟
آمدن گھر کی بند ہو گئی ہے
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
... گئی کی ی کا اسقاط غلط ہے۔
ہو گئی بند گھر کی آمدنی
کہنے میں کیا حرج تھا!
بس نہ کیا گلہ کسی سے ہم نے
چُپکے سے اشک باری کر لی
.. دونوں مصرعے بحر سے خارج
چھوڑ کے سارے کام پھر ہم نے
اب روا شعر و شاعری کر لی
... روا؟
تھام کر در گزر کا دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
.. اولی مصرع بحر سے خارج
بہت بہت شکریہ سر الف عین صاحب! اس کے مطابق کوشش کرتا ہوں۔
Muhammad Ishfaq — مئی 3، 2020 6:37 شام
اصلاح کےبعد
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی ساری زندگی کر لی
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کر ہی روشنی کر لی
جب سکوں مل سکا نہ پھولوں سے
ہم نے کانٹوں سے دوستی کر لی
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
بات منصف نے آخری کر لی
جب گیا دل جو ٹوٹ تو ہم نے
بیٹھ کے گریہ زاری ہی کر لی
گلہ کسی سے ہم کیا کر تے
چُپکے سے اشک باری ہی کر لی
چھوڑ کر سارے کام پھر ہم نے
شاعری سے ہی دل لگی کر لی
جو بہت ہی قریب تھا دل کے
ہم سے اس نے ہی دشمنی کر لی
آمدن بند ہو گئی گھر کی
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
شاعری سے تِری یہ لگتا ہے
درد سے تم نے دوستی کر لی
درگزر کا ہی تھام کے دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 4، 2020 4:40 صبح
اصلاح کےبعد
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی ساری زندگی کر لی
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کر ہی روشنی کر لی
جب سکوں مل سکا نہ پھولوں سے
ہم نے کانٹوں سے دوستی کر لی
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
بات منصف نے آخری کر لی
جب گیا دل جو ٹوٹ تو ہم نے
بیٹھ کے گریہ زاری ہی کر لی
گلہ کسی سے ہم کیا کر تے
چُپکے سے اشک باری ہی کر لی
چھوڑ کر سارے کام پھر ہم نے
شاعری سے ہی دل لگی کر لی
جو بہت ہی قریب تھا دل کے
ہم سے اس نے ہی دشمنی کر لی
آمدن بند ہو گئی گھر کی
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
شاعری سے تِری یہ لگتا ہے
درد سے تم نے دوستی کر لی
درگزر کا ہی تھام کے دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
آپ نے کچھ مقامات پر استاد محترم کی صلاح کو نظر انداز کردیا، مثلا دوسرے شعر کا پہلا مصرعہ. ویسے بھی الفاظ کی موجودہ ترتیب سے دھیان لامحالہ پولیس تھانے کی طرف چلا جاتا ہے اور اچھے بھلے شعر کا لطف ضائع ہوتا ہے:) یوں کہنے میں کیا حرج ہے
گھر میں کچھ بھی نہ تھا جلانے کو
دل جلا کر... الخ
جب گیا دل جو ٹوٹ تو ہم نے
بیٹھ کے گریہ زاری ہی کر لی
پہلے مصرعے میں غیرضروری تعقید ہے، الفاظ کی ترتیب و نشست فطری نہیں.دوسرے مصرعے میں بیٹھ کے کی بجائے بیٹھ کر کہیں.
گلہ کسی سے ہم کیا کر تے
چُپکے سے اشک باری ہی کر لی
پہلا مصرعہ بحر سے خارج ہے. دوسرے مصرعے میں اشکباری کی ی کا اسقاط مناسب نہیں.
شاعری سے تِری یہ لگتا ہے
درد سے تم نے دوستی کر لی
شعر شتر گربہ کا شکار ہے. دوسرے مصرعے میں بھی تم کی جگہ تو کہیں.
