آئی کے عمران — جون 26، 2023 6:28 شام
دیکھو تو کتنی اچھی ہے
یہ جو پیڑوں کی چھتری ہے
سوچ رہا ہوں بیٹھ کے تنہا
کچھ ہے اگر تو تیری کمی ہے
تیرے برہنہ پیر کہاں پیں
ریشم جیسی گھاس بچھی ہے
اشک حسیں کےگال پہ ایسے
پھول پہ جیسے اوس پڑی ہے
دل تو دل ہے، ذکر سے تیرے
روح معطر ہونے لگی ہے
یاد تمھاری خاک اڑائے
دل ہے صحرا ۔تو پانی ہے
وصل کی چادر اوڑھ کے بیٹھیں
ہجر کی آ جا دھوپ کڑی ہے
آئی کے عمران — جون 26، 2023 6:29 شام
شکیل احمد خان23 — جون 26، 2023 7:02 شام
سوچ رہا ہوں بیٹھ کے تنہا
کچھ ہے اگر تو تیری کمی ہے
ایک فقط تیری ہی کمی ہے
الف عین — جون 26، 2023 7:25 شام
یاد تمھاری خاک اڑائے
دل ہے صحرا ۔تو پانی ہے
شتر گربہ ہے، پہلے میں تمہاری، دوسرے مصرعے میں تُو۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے بھی تیری /تمہاری خاک سے مراد؟ یعنی یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے
تیری یادیں خاک اڑائیں
یا اس قسم کا کوئی مصرع
وصل کی چادر اوڑھ کے بیٹھیں
ہجر کی آ جا دھوپ کڑی ہے
"آ جا" بھرتی کا اچھا نہیں لگتا، کسی اور طرح وزن پورا کرو
باقی اشعار خوب ہیں۔ ایک مصرع شکیل نے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، چاہو تو قبول کر لو
آئی کے عمران — جون 27، 2023 5:17 صبح
آئی کے عمران — جون 27، 2023 5:20 صبح
شتر گربہ ہے، پہلے میں تمہاری، دوسرے مصرعے میں تُو۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے بھی تیری /تمہاری خاک سے مراد؟ یعنی یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے
تیری یادیں خاک اڑائیں
یا اس قسم کا کوئی مصرع
"آ جا" بھرتی کا اچھا نہیں لگتا، کسی اور طرح وزن پورا کرو
باقی اشعار خوب ہیں۔ ایک مصرع شکیل نے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، چاہو تو قبول کر لو
بہت شکریہ سر
بہت نوازش
جزاک اللہ
تیری یاد یں خاک اڑائیں
یوں اچھا ہے
بہت بہت نوازش❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آئی کے عمران — جون 27، 2023 5:23 صبح
ایک شعر اور ہے یہ بھی دیکھ لیں
سایہ ہم کو یوں لگتا ہے
گود میں سر ہے زلف کھلی ہے
محمد عبدالرؤوف — جون 27، 2023 8:59 صبح
وصل کی چادر اوڑھ کے بیٹھیں
ہجر کی آ جا دھوپ کڑی ہے
کیا دھوپ میں بھی چادر اوڑھی جاتی ہے؟
میرے خیال میں دھوپ کے ساتھ چھاؤں کی بات کی جائے یا پھر چادر اوڑھنے کی ہی بات کرنی ہے تو سردی کا ذکر بھی لایا جائے۔
آئی کے عمران — جون 27، 2023 9:10 صبح
کیا دھوپ میں بھی چادر اوڑھی جاتی ہے؟
میرے خیال میں دھوپ کے ساتھ چھاؤں کی بات کی جائے یا پھر چادر اوڑھنے کی ہی بات کرنی ہے تو سردی کا ذکر بھی لایا جائے۔
چادر مطلب جو سایہ کرے ۔پر آپ کی بات درست ہے
یوں کر لیتے ہیں۔
وصل کی چھاؤ ں اوڑ ھ کے بیٹھیں
باقی اشعار پر بھی رائے دیجیے گا۔
بہت شکریہ
محمد عبدالرؤوف — جون 27، 2023 9:38 صبح
باقی اشعار ماشاءاللّہ خوب ہیں۔ بس استاد صاحب کی اصلاح کو دیکھ لیں۔
اشک حسیں کےگال پہ ایسے
پھول پہ جیسے اوس پڑی ہے
لیکن اس شعر میں کچھ کمی سی محسوس ہو رہی ہے۔ دیکھیے، اگر استاد صاحب کی اجازت سے ایسے کر لیا جائے تو۔۔۔
"اشک ہیں اُس کے گال پہ ایسے"
آئی کے عمران — جون 27، 2023 10:12 صبح
باقی اشعار ماشاءاللّہ خوب ہیں۔ بس استاد صاحب کی اصلاح کو دیکھ لیں۔
لیکن اس شعر میں کچھ کمی سی محسوس ہو رہی ہے۔ دیکھیے، اگر استاد صاحب کی اجازت سے ایسے کر لیا جائے تو۔۔۔
"اشک ہیں اُس کے گال پہ ایسے"
جی ! پہلے میں نے بھی ایسے ہی کہا تھا پھر سوچا کہ ہر حسیں کا شامل کر لوں۔
میں تبدیل کر لیتا ہوں
بہت شکریہ
الف عین — جون 28، 2023 2:41 صبح
تبدیل شدہ اشعار درست لگ رہے ہیں