آئی کے عمران — فروری 20، 2025 2:10 شام
برسات ہوئی کائنات خوش ہے
مٹی مہک اٹھی نبات خوش ہے
مرغانِ چمن گیت گا رہے ہیں
ہے رقص میں شاخ اور پات خوش ہے
ماحول ہوا خوشگوار ایسا
کھل اٹھا ہے دن اور رات خوش ہے
ابر کرم ایسے برس رہا ہے
ہم خوش ہیں کہ ہم سے وہ ذات خوش ہے
ممکن نہیں ہے زیست آب کے بن
عمران! سو ہر ذی حیات خوش ہے
( مفعول مفاعیل فاعلاتن)
آئی کے عمران — فروری 20، 2025 2:12 شام
الف عین — فروری 21، 2025 4:59 صبح
یہ بحر مستعمل نہیں، مفعول مفاعلن فعولن نزدیک ترین مستعمل بحر کے ارکان ہیں، اس میں ڈھال کر کوشش کرنا بہتر ہے
نبات اردو میں واحد مستعمل نہیں، جمع نباتات ہی اردو میں بطور اصطلاح مستعمل ہے
آئی کے عمران — فروری 21، 2025 5:10 صبح
یہ بحر مستعمل نہیں، مفعول مفاعلن فعولن نزدیک ترین مستعمل بحر کے ارکان ہیں، اس میں ڈھال کر کوشش کرنا بہتر ہے
نبات اردو میں واحد مستعمل نہیں، جمع نباتات ہی اردو میں بطور اصطلاح مستعمل ہے
بہت شکریہ سر
بہت نوازش
جزاک اللہ
ضیاء حیدری — فروری 25، 2025 6:38 شام
برائے اصلاح
لب تیرے گلابوں کی نُزاکت میں سنور جائیں
پر ہجر میں یہ زخم کی صورت میں اُبھر جائیں
آنکھیں تری جادو ہیں کہ روشن ہیں ستارے
پر دیکھ کے ان کو ہی کئی خواب بکھر جائیں
زلفوں کی گھٹا چھاؤں گھنی رات کی مانند
پر ہجر میں یہ درد کی آندھی میں بِکھر جائیں
باتیں تری شیریں ہیں کہ شہداب کی صورت
پر ہجر میں یہ زہر کے سانچے میں اُتر جائیں
تو چاند سا روشن ہے، ضیا تیری مثالیں
پر دوری میں آنکھوں سے کئی اشک گزر جائیں
الف عین — فروری 26، 2025 9:22 صبح
اب ماشاء اللہ بحر و عروض کی پابندی نظر آئی ہے
ضیاء حیدری کی شاعری میں! ویسے ایک الگ پوسٹ کی صورت میں پوسٹ کرنا چاہئے تھا نہ کہ
آئی کے عمران کی نظم کے سلسلے میں
برائے اصلاح
لب تیرے گلابوں کی نُزاکت میں سنور جائیں
پر ہجر میں یہ زخم کی صورت میں اُبھر جائیں
لبوں کا نزاکت میں سنورنا سمجھ میں نہیں آتا اور نہ ہی لبوں کا زخموں کی شکل اختیار کر لینا
پر بمعنی مگر. لیکن بھی فصاحت سے دورہے
آنکھیں تری جادو ہیں کہ روشن ہیں ستارے
پر دیکھ کے ان کو ہی کئی خواب بکھر جائیں
جادو ہیں کہ شعلہ ہیں؟ جنہیں دیکھ کر ہاتھ پاؤں پھول جائیں
زلفوں کی گھٹا چھاؤں گھنی رات کی مانند
پر ہجر میں یہ درد کی آندھی میں بِکھر جائیں
چھاؤں بے معنی لگ رہا ہے.... جیسے گھنی رات کی مانند
پر وہی بجائے لیکن
باتیں تری شیریں ہیں کہ شہداب کی صورت
پر ہجر میں یہ زہر کے سانچے میں اُتر جائیں
تو چاند سا روشن ہے، ضیا تیری مثالیں
پر دوری میں آنکھوں سے کئی اشک گزر جائیں
یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا
ضیاء حیدری — اپریل 2، 2025 11:23 شام
خار کیوں راہ میں بچھ گئے، بس یونہی
پھول تھے، آگ میں جل گئے، بس یونہی
چاند نکلا تو بادل میں گم ہو گیا
بجلیاں رات کو کڑک گئیں، بس یونہی
جو سفینہ تھا ساحل پہ لُٹنے لگا
ایک طوفان آنکھیں دکھا گیا، بس یونہی
آئینہ تھا مگر عکس الجھا ہوا
رنگ چہرے کے سب مٹ گئے، بس یونہی
در پہ آیا تھا کوئی، صدا دے گیا
میں نے در کھول کر دیکھنا چھوڑ دیا، بس یونہی
بات لب پر جو رکتی، بکھرنے لگی
لفظ کانٹوں کی صورت چبھے، بس یونہی
زندگی خواب تھی، جاگنا جب ہوا
روشنی تھی، مگر بجھ گئی، بس یونہہی
الف عین — اپریل 3، 2025 8:36 صبح
خار کیوں راہ میں بچھ گئے، بس یونہی
پھول تھے، آگ میں جل گئے، بس یونہی
چاند نکلا تو بادل میں گم ہو گیا
بجلیاں رات کو کڑک گئیں، بس یونہی
جو سفینہ تھا ساحل پہ لُٹنے لگا
ایک طوفان آنکھیں دکھا گیا، بس یونہی
آئینہ تھا مگر عکس الجھا ہوا
رنگ چہرے کے سب مٹ گئے، بس یونہی
در پہ آیا تھا کوئی، صدا دے گیا
میں نے در کھول کر دیکھنا چھوڑ دیا، بس یونہی
بات لب پر جو رکتی، بکھرنے لگی
لفظ کانٹوں کی صورت چبھے، بس یونہی
زندگی خواب تھی، جاگنا جب ہوا
روشنی تھی، مگر بجھ گئی، بس یونہہی
اس غزل میں دوسرے مصرعے تقریباً سارے بحر میں ہیں لیکن اولی مصرعے نہیں ۔ دیکھا جائے تو یہ غزل بھی نہیں کہ ردیف تو موجود ہے، قوافی نہیں
یاسر شاہ — اپریل 5، 2025 4:36 صبح
خار کیوں راہ میں بچھ گئے، بس یونہی
پھول تھے، آگ میں جل گئے، بس یونہی
چاند نکلا تو بادل میں گم ہو گیا
بجلیاں رات کو کڑک گئیں، بس یونہی
جو سفینہ تھا ساحل پہ لُٹنے لگا
ایک طوفان آنکھیں دکھا گیا، بس یونہی
آئینہ تھا مگر عکس الجھا ہوا
رنگ چہرے کے سب مٹ گئے، بس یونہی
در پہ آیا تھا کوئی، صدا دے گیا
میں نے در کھول کر دیکھنا چھوڑ دیا، بس یونہی
بات لب پر جو رکتی، بکھرنے لگی
لفظ کانٹوں کی صورت چبھے، بس یونہی
زندگی خواب تھی، جاگنا جب ہوا
روشنی تھی، مگر بجھ گئی، بس یونہہی
اسے الگ لڑی میں پیش کریں تاکہ مفصّل بات کی جا سکے ۔