برائے اصلاح

محمل ابراہیم — اپریل 24، 2021 7:17 شام
الف عین
محمد احسن سمیع: راحل
سید عاطف علی
یاسر شاہ
السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے___
خواہشوں کے صحرا میں جستجو بھٹکتی ہے
اشک بار آنکھوں سے آرزو ٹپکتی ہے
میری چشمِ گریہ سے آنسوؤں کی صورت میں
درد و غم ٹپکتا ہے بے بسی چھلکتی ہے
گرچہ نا مرادی ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
کوئی شمع امید دھیرے دھیرے جلتی ہے
نغمہ کس نے چھیڑا ہے بے خودی کے عالم میں
رقص میں ستارے ہیں چاندنی تھرکتی ہے
اک دبی تمنّا نے ایسے سر اٹھایا ہے
شمع آخری دم میں جس طرح بھڑکتی ہے
زندگی سحؔر اپنی ایک ایسا ساغر ہے
سانس جس میں ہر لحظہ ڈوب کر اُبھرتی ہے
سید عاطف علی — اپریل 24، 2021 7:53 شام
اس میں جلتی اور ابھرتی بطور قافیہ کچھ ٹھیک نہیں ۔ سرکتی بھڑکتی وغیرہ ہو سکیں گے ۔
یاسر شاہ — اپریل 25، 2021 5:21 صبح
وعلیکم السلام
اچھی غزل ہے- کچھ کمزور مقامات کی نشاندہی کرتا ہوں :
گرچہ نا مرادی ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
کوئی شمع امید دھیرے دھیرے جلتی ہے
یہاں "جلتی " قافیہ ٹھیک نہیں لگتا ،ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے :
نامراد اندھیرا ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
اک کرن امیدوں کی اب تلک چمکتی ہے
نغمہ کس نے چھیڑا ہے بے خودی کے عالم میں
رقص میں ستارے ہیں چاندنی تھرکتی ہے
غزل چھیڑنا ،راگ چھیڑنا یا ساز چھیڑنا وغیرہ تو عام ہے مگر نغمہ چھیڑنا فصیح نہیں -نغمہ کی جگہ راگ یا ساز کر دیں یا پھر "نغمہ کون گاتا ہے "وغیرہ
شعر خوب ہے -
زندگی سحؔر اپنی ایک ایسا ساغر ہے
سانس جس میں ہر لحظہ ڈوب کر اُبھرتی ہے
یہاں بھی ابھرتی قافیہ ٹھیک نہیں - دوبارہ سوچیں -
محمل ابراہیم — اپریل 25، 2021 5:38 صبح
شکریہ سر
محمل ابراہیم — اپریل 25، 2021 6:12 شام
الف عین
یاسر شاہ
محمد احسن سمیع:راحل
سر نظر ثانی کی درخواست ہے۔۔۔
خواہشوں کے صحرا میں جستجو بھٹکتی ہے
اشک بار آنکھوں سے آرزو ٹپکتی ہے
میری چشمِ گریہ سے آنسوؤں کی صورت میں
درد و غم ٹپکتا ہے بے بسی چھلکتی ہے
گرچہ نا مرادی ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
اِک کرن اُمیدی کی اب تلک چمکتی ہے
ساز کس نے چھیڑا ہے بے خودی کے عالم میں
رقص میں ستارے ہیں چاندنی تھرکتی ہے
اک دبی تمنّا نے ایسے سر اٹھایا ہے
شمع آخری دم میں جس طرح بھڑکتی ہے
زندگی سحؔر بالکل شام کے مماثل ہے
بعد جو نکلنے کے آخرش ڈھلکتی ہے
محمل ابراہیم — اپریل 27، 2021 7:07 صبح
الف عین
یاسر شاہ
محمد احسن سمیع:راحل
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 27، 2021 7:51 صبح
زیادہ تر اشعار مجھے اب تو ٹھیک لگ رہے ہیں، ایک دو نکات ذہن میں آئے
اک دبی تمنّا نے ایسے سر اٹھایا ہے
شمع آخری دم میں جس طرح بھڑکتی ہے
پہلے مصرعے میں الفاظ کی ترتیب بدل دیں تو تقابل ردیفین دور ہو جائے گا، مثلا
ایسے سر اٹھایا ہے، اک دبی تمنا نے ... یا...
