السلام علیکم سر
میری پچھلی نظم پر جب آپ نے رائے دی تھی تو مجھے اچھا لگا تھا بہت کچھ سیکھنے کو ملا تھا۔اس سے پہلے میرا آپ سے تعارف نہیں تھا نہ ہی پہلے کبھی آپ نے میرے کسی کلام پر رائے دی۔
مجھے آپ کی باتیں اچھی لگیں ۔آپ کے علم سے متاثر ہو کر میں نے آپ کو ٹیگ کیا تھا۔آپ نے جب معذرت کر لی رائے دینے سے تو پھر میں نے پسندیدہ کا آئی کون بنایا۔آپ کو مجبور تو نہیں کیا جا سکتا ناں سر۔
میں یہاں اپنا کلام کچھ نئی باتیں سیکھنے کے لیے لگاتا ہوں ۔کلام کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے اور کچھ سیکھ بھی جاتا ہوں۔جہاں غلطی ہو میں ہر گز بحث نہیں کرتا ۔
میں اپنے کہے کو مستند نہیں سمجھتا اسی لیے برائے اصلاح بھیجتا ہوں۔
میرے کلام پر آپ کو بات کرنے کی کھلی اجازت ہے ۔آپ بےلاگ رائے دیں۔بلکہ میں آپ کا ممنون ہوں ۔
جزاک اللہ
سلامت رہیں۔
ہم آشفتہ سروں نے ٹھانی ہے
تند ہوا میں شمع جلانی ہے
== اس پر میں پہلے ہی رائے دے چکا ہوں آپ اتفاق کرتے ہیں تو اسے بدلیں -
راہِ یزید اپنا تو پر ہم نے
رسمِ شبیری دہرانی ہے
== یہاں تعقید لفظی آگئی کہ الفاظ کی نشست و برخاست بات کو گنجلک کیئے دیتی ہیں - آپ کہنا چاہ رہے ہیں تُو چاہے تو یزید کی راہ اپنا لے پر ہم نے تو رسمِ شبیر دہرانی ہے - خیال اچھا ہے مگر پیش کش صحیح نہیں ہے - آپ نے بعد میں جو اسکے متبادل لکھے ہیں وہ اس سے تو بہتر ہیں مگر بات اچھی طرح ان سے بھی نہیں بنتی-
ایسے مرو کہ امر ہو جاؤ تم
خوف اجل کیا ایک دن آنی ہے
== ایک دن آنی ہے ایک نامکلل جملہ ہے آپ کو کہنا ہے خوفِ اجل کیا وہ تو ایک دن آنئ ہے -
اس کو بہتر کریں
ڈر پھولوں میں ہے پھر کیوں مالی کا
کام ہی جب اس کا نگرانی ہے
الف عین صاحب کے کمنٹ سے میں اتفاق کرتا ہوں
اس کو عبث تم کھونا مت یارو
در یتیم یہ دور جوانی ہے
== عمران صاحب یاد رکھیں کہ ہر کلام کا ایک مزاج ہوتا ہے ایک لسانی فضا ہوتی ہے اس میں اس سے ہٹ کر کوئی لفظ لایا جاے تو وہ کلام کی فصاحت کو گھٹاتا ہے بڑھاتا نہیں - در یتیم کی اصطلاح آپ اردو میں استعمال تو ضرور کر سکتے ہیں یہ اردد میں "در" نہیں آئئ ہے - یہاں اس کا استعمال غیر ضروری ہے اور برا لگ ریا ہے - میرے خیال سے آپ کو اسے بدلنا چاہیئے -
تشنہ لبی جھیلی ہے کچھ اتنی
قطرہ ہمیں ساگر کا پانی ہے
== دوسرے مصرعے میں" قطرہ ہمیں" سے ابہام پیدا ہورہا ہے - کہ ہمارے لیے ساگر کا پانی ایک قطرہ ہے یا ایک قطرہ بھی ساگر کا پانی ہے - اس کو دور کریں قطرہ ہمیں کی جگہ" قطرہ بھی ہم کو" جیسا کچھ لائیں - دوسری بات یہ کہ تشنہ لبی کے ساتھ جھیلنا کی اصطلاح میں نے کبھی نہیں پڑھی - اسکی کوئئ مثال ہے تو ضرور پیش کریں میرے علم میں اضافہ ہوگا- ویسے بھی خالص فارسی (تشنہ لبی) کے ساتھ خالص ہندی (جھیلی) نہیں لکھی جاتی -
راہ دکھائی جس نے صحرا کی
ہجرزدہ دل کی ویرانی ہے
== یہاں ایسا لگتا ہے کہ آپ بات الٹی کہہ گئے ہیں - ہجر زدہ دل کی ویرانی نے صحرا کی راہ دکھائی ہے نہ کہ اسکے برعکس - کیونکہ اس شعر کو پڑھنے سے یہی تاثر ابھر تا ہے - آپ کو کہنا ہے ہجر زدہ دل کی ویرانی نے - راہ دکھائ ہے مجھ کو صحرا کی -
طرفہ وصالِ یار ہے اے صاحب
پیاس بڑھاتا اور یہ پانی ہے
== یہ میری بھی سمجھ میں نہ آ سکا-
میرے نزدیک اس غزل میں وزن کے بھی مسائل ہیں- آپ نے وزن کا اندادہ کیسے کیا - کیا آُپ موزوں طبع ہیں ؟
اور آخر میں ،میں ہر نئے لکھنے والے کو مشورہ دیتا ہوں کہ بحر ہندی میں ابھی کلام نہ کہیں - بحر ہندی میں نو آموز کہنے والے کو کبھی موزوں طبعی حاصل نہیں ہوتی - اس میں کہنا ایک بہت مشق کے بعد ہی ممکن ہے -