مطلع کیوں نہیں کہا بھئی؟
تجھ پہ تہمت ہے ظلم و تعدی کی
سچ تو یہ ہے ستم شعار ہوں میں
تعدّی کا تلفظ ٹھیک نہیں، اس میں د مشدد ہوتی ہے۔ یعنی تَ+عَد+دی ۔۔۔ اس لئے پہلا مصرعہ بحر میں نہیں
تہمتیں تجھ پہ سب ہی ناحق تھیں
سچ تو یہ ہے ستم شعار ہوں میں
آرزو ہے کہ رازدار ملیں
خود کو دیکھوں کہ رازدار ہوں میں
مطلب؟
کر سکی نہ نثار جاں اپنی
اور کہتی ہوں جاں نثار ہوں میں
پہلے مصرعے میں نہ دوحرفی باندھا گیا ہے۔ ’’نہ‘‘ کو دو حرفی باندھنا اچھا نہیں، جبکہ کوئی خاص ضرورت بھی نہ ہو۔
جان اپنی نثار کر نہ سکی
اور کہتی ۔۔۔ الخ
بے کلی ہی ظہورِ انساں ہے
ہے دلیل اسکی بے قرار ہوں میں
ظہورِ انساں سے کیا مراد ہے؟
پھر ایک شاعر کا بے قرار ہونا، پوری نوع انسانی کے بے کل ہونے کی دلیل کیونکر ہوسکتی ہے؟
ہے سحر مجھ میں خوفِ تاریکی
صرف سورج کی پاسداری ہوں میں
سحر اگر بطور تخلص استعمال ہوا ہے تو اس پر ؔ کا نشان لگا دیا کریں۔
دوسری بات یہ کہ ’’مجھ میں‘‘ نہیں، ’’مجھ کو‘‘ خوفِ تاریکی کہنا چاہیئے۔
تیسرے یہ کہ مصرعۂ ثانی بحر سے خارج ہے۔ پاسداری تو یہاں وزن میں آ ہی نہیں سکتا۔ غالباً ی کتابت کی غلطی سے رہ گیا ہے، ورنہ تو قافیہ بھی چھوٹ رہا ہے۔
پاسدار آپ نے حمایتی کے معنی میں استعمال کیا ہے، جس سے شعر کے گنجلک ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ زیادہ تر قارئین کی رسائی مشہور معنی تک ہوگی، جو حفاظت کرنے والے کے ہیں۔
فی الحال اس کو ایسے ہی رہنے دیں، استاد محترم اگر منظور نہ کریں تو پھر متبادل سوچیے گا۔
دعاگو،
راحلؔ