آئی کے عمران — اکتوبر 9، 2023 10:41 صبح
اگرچہ دل شکستہ بھی نہیں ہے
مگر یہ ہنستا بستا بھی نہیں ہے
اتر جاتے ہیں کیسے لوگ دل میں
بظاہر کوئی رستہ بھی نہیں ہے
تمھیں دعوی بھی ہے دیوانگی کا
تمھارا حال خستہ بھی نہیں ہے
ہمیں محروم رکھا دھوپ سے بھی
وہ بادل جو برستا بھی نہیں ہے
طلب ہے سنگ کی شوریدہ سر کو
کوئی آواز کستا بھی نہیں ہے
برا ہے حال کیوں عمران دل کا
کوئی غم جب گذشتہ بھی نہیں ہے
آئی کے عمران — اکتوبر 9، 2023 10:42 صبح
آئی کے عمران — اکتوبر 9، 2023 10:44 صبح
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 9، 2023 11:05 صبح
مقطع میں آپ قافیہ غلط لائے ہیں
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 9، 2023 11:21 صبح
یہ غزل چار بار فعولن میں اگر تبدیل کر دی جائے تو میرے خیال میں زیادہ رواں ہو جائے گی۔
اگرچہ مرا دل شکستہ نہیں ہے
مگر پھر بھی یہ ہنستا بستا نہیں ہے
اتر جاتے ہیں کس طرح لوگ دل میں
بظاہر تو کوئی بھی رستہ نہیں ہے
تجھے گرچہ دعویٰ ہے دیوانگی کا
مگر حال کیوں تیرا خستہ نہیں ہے
ہمیں دھوپ سے بھی ہے محروم رکھتا
وہ بادل ہے ایسا، برستا نہیں ہے
پڑیں سنگ کیا میرے شوریدہ سر پر
اب آواز بھی کوئی کستا نہیں ہے
آئی کے عمران — اکتوبر 10، 2023 2:27 صبح
مقطع میں آپ قافیہ غلط لائے ہیں
جی! سوچا تھا شاید چل جائے ( س،ش ) کی وجہ سے
مطلع میں ہنستا بستا کا استعمال درست ہے؟
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 10، 2023 4:21 صبح
مطلع میں ہنستا بستا کا استعمال درست ہے؟
میرے خیال میں تو درست ہے
آئی کے عمران — اکتوبر 10، 2023 1:15 شام
الف عین — اکتوبر 11، 2023 9:36 صبح
مقطع کا ہی قافیہ غلط ہے، باقی غزل میں کوئی سقم نظر نہیں آ رہا
آئی کے عمران — اکتوبر 12، 2023 9:58 صبح
مقطع کا ہی قافیہ غلط ہے، باقی غزل میں کوئی سقم نظر نہیں آ رہا
بہت بہت شکریہ
جزاک اللہ