برائے اصلاح

یاسر علی — جولائی 31، 2020 11:01 صبح
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں ۔
تو دل بے ساختہ اپنے مچلتے ہیں ۔
نجانے کیوں جہاں اس وقت جلتا ہے ؟
وہ گل رخ جب مرے ہمراہ چلتے ہیں۔
جلاتے صرف مُردوں کو ہیں ہندو پر
محبت میں تو عاشق زندہ جلتے ہیں۔
تمہی سے فون پر جب بات کرتا ہوں
مرے غمگین پھر لمحات ڈھلتے ہیں۔
یا
مرے پھر ہجر کے لمحات ڈھلتے ہیں۔
کہ پتھر دل رہِ الفت پہ ہی آ کر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں۔
وہ اک دن لازمی منزل کو ہیں پاتے
فقط جو ایک ہی رستے پہ چلتے ہیں۔
قسم سے تب مرا دل ٹوٹ جاتا ہے
وہ وعدہ کر کے جب میثم بدلتے ہیں
یاسر علی — اگست 3، 2020 5:57 صبح
اساتذہ سے التماس ہے اصلاح فرمادیں۔
یاسر علی — اگست 4، 2020 5:01 صبح
اساتذہ سے گزارش ہے اصلاح فرمادیں۔۔۔
الف عین — اگست 4، 2020 7:22 صبح
سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں ۔
تو دل بے ساختہ اپنے مچلتے ہیں ۔
.. کتنے دل ہیں تمہارے؟ شوخ تو ممکن ہیں کہ کئی ہوں جو جمع میں بات کر رہے ہو
نجانے کیوں جہاں اس وقت جلتا ہے ؟
وہ گل رخ جب مرے ہمراہ چلتے ہیں۔
.. ٹھیک ہے لیکن جمع کا صیغہ پسند نہیں ایا۔ گل رخ تو واحد ہی ہے
جلاتے صرف مُردوں کو ہیں ہندو پر
محبت میں تو عاشق زندہ جلتے ہیں۔
تمہی سے فون پر جب بات کرتا ہوں
مرے غمگین پھر لمحات ڈھلتے ہیں۔
یا
مرے پھر ہجر کے لمحات ڈھلتے ہیں۔
کہ پتھر دل رہِ الفت پہ ہی آ کر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں۔
... ہی" بھرتی کا ہے، بھرتی کے الفاظ سے بچا کرو، پتھر دل لوگوں کی صفت ہے، لوگ پگھلتے ہیں یا دل؟ عجیب مفہوم کا شعر ہے
وہ اک دن لازمی منزل کو ہیں پاتے
فقط جو ایک ہی رستے پہ چلتے ہیں۔
.. یہ بھی مفہوم کے اعتبار سے عجیب ہے، اگر وہ ایک راستہ ہی غلط ہو تو؟
پہلے مصرع کی بنت بھی اچھی نہیں 'ہیں لاتے' کی وجہ سے
ضرور اک دن وہ اپنی پائیں گے منزل
قسم سے تب مرا دل ٹوٹ جاتا ہے
وہ وعدہ کر کے جب میثم بدلتے ہیں
... ٹھیک ہے
یاسر علی — اگست 5، 2020 11:43 صبح
جناب اب دیکھئے گا۔
سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں۔
مرے جذبات دل کے تب مچلتے ہیں ۔
جو رہِ عشق پر آ جائیں وہ اکثر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں ۔
اندھیرا ان کی دنیا میں نہیں آتا
فقط جو روشنی کے رہ پہ چلتے ہیں۔
یا
فقط جو روشنی کی رہ پہ چلتے ہیں۔
یاسر علی — اگست 7، 2020 4:18 صبح
اصلاح کا منتظر ہوں۔۔
یاسر علی — اگست 8، 2020 5:23 صبح
جناب اب دیکھئے گا۔
سنور کے شوخ گھر سے جب نکلتے ہیں۔
مرے جذبات دل کے تب مچلتے ہیں ۔
جو رہِ عشق پر آ جائیں وہ اکثر
قسم سے برف کی صورت پگھلتے ہیں ۔
اندھیرا ان کی دنیا میں نہیں آتا
فقط جو روشنی کے رہ پہ چلتے ہیں۔
یا
فقط جو روشنی کی رہ پہ چلتے ہیں
الف عین — اگست 8، 2020 6:47 صبح
شوخ تو اب بھی جمع کے صیغے میں ہے۔ جب تک کہ اسے مخصوص نہیں کیا جائے، جمع کا صیغہ غلط ہی ہے۔ شوخ نکلتا ہے درست ہوتا، یا اس محبوب کے لئے محض "وہ" استعمال کیا جائے تو تحریم کے ساتھ جمع کا صیغہ درست ہو سکتا ہے۔ جیسے
وہ گھر سے جب بھی بن ٹھن کر نکلتے ہیں۔
تیسرا شعر، رہ مؤنث ہے، اس لئے روشنی کی رہ ہی درست ہے۔
دوسرا شعر پسند نہیں آیا، اسے نکال دو
یاسر علی — اگست 8، 2020 9:38 صبح
شوخ تو اب بھی جمع کے صیغے میں ہے۔ جب تک کہ اسے مخصوص نہیں کیا جائے، جمع کا صیغہ غلط ہی ہے۔ شوخ نکلتا ہے درست ہوتا، یا اس محبوب کے لئے محض "وہ" استعمال کیا جائے تو تحریم کے ساتھ جمع کا صیغہ درست ہو سکتا ہے۔ جیسے
وہ گھر سے جب بھی بن ٹھن کر نکلتے ہیں۔
تیسرا شعر، رہ مؤنث ہے، اس لئے روشنی کی رہ ہی درست ہے۔
دوسرا شعر پسند نہیں آیا، اسے نکال دو
بہت بہت شکریہ جناب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.112648/