لہو سے ہے شمع حق جلائی حسین نے
جاں دے دی مگر وفا نبھائی حسین نے
بدی اور کفر کی علامت یزید ہے
وفا اور ضبط ہے سکھائی حسین نے
اٹھاتے رہے ہیں خود ہی لاشے عزیزوں کے
مگر دی نہ پھر بھی ہے دہائی حسین نے
شہادت ہے بہترین اتمامِ زندگی
سنہری یہ بات ہے بتائی حسین نے
ہمیشہ ہی علم دین تو اونچا پائے گا
تلاوت اَنی پہ ہے سنائی حسین نے
بے آب و گیاہ تھی زمینِ کربلا
یہ حیدر کے پھولوں سے سجائی حسین نے
وہ اشفاق ڈٹ گئے امارت کے سامنے
کٹا سر دیا نہ گردن جھکائی حسین نے
الف عین
میرخلیل الرحمن
جاں دے دی مگر وفا نبھائی حسین نے
بدی اور کفر کی علامت یزید ہے
وفا اور ضبط ہے سکھائی حسین نے
اٹھاتے رہے ہیں خود ہی لاشے عزیزوں کے
مگر دی نہ پھر بھی ہے دہائی حسین نے
شہادت ہے بہترین اتمامِ زندگی
سنہری یہ بات ہے بتائی حسین نے
ہمیشہ ہی علم دین تو اونچا پائے گا
تلاوت اَنی پہ ہے سنائی حسین نے
بے آب و گیاہ تھی زمینِ کربلا
یہ حیدر کے پھولوں سے سجائی حسین نے
وہ اشفاق ڈٹ گئے امارت کے سامنے
کٹا سر دیا نہ گردن جھکائی حسین نے
الف عین
میرخلیل الرحمن