برائے اصلاح

آئی کے عمران — دسمبر 11، 2024 3:20 شام
*ہمت*
دھرتی کا چیر کے سینہ نکلا ہے
اپنی ہمت سے دانہ نکلا ہے
ہمت کے آگے پہاڑ بھی رائی ہے
ہمت نے جوئے شیر بہائی ہے
ہمت ڈالے مردہ جسموں میں جان
ہمت کر دے ہر مشکل کو آسان
ہمت سے چوڑا ہوتا ہے سینہ
ہمت سے آئے ،عزت سے جینا
ہمت سے صحرا بن جائے گلزار
ہمت سے آئے بیابانوں میں بہار
ہر چوٹ سکھاتی ہے ہمت کا سبق
اٹھ بھاگ تمھارا ہے ہر جیت پہ حق
کچھ لطف نہ جینے میں ہو گا باقی
عمران اگر تم نے ہمت ہاری
آئی کے عمران — دسمبر 11، 2024 3:20 شام
محترمی!
الف عین
الف نظامی
الف عین — دسمبر 12، 2024 5:27 صبح
تقطیع کر کےدیکھیں، کہیں کہیں کوئی رکن کم یازیادہ ہے جیسے
ہمت نے ہی جوئے شیر....
پہلا شعر، سینہ اور دانہ قوافی غلط ہیں
چیر کے سینہ دھرتی کا نکلا ہے
آئی کے عمران — دسمبر 12، 2024 6:11 صبح
تقطیع کر کےدیکھیں، کہیں کہیں کوئی رکن کم یازیادہ ہے جیسے
ہمت نے ہی جوئے شیر....
پہلا شعر، سینہ اور دانہ قوافی غلط ہیں
چیر کے سینہ دھرتی کا نکلا ہے
بہت شکریہ سر
جی! تقطیع تو کر کے دیکھی ہے۔
محمد شکیل خورشید — دسمبر 13، 2024 12:01 شام
الف عین
استادِ محترم! جوئے شیر بہانا کیا درست محاورہ ہے؟ کیونکہ عموما جوئے شیر لانا مستعمل ہے۔ اپنی کم علمی کے باعث پوچھ رہا ہوں
الف عین — دسمبر 14، 2024 4:13 صبح
الف عین
استادِ محترم! جوئے شیر بہانا کیا درست محاورہ ہے؟ کیونکہ عموما جوئے شیر لانا مستعمل ہے۔ اپنی کم علمی کے باعث پوچھ رہا ہوں
درست لانا ہی ہے یقیناً۔
الف عین — دسمبر 14، 2024 5:37 صبح
*ہمت*
دھرتی کا چیر کے سینہ نکلا ہے
اپنی ہمت سے دانہ نکلا ہے
چیر کے سینہ دھرتی کا نکلا ہے
چیر ک فعلن
سینہ فعلن
دھرتی فعلن
کا نک فعلن
لا ہے فعلن
اپنی فعلن
ہمت فعلن
سے دا فعلن
نہ نک فعلن
لا ہے فعلن
بحر 5 بار فعلن کی ہے، کہیں فَ عِ لن بھی آ سکتا ہے، اور فعلان/مفعول بھی آخر میں
4 فعلن کی جگہ مفعول مفاعیلن فعلن بھی درست ہے
اب اس سے تقطیع کر کے دیکھو جہاں درست نہیں
ہمت کے آگے پہاڑ بھی رائی ہے
ہمت نے جوئے شیر بہائی ہے
ہمت فعلن
نے ہی فعلن
جوئے فعلن
شیر ب فعلن
ہائی ہے فعلن
"ہی" کے اضافے سے درست تقطیع ہوتی ہے، یہ مصرع یوں بہتر ہے کہ محاورہ درست ہو جائے
ہمت جوئے شیر نکال کے لایی ہے
ہمت ڈالے مردہ جسموں میں جان
ہمت کر دے ہر مشکل کو آسان
درست
ہمت سے چوڑا ہوتا ہے سینہ
ہمت سے آئے ،عزت سے جینا
ہمت سے صحرا بن جائے گلزار
ہمت سے آئے بیابانوں میں بہار
ہر چوٹ سکھاتی ہے ہمت کا سبق
اٹھ بھاگ تمھارا ہے ہر جیت پہ حق
کچھ لطف نہ جینے میں ہو گا باقی
عمران اگر تم نے ہمت ہاری
یہ درست تقطیع ہو رہے ہیں
نظم میں اور وہ بھی بچوں کی نظم میں تخلص کی ضرورت نہیں
آئی کے عمران — دسمبر 23، 2024 12:53 شام
چیر کے سینہ دھرتی کا نکلا ہے
چیر ک فعلن
سینہ فعلن
دھرتی فعلن
کا نک فعلن
لا ہے فعلن
اپنی فعلن
ہمت فعلن
سے دا فعلن
نہ نک فعلن
لا ہے فعلن
بحر 5 بار فعلن کی ہے، کہیں فَ عِ لن بھی آ سکتا ہے، اور فعلان/مفعول بھی آخر میں
4 فعلن کی جگہ مفعول مفاعیلن فعلن بھی درست ہے
اب اس سے تقطیع کر کے دیکھو جہاں درست نہیں
ہمت کے آگے پہاڑ بھی رائی ہے
ہمت فعلن
نے ہی فعلن
جوئے فعلن
شیر ب فعلن
ہائی ہے فعلن
"ہی" کے اضافے سے درست تقطیع ہوتی ہے، یہ مصرع یوں بہتر ہے کہ محاورہ درست ہو جائے
ہمت جوئے شیر نکال کے لایی ہے
درست
یہ درست تقطیع ہو رہے ہیں
نظم میں اور وہ بھی بچوں کی نظم میں تخلص کی ضرورت نہیں
بہت بہت شکریہ سر
بہت نوازش
جزاک اللہ
تخلص نکال کہ یوں کر دیتا ہوں
کچھ لطف نہ ہو گا جینے میں باقی
اگر اے بچوتم نے ہمت ہاری
سلامت رہیں
خوش رہیں
❤️❤️❤️
الف عین — دسمبر 24، 2024 6:59 صبح
بہت بہت شکریہ سر
بہت نوازش
جزاک اللہ
تخلص نکال کہ یوں کر دیتا ہوں
کچھ لطف نہ ہو گا جینے میں باقی
اگر اے بچوتم نے ہمت ہاری
سلامت رہیں
خوش رہیں
❤️❤️❤️
درست ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.121195/