اک دبی تمنا نے اس طرح اٹھایا سر
ویسے دبی ہوئی/سی تمنا کہا جائے تو زیادہ قرین محاورہ ہوگا
دوسرے مصرعے میں دمِ آخر لا سکیں تو مصرع اور جاندار ہو جائے گا.
زندگی سحؔر بالکل شام کے مماثل ہے
بعد جو نکلنے کے آخرش ڈھلکتی ہے
شام ڈھلتی ہے، شام کے ڈھلکنا کہنا درست نہیں.
محمل ابراہیم — اپریل 27، 2021 8:13 شام
شکریہ سر
یاسر شاہ — اپریل 30، 2021 8:29 شام
گرچہ نا مرادی ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
اِک کرن اُمیدی کی اب تلک چمکتی ہے
امیدی کوئی لفظ نہیں-
محمل ابراہیم — مئی 2، 2021 7:58 صبح
میں دوبارہ کوشش کرتی ہوں اس شعر کو کہنے کی
الف عین — مئی 3، 2021 9:30 صبح
.......
محمل ابراہیم — مئی 3، 2021 10:49 صبح

جی سر
الف عین — مئی 4، 2021 8:39 صبح
نہیں بیٹا، میں نے اصل غزل کے قوافی پر ہی کمینٹ کر دیا تھا، بعد میں دیکھا کہ درست کر دئے گئے ہیں اس لئے تدوین کر دی
محمل ابراہیم — مئی 5، 2021 6:19 صبح
نہیں بیٹا، میں نے اصل غزل کے قوافی پر ہی کمینٹ کر دیا تھا، بعد میں دیکھا کہ درست کر دئے گئے ہیں اس لئے تدوین کر دی
اچّھا
محمل ابراہیم — مئی 5، 2021 6:40 صبح
الف عین
محمد احسن سمیع:راحل
یاسر شاہ
آداب۔۔۔۔۔
سر ایک بار پھر آپ کی آراء سے مستفید ہونے کی متمنی ہوں۔
خواہشوں کے صحرا میں جستجو بھٹکتی ہے
اشک بار آنکھوں سے آرزو ٹپکتی ہے
میری چشمِ گریہ سے آنسوؤں کی صورت میں
درد و غم ٹپکتا ہے بے بسی چھلکتی ہے
گرچہ نا مرادی ہے، پھر بھی خانۂ دل میں
آس کی کرن کوئی اب تلک چمکتی ہے
ساز کس نے چھیڑا ہے بے خودی کے عالم میں
رقص میں ستارے ہیں چاندنی تھرکتی ہے
اک دبی سی حسرت نے ایسے سر اٹھایا ہے
شمع آخری ساعت جس طرح بھڑکتی ہے
زندگی سحؔر جیسے اوڑھنی ہو ریشم کی
کتنا بھی سنبھالو تم سر سے یہ ڈھلکتی ہے
محمل ابراہیم — مئی 5، 2021 11:05 صبح
محمد عبدالرؤوف
متشکرم
محمل ابراہیم — مئی 5، 2021 1:20 شام
یاسر علی
بہت شکریہ​
الف عین — مئی 7، 2021 5:50 صبح
مجھے تو مکمل درست لگ رہی ہے غزل
محمل ابراہیم — مئی 8، 2021 2:37 شام
مجھے تو مکمل درست لگ رہی ہے غزل
شُکریہ استاذی
یاسر شاہ — مئی 10، 2021 12:04 شام
اک دبی سی حسرت نے ایسے سر اٹھایا ہے
شمع آخری ساعت جس طرح بھڑکتی ہے
"آخری ساعت "کی جگہ یوں کر دیں
شمع بجھتے بجھتے بھی جس طرح بھڑکتی ہے
مقطع اب بھی تسلی بخش نہیں گو "اوڑھنی ہو ریشم کی"پرکشش ترکیب ہے مگر اس کا جوڑ زندگی سے نہیں جچتا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.116003/