برائے اصلاح

آئی کے عمران — اگست 16، 2022 7:10 شام
یاد آتی ہیں بہاریں طفلی کی
جستجو میں پھرتے رہنا تتلی کی
زمزمے بلبل کے لگتے خوب تھے
رنگ فطرت کے سبھی محبوب تھے
پھول پر جب بھنورے بیٹھا کرتے تھے
چھونے کی حسرت میں بھاگا کرتے تھے
گیت گاتی وہ ندی برسات میں
اور بڑھ جانا صدا کا رات میں
برف کے گالوں کو گرتے دیکھنا
پھر بنا کے گولے لڑنا ، پھینکنا
سکھ جو دیتے تھے کھلونے مٹی کے
مل نہیں سکتا وہ سونے چاندی سے
کھیل میں ہوتے تھے ہم ایسے مگن
ماں بلاتی تھی ہمیں کر کے جتن
گرد کپڑوں سے ہمارے جھاڑنا
پیار سے منہ میں نوالے ڈالنا
فکر سے آزاد تھے ،ہم شاد تھے
کب دلِ برباد تھے، ہم شاد تھے
وہ زمانہ کھو گیا ہم سے کہیں
لاکھ چاہیں واپس آ سکتا نہیں
رنگ کچے جس طرح سے تتلی کے
عارضی تھے ہائے وہ دن طفلی کے
آئی کے عمران — اگست 16، 2022 7:11 شام
السلام علیکم !
محترمی!
الف عین
الف عین — اگست 17، 2022 7:48 صبح
طفلی کی، طفلی کے، کرتے تھے، مٹی کے
یہ چاروں اشعار بدل دو، ی اور ے کا اسقاط اچھا نہیں لگتا
باقی تو سب ٹھیک ہی ہیں
آئی کے عمران — اگست 17، 2022 1:17 شام
طفلی کی، طفلی کے، کرتے تھے، مٹی کے
یہ چاروں اشعار بدل دو، ی اور ے کا اسقاط اچھا نہیں لگتا
باقی تو سب ٹھیک ہی ہیں
بہت بہت شکریہ سر
جزاک اللہ
کون سے یا کس زبان کے الفاظ کی ی یا ے کو گرا سکتے ہیں؟
کیا ایسا کوئی اصول ہے۔
میں تو لفظ کے آخر پر حروف علت کو گرا دیتا ہوں حسب ضرورت۔
الف عین — اگست 18، 2022 4:30 صبح
میں تو لفظ کے آخر پر حروف علت کو گرا دیتا ہوں حسب ضرورت۔
اگر روانی مخدوش نہ لگے تو ضرور گرایا جا سکتا ہے، ویسے فارسی الفاظ کی آخری ے اصولاً نہیں گرائی جاسکتی
آئی کے عمران — اگست 19، 2022 5:42 شام
اگر روانی مخدوش نہ لگے تو ضرور گرایا جا سکتا ہے، ویسے فارسی الفاظ کی آخری ے اصولاً نہیں گرائی جاسکتی
بہت بہت شکریہ سر
بہت نوازش
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.118784/