برائے اصلاح

آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 12:25 شام
کوئی خواہش نہ حرص باقی ہے
دل سے دنیا نکال پھینکی ہے
لطف آئے نہ اب کسی شے میں
بے دلی سے یہ زیست کرنی ہے
سچ کہوں تو بڑے سکوں سے ہوں
جب سے دل حسرتوں سے خالی ہے
جانے کتنے دکھوں کا درماں ہے
کہ یہ جو مرگِ نا گہانی ہے
سو نہیں کی دوائے درد دل
ایک ہی تو تری نشانی ہے
پاس تم ہوتے تو کہاں ہوتا
کہ یہ جو لطفِ شعر گوئی ہے
مار ہے تیرے ایک پرتو کی
یہ جو چھائی ہوئی اداسی ہے
آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 12:29 شام
الف عین
آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 12:31 شام
محمد عبدالرؤوف
شکیل احمد خان23 — جولائی 14، 2023 12:38 شام
سو نہیں کی دوائے درد دل
ایک ہی تو تری نشانی ہے
یوں نہیں کی دوائے دردِ دل
کہ یہی اک تری نشانی ہے
محمد عبدالرؤوف — جولائی 14، 2023 3:38 شام
عمران بھائی، پہلے تو آپ قوافی درست کریں۔
آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 4:09 شام
عمران بھائی، پہلے تو آپ قوافی درست کریں۔
آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 4:11 شام
میرے علم کے مطابق تو درست ہیں۔
آپ ذرا وضاحت فرما دیں کہاں مسئلہ ہے؟
بہت شکریہ
محمد عبدالرؤوف — جولائی 14، 2023 4:16 شام
میرے علم کے مطابق تو درست ہیں۔
آپ ذرا وضاحت فرما دیں کہاں مسئلہ ہے؟
بہت شکریہ
باقی، پھینکی مطلع کے قوافی کے بعد "کی/قی" ہی قافیے آنے چاہئیں یا پھر مطلع میں کوئی ایک قافیہ بدل دیں۔
آئی کے عمران — جولائی 14، 2023 4:25 شام
باقی، پھینکی مطلع کے قوافی کے بعد "کی/قی" ہی قافیے آنے چاہئیں یا پھر مطلع میں کوئی ایک قافیہ بدل دیں۔
بہت شکریہ
باقی میں حرف اصل ی ہے
تو میں نے ی کو ہی حرف روی لیا ہے
کیا ایسے درست نہیں ہے؟
آئی کے عمران — جولائی 15، 2023 10:40 صبح
باقی، پھینکی مطلع کے قوافی کے بعد "کی/قی" ہی قافیے آنے چاہئیں یا پھر مطلع میں کوئی ایک قافیہ بدل دیں۔
میں بدلنے کی بھی کوشش کرتا ہوں۔باقی اشعار پر بھی آپ اپنی رائے دیجیے۔
بہت شکریہ
محمد عبدالرؤوف — جولائی 15، 2023 3:31 شام
استاد صاحب اس غزل کو ذرا دیکھ لیجیے گا۔
الف عین — جولائی 15، 2023 3:44 شام
قوافی میں کوئی پرابلم نہیں، قی اور کی ایک ہی حرف والے قوافی نہیں، ق اور ک بالکل علیحدہ علیحدہ حروف ہیں بلکہ صوتی قوافی بھی نہیں بن سکتے، س، ص یا ز، ذ کی طرح۔ اس لئے ایطا کا کسی کو شک ہونا اس معترض کی زبان دانی پر ہی سوال اٹھا سکتا ہے!
کوئی خواہش نہ حرص باقی ہے
دل سے دنیا نکال پھینکی ہے
درست
لطف آئے نہ اب کسی شے میں
بے دلی سے یہ زیست کرنی ہے
اب کسی شے میں لطف آ ہی نہ پائے
محض لطف آئے سے زیادہ معنی خیز لگ رہا ہے، اگرچہ روانی میں کمی ہو جاتی ہے
سچ کہوں تو بڑے سکوں سے ہوں
جب سے دل حسرتوں سے خالی ہے
ویسے درست ہی ہے، لیکن تو کا طویل کھنچنا اچھا نہیں لگتا، اگر یوں ہو تو
سچ کہوں؟ تب سے کیا سکون سے ہوں
جانے کتنے دکھوں کا درماں ہے
کہ یہ جو مرگِ نا گہانی ہے
تقابل ردیفین یعنی دونوں مصرعوں کا "ہے" پر ختم ہونا، پہلا مصرع پھر کہو
یہ جو اک مرگ... بہتر رہے گا؟
سو نہیں کی دوائے درد دل
ایک ہی تو تری نشانی ہے
تو تری میں تنافر ہے، شکیل کی اصلاح قبول کر لو
پاس تم ہوتے تو کہاں ہوتا
کہ یہ جو لطفِ شعر گوئی ہے
مار ہے تیرے ایک پرتو کی
یہ جو چھائی ہوئی اداسی ہے
دونوں درست
آئی کے عمران — جولائی 15، 2023 5:43 شام
قوافی میں کوئی پرابلم نہیں، قی اور کی ایک ہی حرف والے قوافی نہیں، ق اور ک بالکل علیحدہ علیحدہ حروف ہیں بلکہ صوتی قوافی بھی نہیں بن سکتے، س، ص یا ز، ذ کی طرح۔ اس لئے ایطا کا کسی کو شک ہونا اس معترض کی زبان دانی پر ہی سوال اٹھا سکتا ہے!
درست
اب کسی شے میں لطف آ ہی نہ پائے
محض لطف آئے سے زیادہ معنی خیز لگ رہا ہے، اگرچہ روانی میں کمی ہو جاتی ہے
ویسے درست ہی ہے، لیکن تو کا طویل کھنچنا اچھا نہیں لگتا، اگر یوں ہو تو
سچ کہوں؟ تب سے کیا سکون سے ہوں
تقابل ردیفین یعنی دونوں مصرعوں کا "ہے" پر ختم ہونا، پہلا مصرع پھر کہو
یہ جو اک مرگ... بہتر رہے گا؟
تو تری میں تنافر ہے، شکیل کی اصلاح قبول کر لو
دونوں درست
بہت بہت شکریہ سر
بہت نوازش
آپ کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے پھرسے کہنے کی کوشش کرتا ہوں
تقابل ردیفین تو یوں دور ہو جائے
جانے کتنے دکھو ں کا ہے درماں
یہ جو اک مرگ ناگہانی ہے
باقی بھی بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
جزاک اللہ❤️❤️❤️❤️❤️
الف عین — جولائی 17، 2023 5:18 صبح
اب کسی شے میں لطف آ ہی نہ پائے
محض لطف آئے سے زیادہ معنی خیز لگ رہا ہے، اگرچہ روانی میں کمی ہو جاتی ہے
نہ جانے کیا ترمیم سوچی تھی، کچھ ٹائپو ہو گیا، کچھ آٹو کریکٹ، اب سمجھ میں خود ہی نہیں آ رہا ہے
سرور عالم راز — جولائی 17، 2023 11:04 شام
۔۔۔
سرور عالم راز — جولائی 17، 2023 11:07 شام
۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.119712/