درگزر کا ہی تھام کے دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
پہلے مصرعے میں ہی بھرتی کا معلوم ہوتا ہے. یوں سوچ کر دیکھئے.
تھام کر ہم نے عفو کا دامن
دور اشفاق... الخ
دعاگو،
راحل.
عرفان سعید — مئی 4، 2020 6:19 صبح
فاعلاتن مفاعلن فعلن
چُپ رہے بس اک آہ سی کر لی
پھر یوں ہی پوری زندگی کر لی
تھا نہ گھر میں جلانے کو کچھ بھی
دل جلا کے ہی روشنی کر لی
پھولوں سے جب سکوں نہیں پایا
کانٹوں سے ہی پھر دوستی کرلی
اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے
نام جج نے حویلی کر لی
جب گیا جوتا ٹوٹ تو ہم نے
پھر سے پیوند کاری کر لی
آمدن گھر کی بند ہو گئی ہے
خرچ میں اس لیے کمی کر لی
بس نہ کیا گلہ کسی سے ہم نے
چُپکے سے اشک باری کر لی
چھوڑ کے سارے کام پھر ہم نے
اب روا شعر و شاعری کر لی
تھام کر در گزر کا دامن
دُور اشفاؔق تیرگی کر لی
اصلاح سے قطعِ نظر، اس غزل کی کو پڑھ کر کچھ یاد آنے لگا۔ یاداشت پر زور ڈالا تو جناب اعجاز رحمانی مرحوم کی یہ غزل سامنے آگئی۔
ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی
اپنے دشمن سے دوستی کر لی
بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ
ہم نے اشکوں سے روشنی کر لی
تیری تصویر نے کمال کیا
چپ رہی اور بات بھی کر لی
شہر میں آ گئے ہیں کس کے قدم
ساری بستی نے خود کشی کر لی
دیکھ کر وقت کے خداؤں کو
ہم نے خود اپنی بندگی کر لی
اب کسی راہ زن کو ڈھونڈیں گے
رہبروں نے تو رہبری کر لی
کچھ خبر تو ہے تجھے دل ناداں
تو نے کس سے برابری کر لی
اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں
دل بہت تو نے دِل لگی کر لی
دیکھیے کیا صلہ ملے اعجازؔ
زندگی بھر تو شاعری کر لی
(اعجاز رحمانی)
Muhammad Ishfaq — مئی 4، 2020 7:49 صبح
اصلاح سے قطعِ نظر، اس غزل کی کو پڑھ کر کچھ یاد آنے لگا۔ یاداشت پر زور ڈالا تو جناب اعجاز رحمانی مرحوم کی یہ غزل سامنے آگئی۔
ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی
اپنے دشمن سے دوستی کر لی
بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ
ہم نے اشکوں سے روشنی کر لی
تیری تصویر نے کمال کیا
چپ رہی اور بات بھی کر لی
شہر میں آ گئے ہیں کس کے قدم
ساری بستی نے خود کشی کر لی
دیکھ کر وقت کے خداؤں کو
ہم نے خود اپنی بندگی کر لی
اب کسی راہ زن کو ڈھونڈیں گے
رہبروں نے تو رہبری کر لی
کچھ خبر تو ہے تجھے دل ناداں
تو نے کس سے برابری کر لی
اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں
دل بہت تو نے دِل لگی کر لی
دیکھیے کیا صلہ ملے اعجازؔ
زندگی بھر تو شاعری کر لی
(اعجاز رحمانی)
جی عرفان صاحب ! اس کی وجہ بحر اور قوافی و ردیف کا معروف ہونا ہے
الف عین — مئی 4، 2020 11:30 صبح
جب گیا دل جو ٹوٹ تو ہم نے
بیٹھ کے گریہ زاری ہی کر لی
پہلا مصرع تو عدم روانی کا شکار ہے ہی، دوسرے میں گریہ زاری کی ی کا اسقاط درست نہیں لگتا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111629/